• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلم مخالف پوسٹوں پر ٹورنٹو بلیوجیز کا کھلاڑی سے اظہارِ لاتعلقی

Updated: November 07, 2026, 9:54 PM IST | Toronto

امریکی انتخابات کے بعد بیس بال کھلاڑی انتھونی سانتاندر نے انسٹاگرام پر دو ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی دعوے کیے گئے تھے۔ تنقید کے بعد انہوں نے پوسٹیں حذف کردیں، تاہم ٹورنٹو بلیوجیز نے بیان جاری کرکے واضح کیا ہے کہ کھلاڑی کے انفرادی خیالات ٹیم کی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے۔ کنیڈا میں اسلاموفوبیا کے خلاف سرگرم شخصیات نے کھلاڑی سے معافی اور کلب سے مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Baseball player Anthony Santander. Photo: INN
بیس بال کھلاڑی انتھونی سانتاندر ۔ تصویر: آئی این این

امریکی ریاست مشی گن سے عبدل السید (Abdul El-Sayed) کے امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے کے بعد بیس بال کے معروف کھلاڑی انتھونی سانتاندر (Anthony Santander) کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی مسلم مخالف ویڈیوز نے تنازع کھڑا کردیا ہے۔ ٹورنٹو بلیوجیز (Toronto Blue Jays) کے آؤٹ فیلڈر نے انسٹاگرام اسٹوری پر دو ویڈیوز شیئر کی تھیں، جن میں ایک میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ نے گزشتہ رات شریعت کے حق میں ووٹ دیا ہے، جبکہ دوسری میں کہا گیا کہ اسلام پُرامن مذہب نہیں ہے۔ ان پوسٹوں پر شدید تنقید کے بعد کھلاڑی نے انہیں حذف کردیا۔ سانتاندر کی جانب سے شیئر کی گئی پہلی ویڈیو میں مشی گن سے منتخب ہونے والے عبدل السید کی تصویر بھی شامل تھی۔ اس کے ساتھ یہ عبارت درج تھی: ’’America voted for Sharia Last Night!‘‘ یعنی ’’امریکہ نے گزشتہ رات شریعت کے حق میں ووٹ دیا۔‘‘ دوسری ویڈیو میں ایک عیسائی پادری یہ دعویٰ کرتا دکھائی دیا کہ اچھے مسلمان نام کی کوئی چیز نہیں اور اسلام پُرامن نہیں ہے۔ ان پوسٹوں کو اسلاموفوبک اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کو فروغ دینے والا قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کھلاڑی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ونڈیز کے تیز گیندبازوں نے بنگلہ دیش کو مشکلات میں ڈالا

عبدل السید مشی گن سے امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے ہیں اور وہ اس عہدے پر پہنچنے والے پہلے مسلمان امریکی ہوں گے۔ وہ مصری تارکینِ وطن کے فرزند ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بھی انہیں اسلام مخالف بیانات اور مذہبی تعصب پر مبنی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کی کامیابی کے بعد سانتاندر کی پوسٹوں کو محض ایک کھلاڑی کی ذاتی رائے کے بجائے امریکہ میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی اور ان کے خلاف پھیلائے جانے والے تعصبات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تنازع سامنے آنے کے بعد ٹورنٹو بلیوجیز نے جمعرات ۵؍ نومبر کو اپنا موقف جاری کیا۔ ٹیم کے بیان میں کہا گیا، ’’بیس بال سب کے لیے ہے اور بلیوجیز نے اپنے اسٹیڈیم میں ایسا جامع ماحول قائم کیا ہے جہاں تمام شائقین خود کو خوش آمدید محسوس کرتے ہیں۔ انفرادی افراد کے تبصرے ہماری تنظیم کی اقدار اور عقائد کی نمائندگی نہیں کرتے۔‘‘ ٹیم نے اپنے بیان میں سانتاندر کا نام لے کر ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ان کی پوسٹوں کی براہِ راست مذمت کی۔ اب تک کلب کی جانب سے ان کے خلاف کسی تادیبی کارروائی کا اعلان بھی نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فاسٹ بالر محمد سمیع کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان، شائقین کا شکریہ ادا کیا

کنیڈا کی سابق خصوصی نمائندہ برائے انسدادِ اسلاموفوبیا امیرہ الغوابی (Amira Elghawaby) نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سانتاندر ایک معروف کھلاڑی اور عوامی شخصیت ہیں، جنہیں نوجوان کھیل کے شائقین اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں، اس لیے ان کی غیر ذمہ دارانہ پوسٹوں کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق کنیڈا میں مسلم مخالف نفرت کے مہلک واقعات سامنے آ چکے ہیں، اس لیے صرف پوسٹیں حذف کردینا کافی نہیں۔ انہوں نے سانتاندر سے باقاعدہ معافی مانگنے اور ٹورنٹو بلیوجیز سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف زیادہ واضح اور مضبوط موقف اختیار کرے اور یہ بھی بتائے کہ اس معاملے کی تلافی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ سانتاندر ۳۲؍ سالہ وینزویلا کے کھلاڑی ہیں، جنہوں نے جنوری ۲۰۲۵ء میں ٹورنٹو بلیوجیز کے ساتھ ۵؍ سال کے لیے ۹؍ کروڑ ۲۵؍ لاکھ ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔ اس سے قبل وہ ۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۴ء تک بالٹی مور اوریولز (Baltimore Orioles) کی جانب سے کھیلتے رہے اور ۲۰۲۴ء میں آل اسٹار (All-Star) ٹیم کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ تاہم ٹورنٹو کے ساتھ ان کا پہلا سیزن زیادہ کامیاب نہیں رہا۔ ۲۰۲۵ء میں انہوں نے ۵۴؍ میچ کھیلے، ۶؍ ، ہوم رنز بنائے اور ۱۸؍ رنز بیٹ کیے۔ کندھے کی متعدد چوٹوں اور سرجری کے باعث وہ ۲۰۲۶ء کے پورے سیزن میں میدان میں نہیں اتر سکے۔

یہ بھی پڑھئے: بمراہ اور جڈیجہ ٹیسٹ سیریز سے قبل انڈیا ’اے‘ ٹیم میں شامل

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹورنٹو بلیوجیز کو اپنے کسی کھلاڑی کی سوشل میڈیا پوسٹوں کے باعث تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ۲۰۲۳ء میں ٹیم کے ریلیف پچر انتھونی باس (Anthony Bass) نے ایک ایسی ویڈیو شیئر کی تھی جس میں ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) برادری سے متعلق مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت کی گئی تھی۔ اس وقت بھی ٹیم کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ باس نے بعد میں معافی مانگی، لیکن تقریباً دو ہفتے بعد کلب نے انہیں ٹیم سے فارغ کردیا تھا۔ بلیوجیز نے اس فیصلے کو ’’بیس بال سے متعلق فیصلہ‘‘ قرار دیا تھا۔ موجودہ معاملے میں البتہ کلب نے فی الحال صرف اپنے ادارہ جاتی موقف کی وضاحت کی ہے۔ سانتاندر کی جانب سے پوسٹس حذف کیے جانے کے بعد بھی کوئی باضابطہ معافی سامنے نہیں آئی۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو نمایاں کیا ہے کہ کھیلوں کی دنیا کی معروف شخصیات کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور مذہبی و نسلی تعصبات پر مبنی اظہار کے حوالے سے کھیلوں کے اداروں کی ذمہ داری کہاں تک ہے۔ خاص طور پر ایسے کلب کے لیے، جس کے شائقین مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہوں، محض لاتعلقی کا بیان کافی سمجھا جائے گا یا اس سے آگے بھی کوئی قدم اٹھایا جائے گا، یہ دیکھنا باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK