Inquilab Logo Happiest Places to Work

صومالی فیفا ریفری عمر آرتان کوگھنٹوں امریکہ کے حراستی سیل میں رکھا گیا

Updated: June 10, 2026, 8:01 PM IST | New York

امریکہ میں داخلے سے روکے جانے کے معاملے پر فیفا ریفری عمر آرتان نے خاموشی توڑ دی، امریکی اخبار کو انٹرویو میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ریفری نے معاملے کی داستان سنادی۔

Omar Artan.Photo:X
عمر آرتان۔ تصویر:ایکس

 امریکہ میں داخلے سے روکے جانے کے معاملے پر فیفا ریفری عمر آرتان نے خاموشی توڑ دی، امریکی اخبار کو انٹرویو میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ریفری نے معاملے کی داستان سنادی۔انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن حکام نے۱۱؍گھنٹے تک مجھ سے پوچھ گچھ کی، طویل انٹرویو کے بعد بھی داخلے سے انکار کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ پوچھ گچھ کے بعد کئی گھنٹے حراستی سیل میں رکھا گیا۔


ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے رات بھر ایک کمرے میں بٹھا کر سوالات کیے، مجھ سے صومالی سیاست اور الشباب سے متعلق سوالات کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے میرے پیشہ ورانہ کریئر سے متعلق آن لائن معلومات بھی چیک کیں، فیفا دستاویزات اور کریئر ریکارڈ دکھانے کے باوجود داخلے کی اجازت نہ ملی۔

یہ بھی پڑھئے:عالمی کشیدگی اور مہنگائی کا چیلنج: فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا کل سے آغاز


عمر آرتان کا کہنا تھا کہ طویل پوچھ گچھ کے بعد حراست میں لے کر استنبول واپس بھیج دیا گیا، کئی گھنٹے حراستی سیل میں رکھنے کے بعد واپسی کی پرواز میں بٹھا دیا گیا۔ مجھ سے بار بار امریکا آنے کی وجہ پوچھی گئی۔صومالی ریفری نے کہا کہ ورلڈ کپ میں شرکت زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا، میں صرف اپنا خواب پورا کرنا چاہتا تھا۔ ورلڈ کپ میں ریفری کے فرائض انجام نہ دے سکنے پر بہت مایوس ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس درست ویزا اور تمام ضروری دستاویزات موجود تھے امریکی حکام کو اپنے تمام کاغذات اور فیفا دستاویزات دکھائیں۔
عمر ارتان نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ریفری بننا تمام صومالی عوام کے لیے ایک علامت ہوتا، صومالیہ کے حالات کے باوجود کامیابی کا پیغام دینا چاہتا تھا۔ لگتا ہے امریکی حکام کو میرے ملک سے مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ملی بوبی براؤن اور ہنری کیول کی ’’ اینولا ہومز۳‘‘ کا سنسنی خیز ٹریلر ریلیز

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ورلڈ کپ میں ریفری کرنا میرے کریئر کا سب سے بڑا اعزاز ہوتا، میں نے قطر اور یو اے ای میں فیفا کے کورسیز مکمل کیے۔ میں نے ایک دہائی سے زائد عرصہ پیشہ ور ریفری کے طور پر خدمات انجام دی ہیں، ورلڈ کپ میں شرکت صرف میری نہیں بلکہ پورے صومالیہ کی کامیابی ہوتی۔صومالی ریفری کا کہنا تھا کہ شدید مایوسی کے باوجود اپنے وطن واپس جا رہا ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK