Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۱؍ سالہ شیخ رشید کو کوہلی اور روہت کے بعد نمبر۳؍ پوزیشن کیلئےتیار کیا جارہا ہے

Updated: August 29, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi

ہندوستانی کرکٹ میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے بعد نمبر۳؍ کی پوزیشن کیلئے نوجوان شیخ رشید کو مستقبل کے مضبوط امیدوار کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ ۲۱؍سالہ رشید نے رنجی ٹرافی میں شاندار کارکردگی کے بعد انڈیا اے میں جگہ بنائی ہے اور اب ان کی نظریں ٹیسٹ ٹیم میں قدم رکھنے پر ہیں۔

Sheik Rasheed plays for Chennai Super Kings in the IPL. Photo: X
شیخ رشید آئی پی ایل میں چنئی سپر کنگز کی جانب سے کھیلتے ہیں۔ تصویر: ایکس

ہندوستانی کرکٹ میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے بعد ٹیسٹ ٹیم کے ٹاپ آرڈر کو مضبوط بنانے کیلئے نوجوان بلے بازوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں آندھرا کے۲۱؍ سالہ بلے باز شیخ رشید کو مستقبل کیلئے تیار کئے جانے والے کھلاڑیوں میں اہم امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ رشید اس وقت بنگلورو میں واقع بی سی سی آئی سینٹر آف ایکسی لینس میں اپنی بیٹنگ پر سخت محنت کر رہے ہیں۔ نیٹ پریکٹس کے دوران پسلیوں پر گیند لگنے کے باوجود انہوں نے وقفے کے بعد دوبارہ اسی گیند کا سامنا کیا جس سے انہیں پریشانی ہوئی تھی۔ تقریباً۳۰؍ منٹ کی مشق کے دوران ان کے بیک فٹ کور ڈرائیوز خاص طور پر نمایاں رہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیرج چوپڑا ٹخنے کی انجری کا شکار، سیزن کے بقیہ مقابلوں سے باہر

رشید انگلینڈ کے اسٹار بلے باز جو روٹ کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور ان کی بیٹنگ کے ویڈیوز باقاعدگی سے دیکھتے ہیں وہ روٹ کے بیک فٹ پنچ اور کور ڈرائیو کو خاص طور پر پسند کرتے ہیں اور مختلف حالات میں ان کی جانب سے اننگز کی تعمیر کے طریقے سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رشید کو فی الحال نمبر۳؍ کی پوزیشن کیلئے تیار کئے جانے والے کھلاڑیوں کے گروپ میں شامل کیا گیا ہے، اگرچہ دیو دت پڈیکل نے اس مقام پر فی الحال اپنی جگہ مضبوط کرلی ہے۔ رشید کے بچپن کے کوچ این ایس گنیش گزشتہ سات برس سے انہیں ایک ہی پیغام دیتے آ رہے ہیں کہ وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے بعد طویل مدت میں وہ ہندوستانی ٹیم میں ان کی جگہ سنبھالنے والے کھلاڑی بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برازیل اور یوروگوئے کیخلاف کھیلنا ہندوستان کیلئے تاریخی موقع

رشید نے۲۰۲۲ء کا انڈر-۱۹؍ورلڈ کپ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم میں بھی حصہ لیا تھا۔ گزشتہ رنجی ٹرافی سیزن ان کے کریئرکیلئے خاصا کامیاب رہا، جہاں انہوں نے۸؍ میچوں میں ۶۲۷؍ رنز بنائے۔ ان کی اوسط۸۹ء۵۷؍ رہی، جبکہ انہوں نے۳؍ سنچریاں اور۲؍ نصف سنچریاں بھی اسکور کیں۔ اس کارکردگی کے بعد انہیں سری لنکا کے دورے پر ہندوستان اے ٹیم میں موقع ملا۔ 
سری لنکا اے کے خلاف رشید نے۶۳، ۲۰؍اور۴۵؍ رنز کی اننگز کھیلی۔ تاہم، وہ جانتے ہیں کہ ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنانا آسان نہیں، کیونکہ ٹاپ آرڈر میں سخت مقابلہ ہے۔ رشید کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ہندوستان کی ٹیسٹ کیپ حاصل کرنا ہے، لیکن وہ اس کیلئے جلد بازی نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہر موقع سے سیکھتے ہوئے بتدریج خود کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سری لنکا کے دورے کے دوران کوکابورا گیند سے بیٹنگ کا بھی نیا تجربہ حاصل کیا۔ رشید کے مطابق ابتدا میں انہیں گیند کی چمک کا رخ پہچاننے میں دشواری ہوئی، لیکن ہندوستان اے کے کوچ ہریشیکش کانٹیکر نے انہیں اس سلسلے میں مدد دی۔ رشید اپنی بیٹنگ میں شیڈو پریکٹس اور ویژولائزیشن کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں۔ میچ سے قبل وہ آنکھیں بند کرکے تصور کرتے ہیں کہ اگلے مقابلے میں انہیں کسی تیز گیند باز، مثلاً مچل اسٹارک کا سامنا کرنا ہے، اور پھر ذہنی طور پر دفاع اور جارحانہ شاٹس کی مشق کرتے ہیں۔ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے بھی تجزیہ کاروں سے مخالف گیند بازوں کی ویڈیوز حاصل کرکے اسی طریقے سے تیاری کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سری لنکا کے رومیش پتھیراگے کی ’سنہری‘ کارکردگی برقرار

آئی پی ایل میں شیک رشید چنئی سپر کنگز کے ساتھ تین سیزن سے وابستہ رہے، تاہم، انہیں صرف چھ میچ کھیلنے کا موقع ملا۔ اس کے باوجود وہ آئی پی ایل کے تجربے کو ضائع شدہ موقع نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق مائیک ہسی جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں سے انہوں نے مختلف حالات میں بیٹنگ کرنے کے بارے میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ شیخ رشید کے سامنے ابھی ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم تک پہنچنے کیلئےایک طویل راستہ ہے، لیکن رنجی ٹرافی میں ان کی شاندار کارکردگی، انڈیا اے کا تجربہ اور اپنی تکنیک پر مسلسل کام انہیں مستقبل کیلئے ایک اہم امیدوار بناتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK