بھوشن کمار اور وویک اگنی ہوتری نے ’’آپریشن سندور‘‘ کا اعلان کر دیا، جو پہلگام حملے کے بعد ہندوستانی فوجی کارروائی پر مبنی ہے، فلم ایک بار پھر سیاسی اور نظریاتی بحث چھیڑ سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 6:09 PM IST | Mumbai
بھوشن کمار اور وویک اگنی ہوتری نے ’’آپریشن سندور‘‘ کا اعلان کر دیا، جو پہلگام حملے کے بعد ہندوستانی فوجی کارروائی پر مبنی ہے، فلم ایک بار پھر سیاسی اور نظریاتی بحث چھیڑ سکتی ہے۔
ہندوستانی فلم انڈسٹری میں ایک اور متنازع اور حساس موضوع پر مبنی فلم کا اعلان سامنے آیا ہے، جب فلم پروڈیوسر بھوشن کمار اور فلم ساز وویک اگنی ہوتری نے جمعرات کو اپنی نئی فلم آپریشن سندور کا باضابطہ اعلان کیا۔ یہ فلم مبینہ طور پر جموں کشمیر میں ۲۰۲۵ء کے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردی کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فوج کے ہدف بنائے گئے حملوں سے متاثر ہے۔ اس پروجیکٹ کی بنیاد لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ’ٹنی‘ ڈھلون کی کتاب ’’آپریشن سندور: دی ان ٹولڈ اسٹوری آف انڈیاز ڈیپ اسٹرائیکس انسائیڈ پاکستان‘‘ پر رکھی گئی ہے۔ فلم کو ٹی سیریز اور اگنی ہوتری کی آئی ایم بدھا پروڈکشنز مشترکہ طور پر پروڈیوس کریں گی، جبکہ ہدایت کاری خود اگنی ہوتری کریں گے۔
Bhushan Kumar and I have joined forces for #OperationSindoor— a story that redefined security in the subcontinent and exposed Pakistan’s nuclear bluff. The film is based on Lt Gen K.J.S. ‘Tiny’ Dhillon’s book Operation Sindoor: The Untold Story of India’s Deep Strikes Inside… pic.twitter.com/etequTSM6a
— Vivek Ranjan Agnihotri (@vivekagnihotri) March 26, 2026
بھوشن کمار نے فلم کے اعلان پر کہا کہ ’’کچھ کہانیاں منتخب نہیں ہوتیں، وہ آپ کو چنتی ہیں۔ آپریشن سندور ایک ایسی ہی کہانی ہے جو ایمانداری، حوصلے اور ذمہ داری کے ساتھ بتانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ صرف ایک فلم نہیں ہے، یہ ایک انکشاف ہے۔‘‘
دوسری جانب، اگنی ہوتری نے کہا کہ ’’یہ صرف ایک فلم نہیں ہے، یہ ایک انکشاف ہے۔ آپریشن سندور کے ذریعے، ہندوستان نے نہ صرف پہلگام دہشت گرد حملے کا بدلہ لیا بلکہ جدید جنگ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا۔‘‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’’ہم نے ہندوستانی مسلح افواج کے متعدد ونگز کے ساتھ مل کر وسیع تحقیق کی ہے تاکہ سمجھا جا سکے کہ کیا ہوا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔ حقیقت عوامی سطح پر دستیاب معلومات سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پریشان کن ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایچ بی او کی نئی ہیری پوٹر سیریز کا ٹیزر جاری، مداحوں کا ملا جلا ردعمل
ایک اور ’فائلز‘ طرز کی فلم؟
اگنی ہوتری اس سے قبل ’’دی کشمیر فائلز‘‘، ’’دی تاشکینت فائلز‘‘ اور ’’دی بنگال فائلز‘‘ جیسی فلموں کے ذریعے شدید بحث اور تنازعہ کا مرکز رہ چکے ہیں۔ ان کی فلموں پر اکثر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ حساس سیاسی موضوعات کو یک طرفہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں آپریشن سندور کا اعلان بھی پہلے ہی سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ چکا ہے، جہاں کچھ لوگ اسے ’’حب الوطنی پر مبنی سنیما‘‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ممکنہ طور پر ’’پروپیگنڈا بیانیہ‘‘ کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آئی جی ایل تنازع: کنال کامرا کا رنویر الہبادیا پر شدید حملہ
فلم ساز نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ’’غیر آرام دہ لیکن ضروری‘‘ کہانیاں سنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرا مقصد شور مچانا نہیں بلکہ اس کا مقابلہ کرنا ہے حقائق، وضاحت اور سنیما کے ذریعے۔‘‘ تاہم، ناقدین کا ماننا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایسے موضوعات پر بننے والی فلمیں حقیقت اور بیانیہ (narrative) کے درمیان لکیر کو دھندلا کر دیتی ہیں، جس سے سنیما ایک تخلیقی میڈیم کے بجائے نظریاتی ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔ فلم کی کاسٹ، ریلیز ڈیٹ اور دیگر تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ آپریشن سندور ریلیز سے پہلے ہی ایک بڑی سیاسی اور ثقافتی بحث کو جنم دے چکی ہے۔