نیوزی لینڈ نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ اندور کے ہولکر اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن مقابلے میں ۴۱؍ رنز سے فتح حاصل کر کے نیوزی لینڈ نے نہ صرف یہ سیریز ۱۔۲؍ سے جیت لی بلکہ ہندوستان میں پہلی بار ون ڈے سیریز بھی اپنے نام کر لی۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 11:28 PM IST | Indore
نیوزی لینڈ نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ اندور کے ہولکر اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن مقابلے میں ۴۱؍ رنز سے فتح حاصل کر کے نیوزی لینڈ نے نہ صرف یہ سیریز ۱۔۲؍ سے جیت لی بلکہ ہندوستان میں پہلی بار ون ڈے سیریز بھی اپنے نام کر لی۔
نیوزی لینڈ نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ اندور کے ہولکر اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے اور فیصلہ کن مقابلے میں ۴۱؍ رنز سے فتح حاصل کر کے نیوزی لینڈ نے نہ صرف یہ سیریز ۱۔۲؍ سے جیت لی بلکہ ہندوستان میں پہلی بار ون ڈے سیریز بھی اپنے نام کر لی۔ مائیکل بریسویل کی قیادت میں کیوی ٹیم نے یہ کامیابی کین ولیمسن، میٹ ہنری اور مچل سینٹنر جیسے بڑے کھلاڑیوں کی غیر موجودگی کے باوجود حاصل کی۔
۳۳۸؍رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری ہندوستانی ٹیم کی شروعات خراب رہی۔ روہت شرما ۱۱؍رن اور شبھ من گل ۲۳؍ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ وراٹ کوہلی نے ۱۰۸؍ گیندوں پر ۳؍ چھکوں اور۱۰؍ چوکوں کی مدد سے۱۲۴؍ رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔
کوہلی کے ون ڈے کریئر کی یہ ۵۴؍ویں سنچری ۹۱؍ویں گیند پر مکمل ہوئی۔ کوہلی نے نتیش کمار ریڈی (۵۳) کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے ۸۸ ؍رنز اور ہرشیت رانا (۵۲؍رن) کے ساتھ ساتویں وکٹ کے لیے ۹۹؍ رنز کی اہم شراکت داری کی۔ ان دونوں شراکت داریوں نے ہندوستان کو فتح کی امید دلائی، جو وراٹ کے ۹؍ویں وکٹ کے طور پر آؤٹ ہوتے ہی ختم ہو گئی۔ ہندوستانی ٹیم ۴۶؍ اوورز میں ۲۹۶؍ رنز پر ڈھیر ہو گئی اور ۴۱؍ رنز سے میچ ہار گئی۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے زکری فالکس اور کرسٹن کلارک نے ۳۔۳؍ وکٹ حاصل کئے جبکہ جائیڈن لینکس نے ۲؍ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ کائل جیمیسن کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔ ڈیرل مچل کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
BELIEVE! 🇮🇳#TeamIndia #INDvNZ #3rdODI @IDFCfirstbank pic.twitter.com/iDhHO2Bg7z
— BCCI (@BCCI) January 18, 2026
نیوزی لینڈ نے ہندوستان کے خلاف تیسرے اور آخری ایک روزہ میچ میں ڈیرل مچل اور گلین فلپس کی شاندار سنچریوں کی بدولت مقررہ۵۰؍ اوورز میں ۸؍ وکٹوں کے نقصان پر ۳۳۷؍ رنز کا بڑا اسکور کھڑا کر دیا ہے۔ کیوی بلے بازوں نے ہندوستانی بولرس کے خلاف جارحانہ کھیل پیش کر کے سیریز کے اختتام پر اپنی ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا ہے۔
ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو آغاز میں درست ثابت ہوا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم محض ۵؍ رنز کے مجموعی اسکور پر اپنے دونوں اوپنرز، ہنری نکولس ( صفر) اور ڈیون کونوے (۵؍رن) سے محروم ہو گئی۔ اس کے بعد ول ینگ (۳۰؍رن) نے مچل کے ساتھ مل کر ٹیم کو سنبھالا، لیکن۱۳؍ویں اوور میں وہ بھی پویلین لوٹ گئے۔ ۵۸؍رنز پر تین وکٹیں گرنے کے بعد ڈیرل مچل اور گلین فلپس نےہندوستانی بولرس کے خلاف محاذ سنبھال لیا۔
New Zealand register a 41-run victory in the decider and win the series 2-1
— BCCI (@BCCI) January 18, 2026
Scorecard ▶️ https://t.co/KR2ertVUf5#TeamIndia | #INDvNZ | @IDFCFIRSTBank pic.twitter.com/JuuARZ4y53
ڈیرل مچل نے اپنا شاندار فارم جاری رکھتے ہوئے ۱۳۱؍ گیندوں پر ۱۳۷؍ رنز بنائے جس میں (۱۵ چوکے،۳؍ چھکے) شامل تھے۔مچل کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے فلپس نے ۸۸؍ گیندوں پر۱۰۶؍ رنز کی طوفانی اننگز کھیلی ( ۹؍ چوکے، ۳؍چھکے)۔ دونوں کے درمیان چوتھے وکٹ کے لیے۲۱۹؍ رنز کی رفاقت قائم ہوئی، جو ہندوستان کے خلاف کسی بھی وکٹ کے لیے نیوزی لینڈ کی دوسری سب سے بڑی شراکت داری ہے۔ایک موقع پر نیوزی لینڈ کا اسکور۳۵۰؍ رن سے تجاوز کرتا دکھائی دے رہا تھا، لیکن ہندوستانی بولرس نے آخری اوورس میں عمدہ واپسی کی۔
یہ بھی پڑھئے:روہت شرما نے ناکام رہنے کے باوجود اندور ون ڈے میں خاص ریکارڈبنایا
عرشدیپ سنگھ نے ۴۴؍ویں اوور میں فلپس کو آؤٹ کر کے اس خطرناک شراکت کا خاتمہ کیا۔ اگلے ہی اوور میں محمد سراج نے سنچری میکر ڈیرل مچل کو چلتا کیا۔ عرشدیپ سنگھ اور ہرشیت رانا نے ۳۔۳؍ وکٹ حاصل کئے جبکہ محمد سراج اور کلدیپ یادو کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔ہندوستان کو سیریز کلین سویپ کرنے یا اختتام اچھے نوٹ پر کرنے کے لیے اب۳۳۸؍ رنز کا مشکل ہدف حاصل کرنا ہوگا۔