• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیوس ہیملٹن کا فلسطین کی آزادی کے حق میں دوٹوک مؤقف

Updated: October 23, 2026, 8:05 PM IST | New York

فارمولا ون کے سات مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والے برطانوی ڈرائیور لیوس ہیملٹن نے فلسطین کے عوام کی آزادی اور دنیا بھر میں امن کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

Lewis Hamilton.Photo:X
لیوس ہیملٹن۔ تصویر:ایکس

فارمولا ون کے سات مرتبہ عالمی چیمپئن بننے والے برطانوی ڈرائیور لیوس ہیملٹن نے فلسطین کے عوام کی آزادی اور دنیا بھر میں امن کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ امریکہ کے گراں پری مقابلے سے قبل آسٹن، ٹیکساس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیملٹن نے کہا کہ فلسطین، کانگو، سوڈان اور شام کے عوام کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان کے اس بیان نے ایک بار پھر کھیلوں کی دنیا میں انسانی حقوق، عالمی تنازعات اور معروف کھلاڑیوں کی سماجی ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو نمایاں کردیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:بین اسٹوکس نے ایشیز میں واپسی کی خبروں کو گمراہ کن قرار دے دیا

۲۲؍ اکتوبر کو امریکی گراں پری سے قبل ہونے والی گفتگو میں ہیملٹن نے افریقہ کی تاریخ، نوآبادیاتی دور کے اثرات اور فارمولا ون میں افریقی براعظم کی واپسی کے موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کانگو، سوڈان، شام اور فلسطین کی آزادی کے لیے کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کا خاتمہ ہوگا اور امن کو فروغ ملے گا۔ 
ہیملٹن کے بیان کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ وہ دنیا کے معروف ترین موٹر ریسنگ کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی آواز لاکھوں شائقین تک پہنچتی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی فلسطینی عوام کی مشکلات اور غزہ میں انسانی بحران کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔ لیوس ہیملٹن فلسطینی عوام کی حمایت میں اس سے قبل بھی کئی مرتبہ اظہارِ خیال کرچکے ہیں۔ ستمبر  ۲۰۲۵ء میں انہوں نے غزہ کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ فلسطینی عوام کی مشکلات پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ فلسطینیوں کی مدد کرنے والی تین تنظیموں، فلسطینی ہلالِ احمر، ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور سیو دی چلڈرن یو کے، کو عطیات دے چکے ہیں اور دوسروں کو بھی انسانی امداد میں حصہ لینے کی ترغیب دی تھی۔ مئی ۲۰۲۴ء میں بھی ہیملٹن نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی بچوں کی مشکلات کو اجاگر کیا تھا۔ اسی سال رمضان کے دوران انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے محبت اور حمایت کا اظہار کیا اور مستقل جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔ ان کے تازہ بیان کو اسی مسلسل مؤقف کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ امریکی گراں پری سے قبل ہونے والی پریس کانفرنس میں ہیملٹن نے صرف فلسطین ہی نہیں بلکہ افریقی براعظم کی تاریخ اور وہاں فارمولا ون مقابلوں کی واپسی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی برس سے افریقہ میں گراں پری منعقد کرنے کی حمایت کرتے آرہے ہیں اور اس مقصد کے لیے مختلف متعلقہ شخصیات سے رابطے بھی کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:چین میں دھوم مچانے کو تیار مارول کی فلم ’’ایونجرز: ڈومز ڈے‘‘

فارمولا ون کے افریقی براعظم میں دوبارہ مقابلے منعقد کرنے کے منصوبے کے تحت روانڈا میں ۲۰۳۰ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں گراں پری کی میزبانی متوقع ہے۔ ہیملٹن نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کے مختلف ممالک کی ثقافت، تاریخ اور صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا موقع ملنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی ملک میں کھیلوں کا مقابلہ منعقد کرنے کا مطلب وہاں موجود مسائل اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات کو نظرانداز کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ 
لیوس ہیملٹن کا تازہ بیان اس بات کی مثال ہے کہ بعض عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کھیلوں کے ساتھ ساتھ انسانی مسائل پر بھی اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات کو سمجھنے، تاریخ سے واقفیت حاصل کرنے اور امن کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔امریکی گراں پری کے اختتامِ ہفتہ کے دوران ہیملٹن کی توجہ ایک طرف فراری ٹیم کے ساتھ بہتر کارکردگی دکھانے پر ہوگی، جبکہ دوسری جانب فلسطین سمیت مختلف خطوں کے عوام کے لیے آزادی اور امن سے متعلق ان کا پیغام بھی خبروں میں نمایاں ہے۔ ان کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ عالمی کھیلوں سے وابستہ معروف شخصیات اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے انسانی بحرانوں کی جانب عوام کی توجہ کس طرح مبذول کراسکتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK