ممبئی انڈینز (ایم آئی) کا آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے پلے آف میں پہنچنے کا خواب ٹوٹ چکا ہے۔ اتوار کو رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے خلاف شکست کے ساتھ ہی ٹیم کے لیے آخری چار میں جگہ بنانے کے دروازے بند ہوگئے۔
EPAPER
Updated: May 12, 2026, 10:08 PM IST | New Delhi
ممبئی انڈینز (ایم آئی) کا آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے پلے آف میں پہنچنے کا خواب ٹوٹ چکا ہے۔ اتوار کو رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے خلاف شکست کے ساتھ ہی ٹیم کے لیے آخری چار میں جگہ بنانے کے دروازے بند ہوگئے۔
ممبئی انڈینز (ایم آئی) کا آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے پلے آف میں پہنچنے کا خواب ٹوٹ چکا ہے۔ اتوار کو رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے خلاف شکست کے ساتھ ہی ٹیم کے لیے آخری چار میں جگہ بنانے کے دروازے بند ہوگئے۔ آئیے آپ کو وہ ۵؍ وجوہات بتاتے ہیں جن کی وجہ سے اس سیزن میں ایم آئی کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی۔
سوریا کمار کی خراب فارم پڑا بھاری
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں سوریا کمار یادو رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔ ان کا خراب فارم کا اثر ممبئی انڈینز کی مجموعی کارکردگی پر بھی پڑا۔ ۱۱؍ اننگز میں سوریا کمار نے اب تک صرف ۱۹۵؍ رنز بنائے ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط محض ۷۲ء۱۷؍ رہی۔ وہ اس سیزن میں اب تک صرف ایک نصف سنچری ہی بنا سکے ہیں۔
بمراہ وکٹوں کے لیے ترستے رہے
ممبئی انڈینز کے بولنگ اٹیک کی جان مانے جانے والے جسپریت بمراہ کے لیے یہ سیزن کسی برے خواب سے کم نہیں رہا۔ بمراہ ۱۱؍ میچوں میں صرف ۳؍وکٹیں حاصل کر سکے اور ان کا اکنامی ریٹ ۵۱ء۸؍رہی۔ ایم آئی کی بولنگ کافی حد تک بمراہ پر منحصر ہے اور ان کی مایوس کن کارکردگی ٹیم کی ناکامی کی بڑی وجہ بنی۔
یہ بھی پڑھئے:میں ہندوستانی ٹیم میں واپسی کے بارے میں نہیں سوچتا:بھونیشور کمار
ہاردک پانڈیا کی کمزور کپتانی
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء میں ہاردک پانڈیا کی کپتانی بھی سوالوں کے گھیرے میں رہی۔ ہاردک خود بھی نہ بیٹنگ میں اور نہ ہی بولنگ میں کوئی خاص کارکردگی دکھا سکے۔ اس کے علاوہ صحیح پلیئنگ الیون کے انتخاب اور بولنگ تبدیلیوں کے فیصلے بھی ممبئی انڈینز کے حق میں نہیں گئے۔ ۸؍ میچوں میں ہاردک نے صرف ۴؍ وکٹ حاصل کیں جبکہ بلے سے ۱۴۶؍ رنز بنائے۔
یہ بھی پڑھئے:الاہلی کی فتح: سعودی پرو لیگ میں تیسری پوزیشن پر گرفت مضبوط، التعاون کو شکست
اچھے اسپنر کی کمی کھلی
ممبئی انڈینز کو اس سیزن ایک معیاری اسپنر کی کمی واضح طور پر محسوس ہوئی۔ غضنفراللہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکے اور ان کی کارکردگی میں تسلسل کی کمی نظر آئی۔ وہ اہم مواقع پر وکٹ لینے میں ناکام رہے اور درمیانی اوورز میں بلے بازوں پر دباؤ بھی نہیں بنا سکے۔ مچل سینٹنر کا زخمی ہونا بھی ایم آئی کے لیے بڑا نقصان ثابت ہوا۔