Inquilab Logo Happiest Places to Work

آشابھوسلے:ریڈیو پر پابندی تو دوردرشن نے بھی ہٹا دیا تھا، گیت کوایوارڈ ملا

Updated: April 12, 2026, 4:40 PM IST | Mumbai

’سروں کی آشا‘ کہی جانے والی آشا بھوسلے نے اپنی منفرد آواز سے ہندی سنیما کو لازوال گانے دیے۔ ان کے گائے ہوئے گانے کبھی پرانے نہیں پڑتے بلکہ وقت کے ساتھ مزید نکھرتے جاتے ہیں۔ لاکھوں دلوں میں بسی ان کی آواز اب ہمیشہ آشا بھوسلے کی یاد دلاتی رہے گی۔

Asha Bhosle.Photo:INN
آشابھوسلے۔ تصویر:آئی این این

 ’سروں کی آشا‘ کہی جانے والی آشا بھوسلے نے اپنی منفرد آواز سے ہندی سنیما کو لازوال گانے دیے۔ ان کے گائے ہوئے گانے کبھی پرانے نہیں پڑتے بلکہ وقت کے ساتھ مزید نکھرتے جاتے ہیں۔ لاکھوں دلوں میں بسی ان کی آواز اب ہمیشہ آشا بھوسلے کی یاد دلاتی رہے گی۔ آج کا دن فلم انڈسٹری کے ساتھ ساتھ میوزک انڈسٹری کے لیے بھی ایک سیاہ باب کی طرح ہے۔ سروں کی آشا... اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ وہ اپنے پیچھے بے شمار یادیں، سریلی آواز میں گائے گئے گانے اور ڈھیر سارے قصے چھوڑ گئی ہیں۔
آشا بھوسلے نے اپنے کیریئر میں کئی یادگار گانے گائے لیکن ۱۹۷۱ء میں ریلیز ہونے والا ’دم مارو دم‘ سب سے زیادہ متنازع اور مشہور گانا رہا۔ اس گانے پر ریڈیو میں پابندی لگا دی گئی تھی اور دوردرشن نے اسے ہٹا دیا تھا، پھر بھی آشا بھوسلے کو اسی گانے کے لیے بہترین پلے بیک سنگر (خاتون) کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
فلم ’ہرے راما ہرے کرشنا‘ میں دیو آنند، زینت امان اور ممتاز کی اداکاری پر مشتمل اس آئیکونک گانے کو آر ڈی برمن نے موسیقی دی تھی اور آنند بخشی نے اس کے بول لکھے تھے۔ گانے میں زینت امان کو ہپی اسٹائل میں چلم پیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ گانے کی دلکش دھن، بول اور بولڈ مناظر نے اسے فوری طور پر مقبول بنا دیا، لیکن ساتھ ہی یہ تنازع کا شکار بھی ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے:جب آشا بھوسلے اوربریٹ لی کی جوڑی نے کرکٹ اور موسیقی کے شائقین کو مسحور کر دیا تھا


واضح رہے کہ فلم کی ریلیز کے دوران اس وقت ملک میں ہپی کلچر اور منشیات کی لت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ فلم کی کہانی کا بنیادی مقصد ہپی طرزِ زندگی اور نشے کی بری عادت پر طنز کرنا تھا۔ کہانی میں دیو آنند کا کردار اپنی بہن (زینت امان) کو ڈھونڈتے ہوئے کٹھمنڈو پہنچتا ہے، جہاں اس کی بہن مکمل طور پر نشے کی دنیا میں کھو چکی ہوتی ہے۔ فلم اس مسئلے کو اجاگر کرتی ہے لیکن ’دم مارو دم‘گانے کی وجہ سے لوگوں نے اسے نشے کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے کے مترادف قرار دیا۔
کئی تنظیموں اور والدین نے اسے ہندوستانی ثقافت کے خلاف قرار دیا۔ تنازع اتنا بڑھ گیا کہ آل انڈیا ریڈیو نے اس گانے پر مکمل پابندی لگا دی۔ جب فلم دوردرشن پر نشر ہوئی تو ’دم مارو دم‘ کو مکمل طور پر کاٹ دیا گیا۔ ٹی وی نشریات کے دوران اس گانے کو ہٹا دیا گیا تھا۔

یہ بھی ہڑھئے:کیا ’’رامائن‘‘ کے فلمسازوں نے فلم میں واقعی اصلی سونا استعمال کیا ہے؟


 تنازع کے باوجود آشا بھوسلے کی منفرد آواز اور گانے کی مقبولیت نے اپنا جادو دکھایا۔ آشا بھوسلے کو اسی گانے کے لیے فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین پلے بیک سنگر (خاتون) ملا۔ یہ ان کے کیریئر کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ گانے کی دھن آج بھی اتنی مقبول ہے کہ نوجوان نسل اسے سنتی اور گنگناتی ہے۔ دیو آنند نے اس گانے کو فلم میں اینٹی ڈرگ پیغام کے طور پر استعمال کیا تھا، لیکن گانے کی دلکش دھن اور زینت امان کے بولڈ مناظر نے اسے ایک الگ پہچان دے دی۔ آشا بھوسلے نے اپنی جادوئی آواز سے اس گانے کو امر بنا دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK