Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی افریقہ ٹورنامنٹ کی احمق ترین ٹیم ہے: مائیکل وان

Updated: March 13, 2026, 10:05 PM IST | London

سابق انگلش کپتان مائیکل وان اپنے بے باک تجزیوں کے لیے مشہور ہیں، لیکن اس بار انہوں نے جنوبی افریقہ کی ’’اسپورٹس مین شپ‘‘ یا حکمت عملی کے فقدان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔وان کا ماننا ہے کہ جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو ہرا کر دراصل ہندوستان کے لیے ورلڈ کپ جیتنے کا راستہ صاف کیا۔

South Africa`s  Player.Photo:INN
جنوبی افریقہ کے کھلاڑی۔ تصویر:آئی این این

سابق انگلش کپتان مائیکل وان اپنے بے باک تجزیوں کے لیے مشہور ہیں، لیکن اس بار انہوں نے جنوبی افریقہ کی ’’اسپورٹس مین شپ‘‘ یا حکمت عملی کے فقدان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔وان کا ماننا ہے کہ جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو ہرا کر دراصل ہندوستان کے لیے ورلڈ کپ جیتنے کا راستہ صاف کیا، اور اگر پروٹیز تھوڑی چالاکی دکھاتے تو ہندوستان سپر ۸؍ مرحلے میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو جاتا۔
وان کے مطابق بڑی ٹیموں کو ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہیے تھا، کیونکہ ایسی ٹیمیں واپسی کر کے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ جنوبی افریقہ نے تو تمام میچ جیت کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی، لیکن وہاں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں۹؍ وکٹوں کی عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بہترین ٹیم کو جلدی باہر کرنا ہی جیتنے کا طریقہ ہے۔جنوبی افریقہ نے  ہندوستان کو ۷۶؍ رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی، جس کے بعد ہندوستان کی بقا کا دارومدار دوسرے میچوں کے نتائج پر تھا۔

یہ بھی پڑھئے:شاہد، کریتی اور رشمیکا کی ’’کاک ٹیل ۲‘‘ ۱۹؍ جون کو ریلیز ہوگی


جنوبی افریقہ نے احمد آباد میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر نہ صرف اپنی سیمی فائنل کی جگہ پکی کی بلکہ  ہندوستان کو بھی ٹورنامنٹ میں زندہ رہنے کا موقع فراہم کر دیا۔اس نتیجے کے بعدہندوستان نے زمبابوے اور پھر کولکاتا میں ویسٹ انڈیز کو ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جہاں انہوں نے انگلینڈ کو دھول چٹائی اور آخر کار نیوزی لینڈ کو ہرا کر چیمپئن بن گئے۔

یہ بھی پڑھئے:روہت شرما اس وقت سب سے فٹ اور مضبوط کھلاڑی ہیں: آکاش چوپڑا

وان نے مزید کہا کہ اگر آپ ورلڈ کپ جیتنا چاہتے ہیں، تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ سب سے خطرناک ٹیم کو ابتدائی مراحل میں ہی باہر کر دیا جائے۔ ان کے مطابق جنوبی افریقہ نے موقع گنوا دیا اور خود سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے ہار کر باہر ہو گئے، جبکہ  ہندوستان فاتح بن کر ابھرا۔ اگرچہ وان کا یہ بیان اسپورٹس مین شپ کے خلاف لگ سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ٹیموں کو ٹائٹل جیتنے کے لیے ایسی تزویراتی شکست کا سہارا لینا چاہیے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK