آسٹریلیا کے ٹیسٹ اور ون ڈے (ایک روزہ) کپتان پیٹ کمنز نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ملک کے اب تک کے ریکارڈ مصروف ترین ۱۲؍ ماہ کے دوران تمام ٹیسٹ میچز کھیل سکیں گے۔
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 10:01 PM IST | Sydney
آسٹریلیا کے ٹیسٹ اور ون ڈے (ایک روزہ) کپتان پیٹ کمنز نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ملک کے اب تک کے ریکارڈ مصروف ترین ۱۲؍ ماہ کے دوران تمام ٹیسٹ میچز کھیل سکیں گے۔
آسٹریلیا کے ٹیسٹ اور ون ڈے (ایک روزہ) کپتان پیٹ کمنز نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ملک کے اب تک کے ریکارڈ مصروف ترین ۱۲؍ ماہ کے دوران تمام ٹیسٹ میچز کھیل سکیں گے، تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اگر آسٹریلیا کے سرفہرست تینوں اہم تیز گیند باز تمام میچوں میں ایک ساتھ کھیلنے میں کامیاب رہے تو یہ ’’انتہائی حیران کن‘‘ ہوگا۔
تیز گیند باز پیٹ کمنز آئی پی ایل (انڈین پریمیئر لیگ) سے واپسی کے بعد جسمانی طور پر بہترین محسوس کر رہے ہیں۔ آئی پی ایل میں انہوں نے کمر کی چوٹ (انجری) کے باعث چار ماہ تک کرکٹ سے دور رہنے کے بعد پہلی بار مسابقتی میچز کھیلے تھے؛ اسی چوٹ کی وجہ سے ان کا ایشیز سیریز کا سفر بھی متاثر ہوا تھا۔ خواتین کے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کی لائیو کوریج کے سلسلے میں منعقدہ ایک میڈیا تقریب میں کمنز نے کہا’’میرا جسم اب بہترین محسوس کر رہا ہے۔ میں نے اسکین کروایا تھا جو بالکل ٹھیک آیا ہے، اس لیے اب اگلا مرحلہ ایک دن میں ۲۰؍ اوورز گیند بازی کے لیے خود کو تیار کرنا اور ٹیسٹ میچ میں اگلے دن دوبارہ اسی توانائی کے ساتھ میدان میں اترنا ہے۔‘‘
کمنز جون اور جولائی کے مہینوں میں اپنی گیند بازی کے ورک لوڈ میں بتدریج اضافہ کریں گے تاکہ وہ آئندہ ۱۲؍ ماہ کے طویل سیزن کے لیے تیار ہو سکیں، جس میں آسٹریلیا کو ۲۱؍ ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں۔ اس مصروف ترین باب کا آغاز اگست میں بنگلہ دیش کے خلاف گھر پر ہونے والے دو ٹیسٹ میچوں سے ہوگا۔ اگلے سال اگست تک، آسٹریلوی ٹیسٹ ٹیم ۲۰۱۸ءکے نیولینڈز بال ٹیمپرنگ تنازع کے بعد پہلی بار جنوبی افریقہ کا دورہ کرے گی، اس کے علاوہ ہندوستان کا ایک تاریخی دورہ اور انگلینڈ میں ایشیز سیریز کا دفاع بھی اس شیڈول کا حصہ ہے۔ آسٹریلوی ٹیم ہوم سیزن میں نیوزی لینڈ کی میزبانی بھی کرے گی، ایم سی جی (ملبورن کرکٹ گراؤنڈ) پر ۱۵۰؍ ویں سالگرہ کا تاریخی ٹیسٹ کھیلے گی اور ممکنہ طور پر لارڈز کے میدان پر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل بھی کھیلے گی۔
یہ بھی پڑھئے:اسکاٹ لینڈ کی خواتین ٹیم نے نیدرلینڈز کو ۲۴؍ رن سے شکست دے دی
آسٹریلیا کی تیز گیند بازی کی مشہور تگڑی یعنی پیٹ کمنز، مچل اسٹارک اور جوش ہیزل ووڈ عام طور پر ہوم سمر (ملکی سیزن) کے ہر ٹیسٹ میچ کا حصہ بننے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ کمنز نے تسلیم کیا کہ اس بار حالات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن وہ اب بھی ہر میچ میں دستیاب رہنے کے لیے پرامید ہیں۔ کمنز نے کہاکہ ’’خوش قسمتی یہ ہے کہ میں نے گزشتہ ایک سال میں زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی، اس لیے میں جسمانی طور پر جتنا بہترین ہو سکتا تھا، اتنی ہی اچھی پوزیشن میں واپسی کر رہا ہوں۔ میں امید کر رہا ہوں کہ میں یہ تمام میچز کھیلوں گا، لیکن یقیناً اس طویل سفر میں کچھ نہ کچھ مسائل سامنے آ ہی جاتے ہیں۔ یہ انتہائی حیران کن ہوگا اگر یہی تینوں گیند باز تمام ۲۱؍ ٹیسٹ میچز کھیل جائیں... ہمیں کچھ تبدیلیاں کرنی پڑ سکتی ہیں، کیونکہ یہ شیڈول اپنی مثال آپ اور بے مثال ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’ڈان ۳‘‘ تنازع: FWICE کا کنگنا اور رام گوپال ورما پر جوابی وار
واضح رہے کہ گزشتہ سمر سیزن میں جب ہیزل ووڈ اور کمنز چوٹ کا شکار ہوئے تھے، تو ریزرو تیز گیند بازوں اسکاٹ بولینڈ، مائیکل نیسر، جھائے رچرڈسن اور برینڈن ڈوگیٹ نے ان کی کمی کو پورا کیا تھا اور آسٹریلیا کو ایشیز میں ۱۔۴؍ سے فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کمنز نے یہ بھی مانا کہ تمام ٹیسٹ میچز کھیلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے انہیں وائٹ بال (محدود اوورز) کرکٹ کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا، جس کی وجہ سے اس سیزن میں ان کا بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں کھیلنا اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا، "میری ترجیح ٹیسٹ میچز ہیں اور اس کے علاوہ دیگر کرکٹ زیادہ نہیں ہوگی۔ کچھ وائٹ بال کرکٹ شیڈول میں ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ اس میں میری شرکت کا فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ ٹیسٹ میچوں کے بعد میرا جسم کیسا محسوس کرتا ہے۔‘‘