ہندوستان کے بائیں ہاتھ کے چائنا مین اسپنر کلدیپ یادو نے کہا ہے کہ آئی پی ایل سے براہِ راست سرخ گیند کی کرکٹ میں واپسی آسان نہیں ہوتی۔
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 8:03 PM IST | New Chandigarh
ہندوستان کے بائیں ہاتھ کے چائنا مین اسپنر کلدیپ یادو نے کہا ہے کہ آئی پی ایل سے براہِ راست سرخ گیند کی کرکٹ میں واپسی آسان نہیں ہوتی۔
ہندوستان کے بائیں ہاتھ کے چائنا مین اسپنر کلدیپ یادو نے کہا ہے کہ آئی پی ایل سے براہِ راست سرخ گیند کی کرکٹ میں واپسی آسان نہیں ہوتی، تاہم انہیں یقین ہے کہ افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ کے لیے تمام کھلاڑی اچھی تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کلدیپ نے کہا کہ آئی پی ایل کرکٹ سے ٹیسٹ کرکٹ میں منتقلی واقعی مشکل ہوتی ہے۔ اس کے لیے مناسب تیاری بہت ضروری ہوتی ہے۔کلدیپ کے لیے آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کا سیزن زیادہ متاثر کن نہیں رہا۔ انہوں نے ۱۲؍ میچوں میں ۱۰ء۳۸؍ کی اوسط اور۲۹ء۱۰؍ کے اکانومی ریٹ سے صرف ۱۰؍ وکٹ حاصل کئے جبکہ ان کی ٹیم دہلی کیپیٹلز پلے آف مرحلے تک رسائی نہ کر سکی۔ اس صورتحال نے انہیں سرخ گیند سے تیاری کے لیے اضافی وقت فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’ڈان ۳‘‘ تنازع: FWICE کا کنگنا اور رام گوپال ورما پر جوابی وار
انہوں نے کہاکہ خوش قسمتی سے مجھے وقت ملا۔ میں نے تقریباً ۱۰؍ سے ۱۵؍ دن تک مسلسل پریکٹس کی اور سرخ گیند کے ساتھ دوبارہ فارم حاصل کیا۔کلدیپ کے مطابق ٹی۲۰؍ اور ٹیسٹ کرکٹ کی ذہنی تیاری میں واضح فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی۲۰؍ کرکٹ میں آپ ہمیشہ حملہ آور انداز میں سوچتے ہیں اور بلے باز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کا پورا ذہن اسی حکمت عملی پر مرکوز رہتا ہے۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں صورتحال مختلف ہوتی ہے کیونکہ بلے باز کے پاس کافی وقت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسکاٹ لینڈ کی خواتین ٹیم نے نیدرلینڈز کو ۲۴؍ رن سے شکست دے دی
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ کھلاڑی براہِ راست آئی پی ایل فائنل کھیلنے کے بعد ٹیسٹ اسکواڈ سے جڑیں گے، جس کے باعث انہیں زیادہ وقت نہیں مل سکے گا، تاہم وہ پُرامید ہیں کہ تمام کھلاڑی اپنی تیاری مکمل کر چکے ہوں گے۔ کلدیپ نے کہاکہ ’’یہ یقیناً ایک چیلنج ہے، لیکن مجھے اعتماد ہے کہ ہر کھلاڑی خود کو اچھی طرح تیار کر رہا ہے۔ دوسری جانب روی چندرن اشون کی ریٹائرمنٹ، رویندر جڈیجا کو آرام دیے جانے اور اکشر پٹیل کی عدم شمولیت کے باعث ہندوستان اس بار نسبتاً نوجوان اور کم تجربہ کار اسپن اٹیک کے ساتھ میدان میں اترے گا۔بائیں ہاتھ کے اسپنرز ہرش دوبے اور مانو سوتھر کو پہلی مرتبہ قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ کلدیپ یادو اور آف اسپنر واشنگٹن سندر اب تک صرف ۱۷۔۱۷؍ ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔