امریکہ نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی اجازت دے دی، آبنائے ہرمز سے ترسیل نہ رکنے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ امریکیوں کو ریلیف دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 3:02 PM IST | New York
امریکہ نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی اجازت دے دی، آبنائے ہرمز سے ترسیل نہ رکنے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ امریکیوں کو ریلیف دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔
امریکہ نے شہریوں کو ممنوع سستا پیٹرول استعمال کرنے کی اجازت دے دی، آبنائے ہرمز سے ترسیل نہ رکنے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ امریکیوں کو ریلیف دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) نے ملک میں ایندھن کی فراہمی کو مستحکم بنانے اور عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے لیے ایک ہنگامی اقدام کے تحت ای۱۵؍ پیٹرول کی ملک بھر میں فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ ای پی اے کے ایڈمنسٹریٹر لی زیلڈن نے امریکی محکمہ توانائی سے مشاورت اور کلین ایئر ایکٹ کے تحت ایک عارضی ایمرجنسی فیول ویور (چھوٹ) جاری کیا، جس کے ذریعے ۱۵؍ فی صد ایتھنول ملا ہوا پیٹرول (ای۱۵) پورے ملک میں فروخت کیا جا سکے گا۔
اس اقدام کے ساتھ ساتھ ۱۰؍ فی صد ایتھنول والے پیٹرول (ای ۱۰) کی فروخت میں حائل تمام وفاقی رکاوٹیں بھی ختم کردی گئی ہیں، تاکہ ایندھن کی دستیابی میں اضافہ ہوسکے۔ ای پی اے کے مطابق یہ فیصلہ گرمیوں کے ڈرائیونگ سیزن سے قبل کیا گیا ہے تاکہ ملک میں پیٹرول کی سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو اور صارفین کو زیادہ آپشنز فراہم کیے جا سکیں۔ ای پی اے کے مطابق اس ایمرجنسی چھوٹ سے گرمیوں میں پیٹرول کی مخصوص کم بخارات والی شرائط اور بلینڈنگ سے متعلق عائد پابندیاں عارضی طور پر ختم ہو جائیں گی، جس سے مارکیٹ میں زیادہ لچک پیدا ہوگی اور مختلف اقسام کے ایندھن دستیاب ہوں گے۔
ادارے نے واضح کیا کہ اس اقدام سے ماحولیاتی تحفظ کے موجودہ معیار متاثر نہیں ہوں گے۔ اس وقت ای۱۵؍پیٹرول امریکہ بھر میں ۳؍ ہزار سے زائد پیٹرول پمپس پر دستیاب ہے اور اسے نسبتاً سستا ایندھن سمجھا جاتا ہے۔ ای ففٹین عام پیٹرول کے مقابلے میں ۱۰؍ سینٹ فی گیلن سستا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شیل کے سی ای او کی یورپ کو وارننگ، جلد ایندھن کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
امریکہ میں عموماً گرمیوں کے مہینوں (یکم جون سے ۱۵؍ ستمبر) کے دوران ای ففٹین کی فروخت اور استعمال محدود یا ممنوع ہوتا ہے، کیوں کہ اس میں ایتھنول کی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے اس کے بخارات بڑھ سکتے ہیں، جو فضائی آلودگی (اسموگ) میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ چھوٹ یکم مئی ۲۰۲۶ء سے نافذ العمل ہوگی، جب کہ اس کا ابتدائی دورانیہ ۲۰؍ مئی ۲۰۲۶ء تک ہوگا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو اسے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہم امریکی صدر ٹرمپ سے امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر میری ایک شرط ہے:بومن ایرانی
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں پھر اتار چڑھاؤ آیا ہے، امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کروڈ ایک ڈالر اضافے سے ۲ء۹۱؍ڈالر فی بیرل ہو گیا، عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ ۲۹ء۱؍ ڈالر کمی کے بعد۲ء۱۰۳؍ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتائج پر انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے کی بندش تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل کو شدید متاثر کر رہی ہے، پودے لگانے کے موسم میں کھاد کی نقل و حرکت روک رہی ہے، مسائل کو کم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ فوری جنگ کو ختم کیا جائے۔