Inquilab Logo Happiest Places to Work

آرسی بی ٹاپ ۲؍میں اپنی جگہ یقینی کرنا چاہے گی

Updated: May 06, 2026, 10:05 PM IST | Bengaluru

رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کی ٹیم انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)۲۰۲۶ء میں جمعرات کو لکھنؤمیں بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے مد مقابل ہوگی۔

Virat Kohli.Photo:X
وراٹ کوہلی اور دیگر۔ تصویر:ایکس

 رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کی ٹیم انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)۲۰۲۶ء میں جمعرات کو لکھنؤمیں بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے مد مقابل ہوگی۔ اس مقابلے میں آر سی بی کی کوشش ٹاپ۲؍ میں اپنی جگہ یقینی کرنے اور ایل ایس جی کی گھریلو میدان پر چل رہی خراب قسمت کو مزید گہرا کرنے کی ہوگی۔
یہ مقابلہ اس سیزن میں دو ایسی ٹیموں کے درمیان ہو رہا ہے جو بالکل الگ الگ سمتوں میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ آر سی بی اس ٹورنامنٹ کی سب سے متوازن ٹیموں میں سے ایک نظر آئی ہے، جس نے اپنے نو میں سے چھ میچ جیتے ہیں۔ وہیں ایل ایس جی کی مہم لگاتار پٹری سے اترتی گئی ہے، جس نے نو میچوں میں محض دو جیت حاصل کی ہیں۔
لکھنؤ فرنچائز کے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ رہی ہے کہ وہ گھریلو میدان ہونے کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ ایل ایس جی اس سیزن میں ایکانا اسٹیڈیم میں اپنے چاروں میچ ہار چکی ہے۔ جس میدان کو ٹیم کا قلعہ مانا جا رہا تھا، وہ اب تشویش کا ایک بڑا سبب بن گیا ہے۔ پلے آف میں پہنچنے کی امیدیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں، ایسے میں ٹیم اب زیادہ تر اپنی ساکھ اور لے برقرار رکھنے کے لیے کھیل رہی ہے۔
دوسری جانب آر سی بی نے کھیل کے ہر شعبے میں تسلسل کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالانکہ پچھلے میچ میں انہیں گجرات ٹائٹنز کے ہاتھوں ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن رجت پاٹیدار کی قیادت والی اس ٹیم نے اس سیزن میں سب سے مضبوط دعویداروں میں سے ایک رہنے کے لیے کافی گہرائی اور صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔
وراٹ کوہلی آر سی بی کی بیٹنگ لائن اپ کے اہم ستون بنے ہوئے ہیں۔ اس تجربہ کار بلے باز نے اس سیزن میں ۵۴؍ سے زیادہ کے شاندار اوسط سے۳۵۰؍ سے زیادہ رن بنائے ہیں۔ انہوں نے اننگز کا آغاز کرتے ہوئے استحکام اور جارحیت کا بہترین تال میل کا مظاہرہ کیا ہے۔ دیودت پڈیکل کی مہم بھی کافی کامیاب رہی ہے، جنہوں نے مڈل آرڈر میں تیزی سے رن بنائے ہیں۔ وہیں ٹم ڈیوڈ اور جتیش شرما نے اپنی زوردار ہٹنگ کی صلاحیت سے ٹیم کے فنشنگ شعبے کو مضبوطی دی ہے۔


آر سی بی کا بولنگ اٹیک شاید اور بھی زیادہ متاثر کن رہا ہے۔ تجربہ کار تیز گیند باز بھونیشور کمار نے اب تک ۱۷؍ وکٹ لے کر بولنگ اٹیک کی قیادت کی ہے اور اس ٹورنامنٹ کے سب سے بہترین گیند بازوں میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔ جوش ہیزل ووڈ کی رفتار اور درستگی، روماریو شیفرڈ کی ہمہ جہت افادیت اور کرونال پانڈیا کے کنٹرول نے ٹیم کے بالنگ اٹیک کو متوازن بنایا ہے۔
اس دوران لکھنؤ کے مسائل بنیادی طور پر اس کے گیند بازی کے شعبے میں تسلسل کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ممبئی انڈینز کے خلاف ملی ان کی تازہ ہار نے ایک بار پھر ان کمزوریوں کو اجاگر کر دیا ہے۔ بورڈ پر ۲۲۸؍ رن کا ایک بڑا اسکور بنانے کرنے کے باوجود ایل ایس جی رنوں کا پیچھا کرنے والی ٹیم کو روک نہیں پائی، کیونکہ اس کے گیند باز ابتدائی وکٹ لینے میں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھئے:سنجو سیمسن شو سے چنئی کی دہلی پر سپر جیت


اس سیزن میں ایل ایس جی کے لیے کچھ اچھی باتوں میں سے ایک مچل مارش رہے ہیں، جنہوں نے ٹاپ آرڈر میں آکر ٹیم کے لیے قیمتی رن بنائے ہیں۔ پچھلے میچ میں نکولس پورن نے بھی اپنا پرانا  فارم حاصل کر لیا، جب انہوں نے صرف ۲۱؍ گیندوں میں ۶۳؍ رنوں کی طوفانی اننگز کھیلی؛ اس سے یہ امید جگی ہے کہ ٹیم کا بیٹنگ لائن اپ ابھی بھی کسی بھی حریف ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اگر ایل ایس جی کو اس ٹورنامنٹ میں مضبوطی سے ٹکے رہنا ہے، تو کپتان رشبھ پنت اور ایڈن مارکرم کو مڈل آرڈر میں آکر ٹیم کی زیادہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانی ہوگی۔ حالانکہ ٹیم کے لیے سب سے بڑی تشویش کا موضوع اس کی بولنگ ہی بنی ہوئی ہے۔ پرنس یادو نے اس سیزن میں ۱۳؍ وکٹ لے کر سب کو متاثر کیا ہے، لیکن ٹیم کے سینئر تیز گیند باز محمد سمیع کے لیے یہ سیزن کافی مشکل بھرا رہا ہے؛ وہیں ٹیم کے دیگر گیند باز بھی دباؤ کے لمحات میں لگاتار اچھا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’راجہ شیواجی‘‘ میں اداکاروں نے مفت کام کیا: رتیش دیشمکھ


بھارت رتن اٹل بہاری واجپئی ایکانا اسٹیڈیم میں اس سیزن میں اب تک ہوئے زیادہ تر میچ کم اسکور والے رہے ہیں، جہاں پہلی اننگز کا اوسط اسکور تقریباً ۱۵۵؍ رن رہا ہے۔ رن  کا پیچھا کرنے والی ٹیموں کو یہاں زیادہ کامیابی ملی ہے؛ اس میدان پر کھیلے گئے پچھلے۱۰؍ میچوں میں سے ۸؍ میچ رن کا پیچھا کرنے والی ٹیموں نے ہی جیتے ہیں۔ ایسے میں اس میچ میں ٹاس کا رول کافی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
دونوں ٹیموں کی موجودہ فارم، ان کے اعتماد کے درجے اور ٹیم کے توازن کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ آر سی بی اس میچ کے دباؤ کو بہتر ڈھنگ سے سنبھال سکتی ہے اور ایل ایس جی کے اپنے گھریلو میدان پر چل رہے مایوس کن کارکردگی کے سلسلے کو آگے بھی جاری رکھ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK