• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شمس ملانی اپنی کارکردگی سے لگاتار ٹیم انڈیا کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں

Updated: October 16, 2026, 3:25 PM IST | Agency | Mumbai

ممبئی کی رنجی ٹیم کے اسپن گیندباز نے کہا کہ ہندوستانی ٹیم کا دروازہ ابھی ان کےلئے کھلا نہیں ہے لیکن وہ پُر امید ہیں کہ ان کی محنت کا انعام انہیں ضرور ملے گا۔

Mumbai Ranji team player Shams Mulani. Photo: INN
ممبئی رنجی ٹیم کے کھلاڑی شمس ملانی۔ تصویر: آئی این این

شمس ملانی کو ویسٹ زون کی طرف سے پہلی بار دلیپ ٹرافی کھیلے ۴؍ سال ہو چکے ہیں۔ ریسٹ آف انڈیا کی جانب سے ایرانی کپ میں ڈیبیو کئے ۳؍ سال گزر چکے ہیں۔ وہیں، انڈیا ’اے‘ کی سفید جرسی پہنے ڈھائی سال سے بھی زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ ممبئی کے بائیں ہاتھ کے اسپنر شمس ملانی کئی سال سے ہندوستانی ٹیم میں انتخاب کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں لیکن انہیں اب بھی اس کے کھلنے کا انتظار ہے۔

رنجی ٹرافی شروع ہونے سے پہلے ملانی نے پڈوچیری میں آسٹریلیا ’اے‘کے خلاف ۲؍ غیر سرکاری ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پلیئر آف دی سیریز کا خطاب جیتا تھا۔ انہوں نے ۲؍ میچوں میں ۲۴ء۳۰؍کے اوسط سے ۱۰؍وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد منگل کو چندی گڑھ کے خلاف ممبئی کی پہلے راؤنڈ کی جیت میں بھی انہوں نے ۶۹؍رن دے کر ۳؍ وکٹیں لیں۔۲۹؍سال کے ملانی نے اب تک ۶۲؍فرسٹ کلاس میچوں میں ۲۴ء۵۴؍کے اوسط سے ۲۸۲؍وکٹیں لی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے نام ۳۱ء۷۹؍کے اوسط سے ۲۶۷۱؍ رن بھی ہیں۔ یعنی وہ ۳۰۰؍ وکٹوں کے اعداد و شمار سے صرف ۱۸؍ وکٹ دور ہیں، لیکن ہندوستانی ٹیم میں جگہ پانے کا ان کا انتظار اب بھی ختم نہیں ہوا ہے۔

منگل کو وانکھیڈے اسٹیڈیم میں انہوں نے کہا’’میں بس وہی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، جو اتنے سال سے کرتا آیا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ سیزن کی شروعات اچھی ہو کیونکہ اچھی شروعات سے آپ کا اعتماد بڑھتا ہے اور آپ ٹیم کے لئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ میں ممبئی اور انڈیا ’اے‘ کے لئے بھی اچھا کرنا چاہتا ہوں۔ میرا ہدف سیدھا ہے بلے بازی، گیند بازی اور فیلڈنگ، ہر شعبے میں ٹیم کی جتنی ہو سکے مدد کرنا۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی افریقہ کے پرو۲۰؍ میچ میں چیڈ لیکاک نے ایک اوور میں پانچ وکٹ لے کر ریکارڈ بنایا

مجھے ممبئی کے لئے کھیلنے پر فخر ہے اور میں اس کا لطف اٹھاتا ہوں۔ یہاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا دباؤ الگ ہی ہوتا ہے کیونکہ ہماری بینچ اسٹرینتھ بہت مضبوط ہے۔ ہمارے پاس کئی شاندار کھلاڑی ہیں۔ ایسے میں جب بھی ہم کھیلتے ہیں کسی بھی شعبے میں کمی نہیں چھوڑ سکتے۔ ہاں ہندوستانی ٹیم کا دروازہ ابھی کھلا نہیں ہے لیکن میں صبر رکھنے والا انسان ہوں۔ میں محنت کرتا رہوں گا اور لگاتار اچھا مظاہرہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ امید ہے کہ ایک دن یہ دروازہ ضرور کھلے گا۔‘‘

 ملانی کوٹیم انڈیا سے بلائے جانے کا انتظار

شمس ملانی پچھلے ۵؍ سال کے دوران ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسپن گیند باز آل راؤنڈروں میں سے وہ ایک ہیں۔ جب تک روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم کیلئے ساتھ گیند بازی کر رہے تھے، تب تک کسی دوسرے آف یا لیفٹ آرم فنگر اسپنر کے لئے ٹیم میں جگہ بنانا تقریباً ناممکن لگتا تھا۔دسمبر ۲۰۲۴ءمیں اشون کے ریٹائر منٹ اور کچھ ٹیسٹ سیریز میں واشنگٹن سندر یا رویندر جڈیجہ کے چوٹوں کی وجہ سے باہر رہنے سے نئی نسل کے اسپنروں کے لئے مواقع بنے ہیں۔ حالانکہ، مانو ستھار اور سارانش جین کو ملانی سے پہلے مواقع مل چکے ہیں۔رنجی ٹرافی کے پچھلے ۵؍ پورے سیزن میں ملانی نے بالترتیب ۴۵،۴۶، ۳۵،۴۴؍اور ۳۰؍ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس دوران انہوں نے ۱۶؍ بار اننگز میں ۵؍یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کی ہیں  اور میچ میں ۱۰؍ یا اس سے زیادہ وکٹیں ۶؍ بار لی ہیں۔

میرا کام اچھا مظاہرہ کرنا ہے

شمس ملانی کا مظاہرہ لگاتار شاندار اور بھروسہ مند رہا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ہندوستانی ٹیم سے بلاوا نہ آنے کے باوجود ملانی ہر سیزن کیسے اسی طرح کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں اور اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں؟انہوں نے کہا ’’مجھےلگتا ہے کہ میرے آس پاس کے ساتھی کھلاڑی میرا بہت ساتھ دیتے ہیں اور اس سے کافی مدد ملتی ہے۔ کئی بار ایسا لگتا ہے کہ مجھے کسی دورے پر موقع ملنا چاہیے تھا۔ انسان ہونے کے ناطے کبھی کبھی مایوسی بھی ہوتی ہے۔ لیکن میرا کام ممبئی کی ٹیم کے لئے لگاتار اچھا مظاہرہ کرنا ہے کیونکہ میں اسی ٹیم کے لئے کھیل رہا ہوں۔جب بھی مجھے موقع ملتا ہے، مجھے ایسا کرنے پر فخر ہوتا ہے اور میں آگے بھی یہی کرتا رہوں گا۔ میں نے انڈیا ’اے‘کے کوچوں سے بھی بات کی ہے کہ اگلے درجے تک پہنچنے کے لئے مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں ممبئی کے کوچوں کے رابطے میں بھی رہتا ہوں اور ہر دن اپنے کھیل میں سدھار کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔مجھے امید ہے کہ ٹیم انڈیا کیلئے کھیلوں گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK