ان میں’ ٹریبونل اصلاحات‘ جیسا بل بھی تھا، اس کے علاوہ’ ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیم) بل‘ اور’بینکرس بُکس ایویڈنس بل‘ کو بھی صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 12:00 PM IST | Agency | New Delhi
ان میں’ ٹریبونل اصلاحات‘ جیسا بل بھی تھا، اس کے علاوہ’ ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیم) بل‘ اور’بینکرس بُکس ایویڈنس بل‘ کو بھی صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا۔
لوک سبھا نے پیرکو حزب اختلاف کے اراکین کے احتجاج کے دوران کئی اہم بلوں کو بحث کے بغیر منظور کرلیا۔ ان میں ٹریبونل اصلاحات جیسا بل بھی رہا۔ اس کے علاوہ راجیہ سبھا نے ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیمی) بل کو صوتی ووٹوں کے ذریعے لوک سبھا کو واپس کر دیا۔ اس سے قبل راجیہ سبھا نے صوتی ووٹوں کے ذریعے دی بینکرز بُکس ایویڈینس بل۲۰۲۶ء منظور کرلیا۔ لوک سبھا میں مانسون اجلاس کے آخری ہفتے کے پہلے دن پیر کو بھی اپوزیشن اراکین کا زبردست احتجاج جاری رہا، جس کے باعث دو بار کارروائی ملتوی ہونے کے بعد پریزائیڈنگ افسر جگدمبیکا پال نے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھئے: این سی پی (شرد) کے اراکین پارلیمان کی نریندر مودی سے ملاقات
اس سے قبل ہنگامے کے درمیان پریزائیڈنگ افسر نے قانون و انصاف کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال سے’ٹریبونل اصلاحات بل‘ کو ایوان سے منظور کرانے کیلئے پیش کرنے کو کہا۔ جگدمبیکا پال نے بل پر بحث میں حصہ لینے کیلئے کئی اراکین کے نام پکارے، لیکن کسی رکن کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد انہوں نے بل کو ایوان سے منظور کرنے کیلئے پیش کیا اور بل کو بغیر بحث کے صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔ اسی طرح وزیرمالیات نرملا سیتا رمن نے ٹیکسیشن اور دیگر قوانین (ترمیم) بل کو راجیہ سبھا میں پیش کیا اوربعض سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یو پی آئی صارفین کیلئے مفت رہے گا اور یو پی آئی لین دین پر کوئی چارج نہیں دینا ہوگا۔ ان کے اس جواب کے بعد بل کو ایوان نے اپوزیشن کی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے زبانی ووٹوں سے منظور کرلیا۔ اس بل کو لوک سبھا نے پہلے ہی منظور کر دیا تھا۔ اسی درمیان ’بینکرس بُکس ایویڈنس بل‘ کو بھی بغیر کسی ترمیم کے منظور کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بینکوں کے کھاتوں کے ڈیجیٹل ریکارڈ کو قانونی حیثیت دینے والے اس بل پر دونوں ایوانوں کی مہر لگ گئی۔