Updated: February 19, 2026, 9:58 AM IST
|
Agency
| Mumbai
فلمی دنیا میں کچھ نام ایسےہیں جو خود پردۂ سیمیں پر نظر نہیں آتے،مگر ان کی موجودگی کئی کامیاب فلموںکے پس منظر میں دھڑکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انہی ناموں میں ایک اہم اوربااثر نام ساجد نڈیاڈوالاکا ہے،ایک ایسا فلم ساز جس نے روایت کو بھی نبھایا اور وقت کی رفتار کو بھی پہچانا، جس نے خاندانی وراثت کو سنبھالتے ہوئے جدید بالی ووڈ کی نبض پر ہاتھ رکھا۔
ساجد ناڈیاڈ والا۔ تصویر:آئی این این
فلمی دنیا میں کچھ نام ایسےہیں جو خود پردۂ سیمیں پر نظر نہیں آتے،مگر ان کی موجودگی کئی کامیاب فلموںکے پس منظر میں دھڑکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انہی ناموں میں ایک اہم اوربااثر نام ساجد نڈیاڈوالاکا ہے،ایک ایسا فلم ساز جس نے روایت کو بھی نبھایا اور وقت کی رفتار کو بھی پہچانا، جس نے خاندانی وراثت کو سنبھالتے ہوئے جدید بالی ووڈ کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ ساجد نڈیاڈوالا ۱۸؍فروری ۱۹۶۶ءکو ممبئی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے فلمی خاندان سے ہے جس کی جڑیں ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں پیوست ہیں۔ ان کے دادااے کے نڈیاڈوالا اور والد سلیمان نڈیاڈوالابھی فلمی صنعت سے وابستہ رہے۔ اس طرح فلمی کیمرے کی روشنی، اسکرپٹ کی خوشبو اور سیٹ کی ہلچل ان کے لیے اجنبی نہیں تھی، بلکہ بچپن ہی سے ان کے ماحول کا حصہ تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب فلم سازی ایک خاندانی روایت کی طرح سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھی۔ ساجد نے بھی اسی روایت کو آگے بڑھایا، مگر محض وراثت پر اکتفا نہیں کیا،انہوں نے اپنی شناخت خود تراشی۔
۱۹۹۲ءمیں انہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی’نڈیاڈ والا گرینڈ سن اینٹرٹینمنٹ قائم کی اورکے بینر تلے فلم سازی کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ان کی ابتدائی فلموں میں رومان، ایکشن اور خاندانی جذبات کا وہ امتزاج نظر آتا ہے جو۹۰ءکی دہائی کے بالی ووڈ کی پہچان تھا۔
ان کی پہلی فلم ظلم کی حکومت (۱۹۹۲ء)میں دھرمیندر اور گووندا نےکام کیا، جو معتدل کامیاب رہی۔ ۱۹۹۳ءمیں وقت ہمارا ہے میں اکشے کمار اور سنیل شیٹی کو پہلی بار ملایا، جو ان کی اسٹار جوڑیوں کی پہچان بنی۔وقت کے ساتھ ساتھ ساجد ناڈیاڈوالا نے نہ صرف بڑے بجٹ کی فلمیں بنائیں بلکہ نئے موضوعات اور بڑے ستاروں کو ایک ساتھ لا کر کمرشل سنیما کو نئی توانائی دی۔ وہ ان پروڈیوسرز میں شمار کیے جاتے ہیں جو اسکرپٹ کے انتخاب میں احتیاط اور مارکیٹ کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ساجد نڈیاڈ والا کے کریئرمیں کئی بلاک بسٹر فلمیں شامل ہیں جنہوںنے باکس آفس پر ریکارڈ قائم کیے۔ ان کی پروڈیوس کردہ نمایاں فلموں میںجڑواں، مجھ سے شادی کرو گی،ہاؤس فل (اور اس کی کامیاب سیریز)، کِک اور باغی سیریز شامل ہیں۔خاص طور پر کِک ساجد نڈیاڈوالا کی بطور ہدایت کار پہلی فلم بھی تھی جس نےباکس آفس پر زبردست کمائی کی تھی۔ اس فلم میں انہوں نے بڑے پیمانے پر ایکشن اور تفریح کا ایسا امتزاج پیش کیا جس نے انہیں محض پروڈیوسر ہی نہیں بلکہ ایک وژن رکھنے والے فلم ساز کے طور پر بھی منوایا۔
ساجد نڈیاڈوالا کا نام ان فلم سازوں میں آتا ہے جنہوں نے بڑے اداکاروں کے ساتھ کامیاب اشتراک کیا۔ خصوصاً سلمان خان کےساتھ ان کی پیشہ ورانہ دوستی خاصی مشہور ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر بڑے ستاروں کے ساتھ بھی کام کیا اور نئے چہروں کو بھی موقع دیا۔وہ اس روایت کے قائل دکھائی دیتے ہیں کہ فلم صرف ستاروں کے سہارے نہیں چلتی، بلکہ کہانی، موسیقی اور پیشکش کی شان بھی اہم ہوتی ہے۔ اسی لیے ان کی فلموں میں کمرشل اپیل کے ساتھ تکنیکی معیار بھی نمایاں نظر آتا ہے۔آج ساجد نڈیاڈوالا ان چند فلم سازوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بدلتے وقت کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھا۔ ملٹی پلیکس کلچر ہو یا او ٹی ٹی کا بڑھتا ہوا رجحان، بڑے بجٹ کی ایکشن فلمیں ہوں یا کامیڈی کی سیریزانہوں نے ہر میدان میں قدم رکھا اور ان میں کامیابی بھی حاصل کی۔