آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں گجرات ٹائٹنس اپنے دوسرے خطاب کی تلاش میں ہوگی۔ شبھ من گل کی قیادت میں ٹیم کا پیس اٹیک اس بار کافی مضبوط نظر آ رہا ہے۔ تاہم، گجرات کا مڈل آرڈر یقیناً ان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 5:06 PM IST | Ahmedabad
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں گجرات ٹائٹنس اپنے دوسرے خطاب کی تلاش میں ہوگی۔ شبھ من گل کی قیادت میں ٹیم کا پیس اٹیک اس بار کافی مضبوط نظر آ رہا ہے۔ تاہم، گجرات کا مڈل آرڈر یقیناً ان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں گجرات ٹائٹنس اپنے دوسرے خطاب کی تلاش میں ہوگی۔ شبھ من گل کی قیادت میں ٹیم کا پیس اٹیک اس بار کافی مضبوط نظر آ رہا ہے۔ تاہم، گجرات کا مڈل آرڈر یقیناً ان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔کپتان شبھ من گل اور سائی سدرشن ایک بار پھر گجرات کی جانب سے اننگز کا آغاز کرتے نظر آئیں گے۔ دونوں کی کارکردگی گزشتہ سیزن میں بھی شاندار رہی تھی۔ دوسری جانب آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں جوس بٹلر سے ٹیم کو مضبوط کارکردگی کی امید ہوگی، لیکن بٹلر کی حالیہ فارم بالکل اچھی نہیں رہی۔ ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ۲۰۲۶ء میں وہ رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیے تھے۔ شرفین ردر فورڈ کے جانے کے بعد نمبر چار کی پوزیشن بھی خالی ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی مجبوراً اجازت دی
گجرات نے نیلامی میں گلین فلپس اور ٹام بینٹن کو خریدا ہے، مگر ان دونوں کا آئی پی ایل میں ریکارڈ خاص نہیں رہا۔ فلپس نے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں ضرور اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔ ٹیم کے مڈل آرڈر میں ایسی کوئی قابلِ اعتماد بیٹنگ نظر نہیں آتی جو بکھرتی ہوئی اننگز کو سنبھال سکے۔ نچلے آرڈر میں شاہ رخ خان اور راہل تیوتیا کی صورت میں دو اچھے فِنشر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جیسن ہولڈر کی شمولیت سے ٹیم کا توازن بہتر ہوا ہے، جو بلے اور گیند دونوں سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں کوئی چمک دمک نہیں ، افتتاحی تقریب منسوخ
گجرات کی سب سے بڑی طاقت اس سیزن میں ان کی تیز گیند بازی ہو سکتی ہے۔ ٹیم کے پاس کگیسو ربادا، محمد سراج، پرسدھ کرشنا اور ایشانت شرما جیسے مضبوط بولرز موجود ہیں۔ کرشنا آئی پی ایل ۲۰۲۵ء میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر رہے تھے، جبکہ سراج آئندہ سیزن میں ٹیم کے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت ہو سکتے ہیں۔ لک ووڈ اور نوجوان بھارتی فاسٹ بولر اشوک شرما بھی اچھے متبادل کے طور پر موجود ہیں۔ تاہم، گزشتہ سیزن راشد خان کی فارم بھی کچھ خاص نہیں رہی تھی، اور ان کا فارم میں ہونا گجرات کے لیے نہایت اہم ہوگا۔