Inquilab Logo Happiest Places to Work

اہرامِ مصر نے ۴۵۰۰ برسوں تک متعدد زلزلوں کا سامنا کیسے کیا؟ تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھایا

Updated: June 17, 2026, 3:02 PM IST | Cairo

سائنس دان طویل عرصے سے اس بات پر حیران تھے کہ جدید انجینئرنگ کے علم کے بغیر بنائی گئی ایک قدیم عمارت زلزلوں کی ہزاروں برسوں پر محیط سرگرمیوں کے بعد بھی کیسے قائم رہ سکتی ہے۔ اب، مصری ماہرِ ارضیاقی طبیعات عاصم سلامہ اور ان کے ساتھیوں کی ایک تحقیق نے بالآخر اس کا جواب تلاش کرلیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مصر میں جیزہ کے اہرام ۴۵۰۰ سے زائد برسوں سے قائم ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران انہوں نے متعدد زلزلوں کا سامنا کیا ہے جن میں ۱۹۹۲ء کا ۸ء۵ شدت کا وہ زلزلہ بھی شامل ہے جس نے اہرام کے کچھ بیرونی پتھروں کو ہلا دیا تھا لیکن اس کے اندرونی ڈھانچے کو مکمل طور پر محفوظ رکھا۔ سائنس دان طویل عرصے سے اس بات پر حیران تھے کہ جدید انجینئرنگ کے علم کے بغیر بنائی گئی ایک قدیم عمارت زلزلوں کی ہزاروں برسوں پر محیط سرگرمیوں کے بعد بھی کیسے قائم رہ سکتی ہے۔ اب، مصری ماہرِ ارضیاقی طبیعات عاصم سلامہ اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے ’سائنٹیفک رپورٹس‘ (Scientific Reports) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے بالآخر اس کا جواب تلاش کرلیا ہے جو قدیم مصری معماروں کے جدید ڈیزائن کے انتخاب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے تلے دبے ہزاروں فلسطینیوں کی شناخت ناممکن ہو سکتی ہے: آئی سی آر سی

زمین کے مقابلے اہرام بالکل مختلف فریکوئنسی پر وائبریٹ کرتے ہیں

اس تحقیق کی سب سے اہم دریافت یہ ہے کہ اہرام کے اردگرد زلزلے کی فریکوئنسی آپس میں میل نہیں کھاتی۔ محققین نے اہرام کے اندرون اور بیرون میں ۳۷ مقامات پر ارد گرد کی تھرتھراہٹ (ambient vibrations) کی پیمائش کی۔ انہوں نے پایا کہ اہرام کی قدرتی فریکوئنسی، یعنی وہ رفتار جس پر یہ تھرتھراہٹ کرتا ہے، ۰ء۲ اور ۶ء۲ ہرٹز کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس، آس پاس کی مٹی کی بنیادی فریکوئنسی صرف ۶ء۰ ہرٹز ہے۔ یہ فرق انتہائی اہم ہے۔ ہر عمارت کی ایک قدرتی فریکوئنسی ہوتی ہے اور اگر کسی زلزلے کے دوران زمین کی فریکوئنسی عمارت کی فریکوئنسی سے میل کھا جائے، تو وہ حرکت تباہ کن حد تک بڑھ جاتی ہے، اس عمل کو ’ریزونینس‘ Resonance (گونج) کہا جاتا ہے۔ چونکہ اہرام اور زمین بالکل مختلف فریکوئنسیوں پر وائبریٹ کرتے ہیں، اس لئے زلزلے کی توانائی مؤثر طریقے سے اس عمارت میں منتقل نہیں ہو پاتی اور نہ ہی اس کے اندر جمع ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فیفا ۲۶: ’ایران، ایران‘ کے نعروں نے اختلافات مٹا دیئے، میچ اتحاد کی علامت بن گیا

اہرام کے اندر زلزلے کے جھٹکے جذب کرنے والے نظام موجود ہے

تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اندرونِ اہرام کا فنِ تعمیر زلزلے کی توانائی کو فعال طور پر سنبھالتا ہے۔ ’کنگز چیمبر‘ (شاہی کمرے) کے بالکل اوپر بنے ہوئے بوجھ کم کرنے والے کمروں (relieving chambers) میں تھرتھراہٹ نمایاں طور پر کم ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمرے جو عمارت کے اندر نصب شدہ شاک ابزاربرز کے طور پر کام کرتے ہیں اور توانائی کو اندرونی حصے کو نقصان پہنچانے سے پہلے ہی مدہم کر دیتے ہیں۔ مزید برآں، اہرام میں موجود گرینائٹ (سنگِ خاردار) کی ٹھوس ساخت پتھر کے اندر کوارٹز کرسٹل (quartz crystal) کی بھاری مقدار کی وجہ سے زلزلے کی لہروں کو جذب کرنے کے بجائے انہیں واپس منعکس (reflect) کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: انٹارکٹکا: ریکارڈ گرمی کی لہر، جون میں درجہ حرارت ۴ء۱۵؍ ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا

اہرام کی ظاہری شکل، یعنی اس کا چوڑا نچلا حصہ اور اوپر کی طرف مخروطی شکل، اس کے استحکام میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قدیم مصری معماروں نے انجینئرنگ کے ایسے فیصلے کئے جو، خواہ منصوبہ بندی کے تحت ہوں یا ان کی جبلت کا نتیجہ، ۴۵ صدیوں کے دوران غیر معمولی طور پر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK