Inquilab Logo Happiest Places to Work

پریٹی زنٹا نے پاپرازی کلچر کو ’’خوفناک‘‘ کہا، بچوں کی پرائیویسی پر سخت مؤقف

Updated: April 30, 2026, 3:01 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ پریٹی زنٹا نے سوشل میڈیا پر ایک اے ایم اے سیشن کے دوران پاپرازی کلچر پر کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک نجی زندگی گزارنا چاہتی ہیں اور خاص طور پر اپنے بچوں کی تصاویر بغیر اجازت کھینچے جانے پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق شہرت اور پرائیویسی کے درمیان توازن قائم کرنا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

Preity Zinta. Photo: X
پریٹی زنٹا۔ تصویر: ایکس

بالی ووڈ اداکارہ پریٹی زنٹا نے حالیہ دنوں میں پاپرازی کلچر کے خلاف واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے اسے ’’خوفناک‘‘ قرار دیا ہے۔ پیر کو اپنے ایکس پر ایک اے ایم اے (آسک می ایوری تھنگ) سیشن کے دوران، انہوں نے شہرت، ذاتی زندگی اور ذہنی سکون کے درمیان توازن پر تفصیل سے بات کی۔ ایک صارف کے سوال کے جواب میں کہ وہ شہرت، رازداری یا ذہنی سکون میں سے کس چیز کو ترجیح دیں گی، پریٹی زنٹا نے کہا کہ ’’کچھ بھی قربانی نہیں ہے۔ میں نے زندگی کو جیسے ہے ویسے قبول کرنا اور اپنی توقعات کو سنبھالنا سیکھ لیا ہے۔ اب زندگی میرے لیے ایک بیلنس ہے کیونکہ میں بہت پرائیویٹ انسان ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ممبئی: ریحنہ کے گائے کو چارا کھلانے کے وائرل ویڈیو پر تنقید، ڈیئور بیگ پر تنازع

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مداحوں سے جڑے رہنا پسند کرتی ہیں اور اکثر تصاویر کے لیے رضامندی بھی دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں حدود مقرر کرنا ضروری لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے اپنے مداحوں کے ساتھ بات چیت کرنا پسند ہے اور میں کسی کو مایوس نہیں کرنا چاہتی، لیکن مجھے میڈیا اور لوگوں کے ساتھ حدود بھی طے کرنی ہوں گی۔‘‘ اداکارہ نے خاص طور پر اپنے بچوں کی پرائیویسی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’مجھے یہ بالکل پسند نہیں کہ لوگ یا میڈیا میرے بچوں کی تصاویر لینے کی کوشش کریں یہ بات قابلِ مذاکرات نہیں ہے۔‘‘

پریٹی زنٹا نے یہ بھی بتایا کہ وہ عام حالات میں فوٹوگرافروں کو انکار نہیں کرتیں، مگر مخصوص مواقع پر انہیں ذاتی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے تو میں اکثر ہاں کہتی ہوں، سوائے اس وقت کے جب مجھے جلدی ہو یا میں کسی مندر میں ہوں۔‘‘ انہوں نے پاپرازی کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقریبات میں فوٹوگرافی قابلِ قبول ہے کیونکہ یہ ان کا کام ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں اس کی حد پار ہو جاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عامر کا نمبرمحفوظ نہیں تھا اسلئے’’لال سنگھ چڈھا‘‘ کیلئے نغمے نہیں لکھ سکا: ارشاد

انہوں نے کہا کہ ’’مجھے تقریبات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ان کا کام ہے، لیکن جب وہ میرے جم کے باہر یا میری عمارت کے باہر انتظار کرتے ہیں تو یہ کچھ زیادہ ہو جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی زمین سے جڑے رہنے اور اپنا وقت گزارنے کی ضرورت ہے۔‘‘ اداکارہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی کامیابیوں اور مداحوں کی محبت کی قدر کرتی ہیں، اور ان کا مقصد شکایت کرنا نہیں بلکہ ایمانداری سے اپنی بات رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ملنے والے مواقع اور لوگوں کی محبت کے لیے شکر گزار ہوں، میں شکایت نہیں کر رہی، بس ایمانداری سے اپنی بات کہہ رہی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فلم ’’پیڈی‘‘ میں ڈانس نمبر کے لیے شروتی ہاسن کو خطیر رقم ملی

کام کے محاذ پر، پریٹی زنٹا جلد ’’لاہور ۱۹۴۷ء‘‘ میں سنی دیول کے ساتھ نظر آئیں گی۔ اس فلم کی ہدایت کاری راجکمار سنتوشی کر رہے ہیں، جبکہ اسے عامر خان پروڈکشنز کے بینر تلے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ فلم تقسیم ہند کے پس منظر میں ایک جذباتی کہانی پیش کرے گی اور ۱۳؍ اگست کو سنیما گھروں میں ریلیز ہونے کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ پریٹی زنٹا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سلیبریٹیز کی نجی زندگی اور پاپرازی کلچر کے درمیان حدوں پر بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے، اور ان کا مؤقف اس جاری مباحثے میں ایک اہم اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK