فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے ) نے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں میں قائم اسرائیلی کلبوں پر پابندی نہ لگانے کے فیفا کے فیصلے کو کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (سی اے ایس) میں چیلنج کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 29, 2026, 10:06 PM IST | Montreal
فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے ) نے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں میں قائم اسرائیلی کلبوں پر پابندی نہ لگانے کے فیفا کے فیصلے کو کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (سی اے ایس) میں چیلنج کر دیا ہے۔
فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے ) نے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں میں قائم اسرائیلی کلبوں پر پابندی نہ لگانے کے فیفا کے فیصلے کو کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (سی اے ایس) میں چیلنج کر دیا ہے۔ دوسری جانب، کینیڈا میں ہونے والی فیفا کانگریس کے لیے فلسطینی وفد کو درپیش ویزہ مسائل نے بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔
فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کی نائب صدر سوسن شلبی نے ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی ) کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انہوں نے ۲۰؍ اپریل کو فیفا کے فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل دائر کر دی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی سیٹلمنٹ کلب بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں، لہٰذا انہیں اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن کے زیرِ انتظام لیگز میں کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ شلبی کے مطابق، فیفا کونسل نے ۱۵؍ سال کی طویل بحث کے بعد بھی کوئی ٹھوس فیصلہ کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کی، جسے فلسطین نے ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا ہے۔
جمعرات کو وینکوور میں شیڈول فیفا کانگریس سے قبل ویزا کے حصول میں درپیش مشکلات نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ سوسن شلبی نے بتایا کہ پی ایف اے کے صدر، جنرل سیکریٹری اور قانونی مشیر سمیت وفد کے کئی ارکان کو ابتدائی طور پر ویزے جاری نہیں کیے گئے۔ سیاسی اور سماجی دباؤ کے بعد پی ایف اے کے صدر کو ویزہ جاری کیا گیا، تاہم وہ وفد کے ساتھ روانہ نہ ہو سکے اور ان کی آمد میں تاخیر متوقع ہے۔قانونی مشیر گونزالو بوئے کو تاحال ویزا نہیں مل سکا، جس کی وجہ سے وہ کانگریس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’پیڈی‘‘ میں ڈانس نمبر کے لیے شروتی ہاسن کو خطیر رقم ملی
شلبی کے مطابق، ایران کی فٹ بال فیڈریشن کے نمائندوں کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ سے وہ اے ایف سی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔فلسطینی فٹ بال کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوسن شلبی نے کہا کہ غزہ میں فٹ بال کا تمام ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا اور اے ایف سی نے افغان خواتین کو بین الاقوامی میچوں میں شرکت کی اجازت دی
انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے سیکڑوں فٹبالرز کھو دیے ہیں، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ غزہ میں اب فٹ بال کا وجود نہیں رہا، اسٹیڈیم کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں اور پیشہ ورانہ لیگز معطل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا کے لیے یہ اچھا موقع تھا کہ وہ ورلڈ کپ کی میزبانی سے قبل سب کو خوش آمدید کہتا، لیکن ان رکاوٹوں نے ایونٹ کے وقار کو متاثر کیا ہے۔ کینیڈین محکمہ امیگریشن نے اس معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔