Updated: October 29, 2026, 4:32 PM IST
| Mumbai
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) نے کھیل کے میدان کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا میں بھی اپنی مضبوط حیثیت قائم کرلی ہے۔ کھیلوں کی مالیاتی تحقیق کرنے والے ادارے اسپورٹیکو (Sportico) کی ۲۰۲۶ءکی درجہ بندی کے مطابق، ممبئی انڈینز ۱ء۲؍ ارب امریکی ڈالر کی مالیت کے ساتھ آئی پی ایل کی سب سے قیمتی ٹیم بن گئی ہے۔
شاہ رخ اور وراٹ کوہلی۔ تصویر:آئی این این
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) نے کھیل کے میدان کے ساتھ ساتھ کاروباری دنیا میں بھی اپنی مضبوط حیثیت قائم کرلی ہے۔ کھیلوں کی مالیاتی تحقیق کرنے والے ادارے اسپورٹیکو (Sportico) کی ۲۰۲۶ءکی درجہ بندی کے مطابق، ممبئی انڈینز ۱ء۲؍ ارب امریکی ڈالر کی مالیت کے ساتھ آئی پی ایل کی سب سے قیمتی ٹیم بن گئی ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کی ملکیت والی اس ٹیم نے دیگر تمام فرنچائزز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دوسری جانب، وراٹ کوہلی کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلورو(آر سی بی )بھی ۸۵ء۱؍ ارب ڈالر کی مالیت کے ساتھ دوسرے مقام پر پہنچ گئی ہے، جس کی مالیت بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کی کولکاتا نائٹ رائیڈرز(کے کے آر) سے زیادہ ہے۔
یہ اسپورٹیکو کی ۲۰۲۶ء کی تخمینی کاروباری مالیت ہے، نہ کہ ٹیموں کی صرف برانڈ ویلیو یا ان کی سالانہ آمدنی۔
ممبئی انڈینز نے ۲۰۰۸ء میں آئی پی ایل کے آغاز کے وقت تقریباً ۱۱؍کروڑ ۲۰؍ لاکھ ڈالر میں فرنچائز حاصل کی تھی۔ اب اس کی تخمینی کاروباری مالیت بڑھ کر۱ء۲؍ ارب ڈالر ہوگئی ہے، جو ابتدائی قیمت کے مقابلے میں تقریباً ۱۹؍ گنا زیادہ ہے۔ ٹیم کی پانچ مرتبہ آئی پی ایل چیمپئن بننے کی کامیابی، وسیع شائقین، مضبوط تجارتی شناخت اور بڑے اسپانسرشپ معاہدے اس کی کاروباری حیثیت کو مستحکم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کریتی کھربندا نے سنجیدہ سے مزاحیہ تک مختلف قسم کے رول نبھائے
رائل چیلنجرز بنگلورو کی مالیت۸۵ء۱؍ ارب ڈالر لگائی گئی ہے، جبکہ کولکاتا نائٹ رائیڈرز کی تخمینی مالیت۷۳ء۱؍ ارب ڈالر ہے۔ اس طرح آر سی بی تقریباً ۱۲؍کروڑ ڈالر زیادہ مالیت کے ساتھ کولکاتا سے آگے ہے۔۲۰۲۶ء میں آر سی بی کی فرنچائز تقریباً ۷۸ء۱؍ ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت ایک سرمایہ کار گروپ کو فروخت کی گئی تھی۔ اس گروپ میں آدتیہ برلا گروپ، ٹائمز آف انڈیا گروپ، بولٹ وینچرز اور بلیک اسٹون شامل ہیں۔ اس معاہدے میں مردوں کی آئی پی ایل ٹیم کے ساتھ خواتین کی پریمیئر لیگ کی ٹیم بھی شامل تھی۔ اس کے بعد اسپورٹیکو کی جانب سے آر سی بی کی مالیت۸۵ء۱؍ ارب ڈالر مقرر کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، آئی پی ایل کی تمام ۱۰؍ فرنچائزز کی مجموعی تخمینی مالیت تقریباً ۱۷؍ ارب ڈالر ہے، جبکہ ایک ٹیم کی اوسط مالیت ۷ء۱؍ ارب ڈالر بنتی ہے۔ اس لیگ کی ہر ٹیم کی مالیت کم از کم ۵ء۱؍ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ آئی پی ایل اب صرف کرکٹ کا مقابلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑا تجارتی اور تفریحی کاروبار بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یو سی سی سے متعلق مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کیو آر کوڈ جاری کیا
۲۰۰۸ء میں آئی پی ایل کی ابتدائی آٹھ ٹیمیں مجموعی طور پر تقریباً ۷۲؍ کروڑ ۴۰؍ لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھیں۔ اس وقت ممبئی انڈینز تقریباً۱۱؍ کروڑ ۲۰؍ لاکھ ڈالر کے ساتھ سب سے مہنگی فرنچائز تھی، جبکہ راجستھان رائلز کی ابتدائی قیمت تقریباً ۶؍کروڑ ۷۰؍ لاکھ ڈالر تھی۔ موجودہ مالیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ۱۸؍ برسوں میں اس لیگ کی تجارتی قدر میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ آئی پی ایل کی فرنچائزز کی بڑھتی ہوئی مالیت کے پیچھے آمدنی کا مضبوط نظام اہم کردار ادا کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹیموں کی مجموعی آمدنی کا تقریباً ۷۵؍ فیصد حصہ مرکزی تقسیم سے حاصل ہوتا ہے، جس میں نشریاتی حقوق سے حاصل ہونے والی رقم اہم ہے۔
۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۷ء کے دورانیے کے لیے آئی پی ایل کے ٹیلی ویژن اور ڈجیٹل نشریاتی حقوق کا معاہدہ تقریباً ۲ء۶؍ ارب ڈالر کا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیموں کو اسپانسرشپ، ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے بھی آمدنی ہوتی ہے۔۲۰۲۶ء کے سیزن میں ایک فرنچائز کی اوسط آمدنی تقریباً ۷؍ کروڑ ۴۴؍ لاکھ ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اسپورٹیکو کے مطابق، آئی پی ایل کی آمدنی کے مقابلے میں ٹیموں کی کاروباری مالیت کا تناسب ۹ء۲۲؍ ہے، جو امریکی نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن اور نیشنل فٹ بال لیگ جیسے بڑے کھیلوں کے مقابلوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کی نظر میں آئی پی ایل کی تجارتی کشش اور مستقبل میں آمدنی بڑھنے کے امکانات کا اندازہ ہوتا ہے۔