Updated: October 17, 2026, 10:04 PM IST
| Madrid
فیفا نے مصر کے خلاف دوستانہ فٹ بال میچ کے دوران اسپین کے بعض شائقین کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی پر رائل ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن پر ۲۰؍ ہزار امریکی ڈالر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ اگلے ہوم فرینڈلی میچ میں اسٹیڈیم کی کم از کم ۱۵؍ فیصد نشستیں بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ بارسلونا کے آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں 31 مارچ کو کھیلے گئے میچ کے دوران ’’جو نہیں جمپ کرے گا، وہ مسلمان ہے‘‘ جیسے نعرے لگائے گئے تھے۔ اسپین کے مسلم فٹ بالر لامین یامال نے اس عمل کو بے عزتی اور نسل پرستی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذہب کو طعنہ بنانے کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
فیفا کے فیصلے کے مطابق، جرمانے کے علاوہ اسپین کے اگلے ہوم فرینڈلی مقابلے میں دستیاب نشستوں میں سے کم از کم ۱۵؍ فیصد بند رکھنا ہوں گی، بالخصوص گول پوسٹوں کے پیچھے والے اسٹینڈز میں۔ تاہم، فیفا کی منظوری سے ان نشستوں کو خاندانوں، طلبہ اور امتیازی سلوک کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے لیے مختص کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کو میچ سے کم از کم ۱۵؍ دن پہلے اپنا منصوبہ فیفا کو پیش کرنا ہوگا، جس میں امتیازی سلوک کے خلاف نمایاں اقدامات بھی شامل ہوں۔ اس طرح سزا کا مقصد صرف مالی جرمانہ عائد کرنا نہیں، بلکہ اسٹیڈیم میں شائقین کے رویّے کے خلاف عملی اقدامات کو یقینی بنانا بھی ہے۔
یہ واقعہ ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو بارسلونا کے آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں اسپین اور مصر کے درمیان کھیلے گئے دوستانہ میچ کے دوران پیش آیا تھا۔ یہ مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا، لیکن کھیل کے دوران بعض ہسپانوی شائقین نے دو مرتبہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے نعرے لگائے۔ رپورٹوں کے مطابق، یہ نعرے پہلے ہاف کے تقریباً دسویں منٹ اور دوسرے ہاف کے آغاز کے قریب سنائی دیے۔ ان میں ’’جو نہیں جمپ کرے گا، وہ مسلمان ہے‘‘ جیسا جملہ شامل تھا۔ اسٹیڈیم کے اعلان کنندہ نے شائقین کو متنبہ کیا اور بڑی اسکرین پر امتیازی رویّے کے خلاف پیغام بھی دکھایا گیا۔ اس کے باوجود واقعے نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی اور فیفا نے ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کردی۔
اس معاملے پر اسپین کے نوجوان وِنگر الامین جمال (لامین یامال) نے بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ مسلم پس منظر رکھنے والے یامال نے اپریل میں سوشل میڈیا پر لکھا کہ مذہب کو طعنہ دینے کے لیے استعمال کرنا بے عزتی اور ناقابلِ برداشت عمل ہے۔ ان کے مطابق، میدان میں کسی مذہب کو تضحیک کا ذریعہ بنانا لاعلمی اور نسل پرستی کو ظاہر کرتا ہے۔ یامال خود ان نعروں کا براہِ راست ہدف نہیں تھے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ایسے رویّے کو معمول کی بات سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے بیان نے کھیلوں میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے مسئلے کو مزید نمایاں کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی واپسی کی کوشش، ویسٹ انڈیز کی نظریں ٹی ۲۰؍ سیریز جیتنے پر
فیفا کی کارروائی کے دوران ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن نے اپنے دفاع میں کہا کہ اس نے واقعے پر فوری ردِعمل ظاہر کیا تھا، اسٹیڈیم میں انتباہی پیغامات نشر کیے تھے اور متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ذمہ دار شائقین کی شناخت کی کوشش کی تھی۔ فیڈریشن نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ لفظ ’’مسلمان‘‘ بذاتِ خود توہین آمیز نہیں اور اس معاملے کو فیفا کے ضابطۂ اخلاق کی دفعہ ۱۷؍ کے تحت دیکھا جانا چاہیے، جو سیاسی، نظریاتی، مذہبی یا دیگر قابلِ اعتراض پیغامات سے متعلق ہے۔ اس کے برعکس، فیفا کی تادیبی کمیٹی نے قرار دیا کہ کسی لفظ کا مفہوم اس کے استعمال کے سیاق و سباق سے متعین ہوسکتا ہے اور اگر اسے تحقیر، طعنہ یا کسی گروہ کو کمتر دکھانے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ امتیازی سلوک کے زمرے میں آسکتا ہے۔ اسی بنیاد پر دفعہ ۱۵؍ کے تحت کارروائی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: آسکر کیلئے ہندوستان کی باضابطہ پیش کش فلم ’’گوندھل‘‘ نومبر میں ملک بھر میں ریلیز ہوگی
فیفا کی اپیل کمیٹی نے بھی ابتدائی سزا برقرار رکھی، جس کے بعد ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن نے کھیلوں کی ثالثی عدالت (سی اے ایس) سے رجوع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اس نے واقعے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے تھے اور سزا ان اقدامات کے مقابلے میں سخت ہے۔ دوسری جانب، فیفا کے تادیبی حکام نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امتیازی رویّے کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی ضروری تھی، اگرچہ یہ ہسپانوی فیڈریشن کا اس نوعیت کا پہلا معاملہ تھا اور اس نے واقعے کے بعد تعاون بھی کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اسپین کے اگلے ہوم فرینڈلی میچ کی تاریخ بھی اہم ہوگی، کیونکہ نشستیں بند رکھنے کی پابندی اسی مقابلے پر لاگو ہوگی۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق، یہ میچ جون ۲۰۲۷ء یا مارچ ۲۰۲۸ء میں ہونے کا امکان ہے، تاہم حتمی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی فٹ بال میں تماشائیوں کے امتیازی رویّے پر کارروائی صرف متعلقہ کھلاڑیوں یا شائقین تک محدود نہیں رہتی، بلکہ قومی فٹ بال فیڈریشنوں کو بھی اپنے اسٹیڈیم میں ایسے واقعات کی روک تھام اور تدارک کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جاسکتا ہے۔