Updated: May 12, 2026, 12:01 PM IST
|
Agency
| New Delhi
نجیب جنگ نے ایک حالیہ انٹرویو میں ہندوستان میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کو ’’بہت سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ’’دوسرے درجے کے شہری‘‘ بننے کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں۔ معروف صحافی کرن تھاپر سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مسلمان خود کو عوامی زندگی، سیاست اور ریاستی اداروں سے مسلسل دور دھکیلا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر نجیب جنگ نے ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت ’’دوسرے درجے کے شہری‘‘ بننے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ معروف صحافی کرنا تھاپر کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں جنگ نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ ریاستی سطح پر جو سلوک ہو رہا ہے، اس نے انہیں شدید عدم تحفظ اور محرومی کے احساس میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جس طرح سے حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ برتاؤ کیا جا رہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ مسلمان بہت گہری مشکل میں ہیں۔ وہ انحطاط کی طرف بڑھ رہے ہیں اور آج ان کی صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے۔‘‘
نجیب جنگ نے کہا کہ مسلمان خود کو ’’حاشئے پر محسوس‘‘ کررہے ہیں اور انہیں ایسا لگ رہا ہے کہ ہندوستانی سماجی اور سیاسی افق میں ان کے لیے جگہ مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’’تکلیف دہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر سنجیدہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق فی الحال صرف معاشرے کا لبرل طبقہ اس مسئلے پر فکر مند دکھائی دیتا ہے، جبکہ وسیع تر سیاسی اور سماجی حلقوں میں خاموشی پائی جاتی ہے۔ سابق لیفٹیننٹ گورنر نے حالیہ مغربی بنگال اور آسام اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی بالترتیب تقریباً ۲۷؍ فیصد اور ۳۴؍ فیصد ہے، لیکن اس کے باوجود بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار میدان میں نہیں اتارا۔
یہ بھی پڑھئے:سداشیو امراپورکرکرداروں میں جان ڈالنے کا ہنر جانتے تھے
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ مرکزی حکومت میں کوئی مسلم وزیر موجود نہیں، جبکہ حکمراں جماعت کے پاس پارلیمنٹ میں ایک بھی منتخب مسلم رکن نہیں ہے۔ نجیب جنگ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب مسلمان صدر، نائب صدر، مرکزی وزراء، اعلیٰ فوجی افسران اور انٹیلی جنس اداروں میں نمایاں نمائندگی رکھتے تھے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کی کسی بھی ریاست میں کوئی مسلم وزیر اعلیٰ موجود نہیں، کئی ریاستوں میں مسلم وزراء بھی نہیں ہیں جبکہ گورنروں، مرکزی سیکریٹریز اور سپریم کورٹ کے ججوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہایت محدود ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مرنے والےاگنی ویر کے خاندان کو ریگولر فوجیوں جیسی پنشن نہیں مل سکتی: مرکز
نجیب جنگ نے سوال اٹھایا کہ تقریباً ۲۰؍ کروڑ آبادی رکھنے والی مسلم برادری ایسی صورتحال کو کیسے دیکھے گی جہاں ان کے ووٹ حکمران جماعت کے لیے غیر اہم سمجھے جائیں اور عوامی زندگی میں ان کی شرکت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں بھی اکثر مسلمانوں کے مسائل پر کھل کر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے ہندو ووٹر ناراض ہو سکتے ہیں۔ انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ ناقدین نے جنگ کے بیانات کو ملک میں اقلیتوں کی نمائندگی اور سیاسی شمولیت سے متعلق ایک سنجیدہ انتباہ قرار دیا، جبکہ بعض حلقوں نے اسے سیاسی مبالغہ آرائی بھی کہا۔ خیال رہے کہ نجیب جنگ کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق، نمائندگی اور سماجی شمولیت کے موضوعات پہلے ہی شدید عوامی اور سیاسی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔