Inquilab Logo Happiest Places to Work

محمد عامر کے لئے پاکستان کرکٹ کے دروازے بند

Updated: August 30, 2026, 8:05 PM IST | London

محمد عامر نے پاکستان کی قومی ٹیم میں واپسی کی قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ان کا بین الاقوامی کرکٹ کریئر اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ دسمبر ۲۰۲۴ء میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے والے بائیں ہاتھ کے اس تیز گیند باز نے اپنی اہلیہ نرجس خان کے ذریعے برطانوی شہریت اور برطانوی پاسپورٹ حاصل کر لیا ہے۔

Mohammed Amir.Photo:INN
محمد عامر۔ تصویر:آئی این این

عامر نے بتایا کہ ان کے نئے اسٹیٹس کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں کاؤنٹی چیمپئن شپ اور ’’دی ہنڈرڈ‘‘ جیسے ٹورنامنٹس میں مقامی پاکستانی کھلاڑی نہیں سمجھا جائے گا۔ انگلینڈ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں مقامی کھلاڑی کے طور پر رجسٹر ہونے والے کھلاڑیوں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے لیے مقامی کھلاڑی کی حیثیت سے نہیں کھیلیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:دیویندر فرنویس کے دہلی جانےکی خبر محض افواہ ہے یا اس کے آثار نظر آ رہے ہیں

یوٹیوبر فرقان بھٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عامر نے کہا، ”اب میں برطانوی لوکل کھلاڑی ہوں۔ جب آپ کاؤنٹی چیمپئن شپ اور ’’دی ہنڈرڈ‘‘ جیسے ٹورنامنٹس میں مقامی کھلاڑی کے طور پر کھیلتے ہیں تو آپ کو ایک دستاویز پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، جس میں لکھا ہوتا ہے کہ آپ کسی دوسرے ملک کے لیے مقامی کھلاڑی کے طور پر نہیں کھیل سکتے۔ اس لیے پاکستان والا میرا چیپٹر اب بند ہو چکا ہے۔“
عامر نے پاکستان کے لیے ۳۶؍ ٹیسٹ، ۶۱؍ ون ڈے اور ۶۲؍ ٹی۲۰؍ انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ ٹیسٹ میں انہوں نے ۱۱۹، ون ڈے میں ۸۱؍ اور ٹی۲۰؍انٹرنیشنل میں ۷۱؍ وکٹ حاصل کئے۔ انہوں نے تین ورلڈ کپ میں بھی حصہ لیا، جن میں ۲۰۱۹ء کا ون ڈے ورلڈ کپ بھی شامل ہے، جہاں وہ ۱۷؍ وکٹوں کے ساتھ پاکستان کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے گیند باز رہے تھے۔ عامر نے پاکستان کی ۲۰۰۹ء ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ اور ۲۰۱۷ء چیمپئن ٹرافی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی سب سے یادگار کارکردگی ۲۰۱۷ء چیمپئن ٹرافی کے فائنل میں ہندوستان کے خلاف رہی۔ اس میچ میں عامر نے ۱۶؍ رنز دے کر ۳؍ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ تیز گیند باز نے روہت شرما، وراٹ کوہلی اور شکھر دھون کو آؤٹ کیا تھا۔ پاکستان نے یہ میچ ۱۸۰؍ رنز سے جیتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:رشی کپور نے اپنی پہلی ہی فلم’میرا نام جوکر‘ کیلئے نیشنل ایوارڈ جیتا تھا

انہوں نے  ۲۰۱۹ء ورلڈ کپ میں بھی آسٹریلیا کے خلاف ۵؍  وکٹ حاصل کئے تھے۔ پاکستانی شائقین ۲۰۲۷ء ورلڈ کپ میں انہیں دوبارہ دیکھنا چاہتے تھے۔ برطانوی شہریت لینے سے انہیں کاؤنٹی اور فرنچائز کرکٹ میں اپنے کریئر کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا، جبکہ پاکستان کے لیے ان کی کامیابیاں ان کی کرکٹ وراثت کا ایک اہم حصہ بنی رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK