Updated: August 03, 2026, 12:00 PM IST
|
Agency
| Mumbai
اردو ادب اور ہندوستانی فلمی دنیا میں شکیل بدایونی بلاشبہ وہ درخشاںستارہ ہیں جن کے قلم نے محبت، درد، اور روحانیت کو ایسے الفاظ دیے جو آج بھی دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ ’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘ اور ’من تڑپت ہری درشن کو آج‘جیسے لازوال نغمے تخلیق کرنے والے شکیل بدایونی نے غزل کی روایتی نفاست کو فلمی موسیقی کی دنیا میں ایک نئی بلندی عطا کی۔
بہترین نغموں کے خالق شکیل بدایونی-تصویر:آئی این این
اردو ادب اور ہندوستانی فلمی دنیا میں شکیل بدایونی بلاشبہ وہ درخشاںستارہ ہیں جن کے قلم نے محبت، درد، اور روحانیت کو ایسے الفاظ دیے جو آج بھی دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ ’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘ اور ’من تڑپت ہری درشن کو آج‘جیسے لازوال نغمے تخلیق کرنے والے شکیل بدایونی نے غزل کی روایتی نفاست کو فلمی موسیقی کی دنیا میں ایک نئی بلندی عطا کی۔ ان کے لکھے ہوئے نغمے محض گانے نہیں، بلکہ جذبات کا ایک بہتا ہوا دریا ہیں جو ہر دور کے سننے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔شکیل احمد ،۳؍اگست ۱۹۱۶ءکواتر پردیش کے بدایوںقصبے میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانےسے تھا۔ والد جمیل احمد سوختہ قادری بدایونی ممبئی کی مسجد میں خطیب اور پیش امام تھے اس لیے شکیل کی ابتدائی تعلیم اسلامی مکتب میں ہوئی۔اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کے بعد مسٹن اسلامیہ ہائی اسکول بدایوں سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے شکیل ۱۹۳۲ءمیںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔شکیل نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو انہوںنے انٹر کالج ، انٹر یونیورسٹی کے مشاعروں میں حصہ لینا شروع کیا اور مسلسل ان مشاعروں کو اپنے نام کیا۔
شکیل نے سو سے زیادہ فلموں کے اردو ، ہندی اور پوربی زبانوں میں گیت لکھے۔علی گڑھ میں قیام کے دوران جگر مراد آبادی سےملاقات ہوئی۔ ان کی وساطت سےفلمی دنیا میں داخل ہوئے اور سو سے زائد فلموں کیلئےگیت لکھے،جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
نوشادکے کہنے پر شکیل نے ’ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنا دیں گے، ہر دل میں محبت کی آگ لگا دیں گے‘ گیت لکھا۔ یہ گیت نوشاد کو کافی پسند آیا جس کے بعد انہیںفوراً کاردار صاحب کی ’درد‘کیلئےسائن کر لیا گیا۔ ۱۹۴۷ءمیںاپنی پہلی ہی فلم ’درد‘کےگیت ’افسانہ لکھ رہی ہوں‘کی بے پناہ کامیابی سے شکیل بدایونی کامیابی کی چوٹی پر جا بیٹھے۔شکیل بدایونی نے نوشاد، روی، ہیمنت کمار، ایس ڈی برمن اور سی رام چندرجیسے ممتاز موسیقاروں کی دھنوںپر ۲۰۰؍سے زائد نغمے لکھے۔ ان کے گیتوں کو محمد رفیع، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، مکیش، شمشاد بیگم، ثریا، مہندرکپور، طلعت محمود، روی شنکر شرما، گیتا دت اور ہردئے ناتھ منگیشکر جیسے صفِ اول کے گلوکاروں نے اپنی آواز میں پیش کیا۔
شکیل بدایونی کو ۱۹۶۱ءمیںریلیز ہوئی فلم چودھویںکاچاندکے نغمے ’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو‘ کیلئےفلم فیئر ایوارڈسےنوازا گیا ۔ اس کے بعد ۱۹۶۲ءمیںفلم گھرانہ کےگانےحسن والے ترا جوا ب نہیں کیلئے پھر بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ دیا گیا۔ ۱۹۶۳ء میں سسپنس سےبھرپور فلم بیس سال بعد کے نغمہ کہیں دیپ جلے کہیں دل کے لئے انہیں ایک مرتبہ پھر بہترین نغمہ نگار کے طور پر منتخب کیا گیا۔فلمی گیتوں کے علاوہ شاعری کے پانچ مجموعے غم فردوس، صنم و حرم، رعنائیاں، رنگینیاں، شبستاں کے نام سےشائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کی کلیات بھی ان کی زندگی میں ہی شائع ہو گئی تھی، تاہم ۱۹۶۹ء میںلکھی گئی آپ بیتی ۲۰۱۴ءمیں شائع ہوئی۔شکیل بدایونی کا محض ۵۳؍ برس کی عمر میں ۲۰؍اپریل ۱۹۷۱ءکوممبئی میںانتقال ہوااور وہیں دفن ہوئے۔ مگر قبرستان کی انتظامیہ نے اور دوسری بہت سی مشہور شخصیات کی طرح ۲۰۱۰ءمیں ان کی قبر کا نام و نشان تک مٹا دیا۔