Updated: August 11, 2026, 11:50 AM IST
|
Agency
| Mumbai
سپریہ سلے کی قیادت میں ۸؍ اراکین پارلیمان نے وزیراعظم سے مل کر حلقہ بندی بل، پیاز کے دام اور ماحولیات کے تعلق سے گفتگو کی۔
سپریہ سلے گزشتہ ۲۵؍ دنوں میں ۵؍ بار مودی سے مل چکی ہے۔ تصویر: آئی این این
حسب اعلان شرد پوار کی قیادت والی این سی پی کے تمام ۸؍ اراکین پارلیمان نے پارٹی کی کار گزار صدر سپریہ سلے کی قیادت میں پیر کے روز دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا تھا جس کی وجہ سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کیا این سی پی (شرد) اب این ڈی اے کا حصہ ہونے جا رہی ہے؟ لیکن ملاقات کے بعد این سی پی یا سپریہ سلے کی جانب سے اس طرح کا کوئی اعلان نہیں ہوا بلکہ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے مختلف ترقیاتی کاموں کے تعلق سے بات کرنے کیلئے یہ میٹنگ بلائی گئی تھی۔
میٹنگ کے بعد سپریہ سلے نے میڈیا کو بتایا کہ مہاراشٹر کے کئی ترقیاتی کام زیر التواء ہیں جن کو نپٹانے کیلئے وزیر اعظم سے ملنا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جنتر منتر معاملے پر اپوزیشن کی جانب سے جاری احتجاج کے سبب پارلیمنٹ میں کام نہیں ہو پا رہا ہے اس لئے ہم نے وزیر اعظم سے براہ راست ملاقات کرنا بہتر سمجھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں خاص طور پر مہاراشٹر کے کسانوں کے مسائل زیر بحث آئے۔ ساتھ ہی پنویل میں بن رہے ایئر پورٹ کو ڈی بی پاٹل سے منسوب کرنے کا مطالبہ بھی میٹنگ میں کیا گیا۔ این سی پی اراکین اسمبلی اس بات سے انکار کیا کہ وہ این ڈی اے میں شامل ہونے یا بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے تعلق سے کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں۔
البتہ یہ ضرور کہا گیا کہ اس میٹنگ میں حلقبہ بندی بل کے تعلق سے گفتگو ہو ئی جو کہ اہم موضوع تھا۔ یاد رہے کہ مودی حکومت کو حلقہ بندی بل کو منظور کروانے کیلئے ۳۶۰؍ اراکین پارلیمان کی حمایت درکار ہے جو اس مل نہیں پا رہے ہیں۔ سپریہ سلے اعلان کر چکی ہیں کہ وہ بعض شرائط کے ساتھ اس بل کی حمایت کیلئے تیار ہیں۔ اسی موضوع پر گفتگو کرنے کیلئے پارٹی کے تمام اراکین پارلیمان کو لےکر سپریہ سلے نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ اطلاع کے مطابق ان اراکین کے پہنچنے پر نریندر مودی نے سب سے پہلے شرد پوار کی طبیعت کے تعلق سے سوال کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ ٹھیک ٹھاک ہیں۔
ممبئی میں پارٹی کے ترجمان مہیش تپاسے نے بتایا کہ حلقہ بندی بل کے علاوہ این سی پی کے وفد نے پیاز کے دام، مہاراشٹر کے قحط زدہ علاقوں اور ماحولیات کے تعلق سے گفتگو کی۔