یورپی فٹ بال کی گورننگ باڈی یوئیفا نے عالمی فٹ بال تنظیم فیفا کو ۲؍ نومبر ۲۰۲۶ء تک کی مہلت دیتے ہوئے صدر جیانی انفینٹینو سے اہم دستاویزات فراہم کرنے اور تنظیم کے انتظامی امور سے متعلق متعدد سوالات کے تفصیلی جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 10:04 PM IST | Zurich
یورپی فٹ بال کی گورننگ باڈی یوئیفا نے عالمی فٹ بال تنظیم فیفا کو ۲؍ نومبر ۲۰۲۶ء تک کی مہلت دیتے ہوئے صدر جیانی انفینٹینو سے اہم دستاویزات فراہم کرنے اور تنظیم کے انتظامی امور سے متعلق متعدد سوالات کے تفصیلی جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی فٹ بال کی گورننگ باڈی یوئیفا (UEFA) نے عالمی فٹ بال تنظیم فیفا (FIFA) کو ۲؍ نومبر ۲۰۲۶ء تک کی مہلت دیتے ہوئے صدر جیانی انفینٹینو سے اہم دستاویزات فراہم کرنے اور تنظیم کے انتظامی امور سے متعلق متعدد سوالات کے تفصیلی جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ اقدام فیفا کے متنازع سرمایہ کاری منصوبے اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان سامنے آیا ہے۔ یوئیفا نے اپنے خط میں ۴۲؍ سوالات اٹھائے ہیں اور واضح کیا ہے کہ گزشتہ اجلاس میں انفینٹینو کی معذرت کے باوجود کئی بنیادی معاملات پر وضاحت نہیں مل سکی۔
یوئیفا کے اعتراضات کی اہم وجہ فیفا کا مجوزہ منصوبہ ہے، جسے فیفا فارورڈ انٹرپرائز (FIFA Forward Enterprise) کا نام دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ورلڈ کپ اور دیگر مقابلوں سے متعلق تجارتی سرگرمیوں کو چلانے والی ایک نئی کمپنی میں تقریباً۲۰؍ فیصد حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز تھی۔ اس منصوبے سے تقریباً ۲ء۴؍ ارب امریکی ڈالر حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، لیکن یورپی فٹ بال حکام کی مخالفت اور شفافیت سے متعلق سوالات اٹھنے کے بعد اسے جولائی میں واپس لے لیا گیا۔ یوئیفا کا مؤقف ہے کہ منصوبہ واپس لینے اور غلطیوں کا اعتراف کرنے سے یہ سوال ختم نہیں ہوتے کہ اس تجویز کی تیاری کیسے ہوئی، فیصلے کن بنیادوں پر کیے گئے اور فیفا کونسل کو بروقت اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ تنظیم نے متعلقہ دستاویزات اور فیصلوں کی وضاحت کو ضروری قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف نہیں، پہلے کسی اور بالی ووڈ شخصیت کو نشانہ بنانے کی تھی منصوبہ بندی
یوئیفا کے سوالات صرف سرمایہ کاری منصوبے تک محدود نہیں ہیں۔ ان میں جیانی انفینٹینو کے معاوضے اور مالی ادائیگیوں، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان سے متعلق کاروباری و سیاسی روابط، امریکی فٹ بالر فولارین بالوگن کے خلاف تادیبی کارروائی میں پابندی معطل کیے جانے اور فیفا کے مختلف فیصلوں کے طریقۂ کار سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فیفا کے امن انعام، گلوکار مارک انتھونی کو کی جانے والی مالی ادائیگیوں اور ورلڈ کپ فائنل کے وقفے سمیت بعض انتظامی فیصلوں پر بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ یوئیفا یہ جاننا چاہتی ہے کہ فیفا کے عدالتی، انتخابی اور اخلاقی امور سے متعلق ادارے کس حد تک آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ ان سوالات کا مقصد تنظیم کے فیصلوں میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے زیورخ میں ہونے والے فیفا کونسل کے اجلاس میں بھی ان معاملات پر بحث ہوئی تھی۔ جیانی انفینٹینو نے متنازع منصوبے کے حوالے سے مشاورت کے عمل میں خامیوں پر معذرت کی، لیکن یورپی نمائندوں کو مطلوبہ دستاویزات اور مکمل وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔ اسی کے بعد یوئیفا نے تحریری طور پر اپنے سوالات بھیجے اور نومبر کی ۲؍ تاریخ تک جواب دینے کی مہلت مقرر کی۔ یوئیفا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان سوالات کو فیفا کونسل کے اگلے اجلاس تک مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ تنظیم کے نزدیک مستقبل میں انتظامی اصلاحات کا وعدہ ماضی میں کیے گئے فیصلوں کی جانچ اور ان کے لیے جواب دہی کا متبادل نہیں بن سکتا۔ فیفا کی جانب سے اس معاملے پر تفصیلی عوامی جواب سامنے آنے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اٹل کی سنچری، افغانستان نے زمبابوے کو ۱۵۸؍ رن سے شکست دی
یہ تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب جیانی انفینٹینو مارچ ۲۰۲۷ء میں ہونے والے فیفا صدارتی انتخابات میں دوبارہ امیدوار بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انتخاب میں امیدواروں کی نامزدگی کی آخری تاریخ ۱۸؍ نومبر ۲۰۲۶ء بتائی گئی ہے۔ اس لیے یوئیفا کی جانب سے ۲؍ نومبر کی مہلت کو خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اس کے بعد انتخابی عمل سے پہلے تنظیم کے مؤقف اور ممکنہ اقدامات کے بارے میں صورت حال زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔انفینٹینو ۲۰۱۶ء سے فیفا کے صدر ہیں اور ان کی قیادت میں تنظیم کے انتظامی ڈھانچے اور مالی فیصلوں پر پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ تاہم، موجودہ تنازع کے نتیجے میں ان کی صدارت یا انتخابی امکانات پر کیا اثر پڑے گا، اس بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ مجموعی طور پر یوئیفا کی جانب سے یہ دو ہفتوں کی مہلت عالمی فٹ بال کی دو اہم تنظیموں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ فیفا مقررہ تاریخ تک مطلوبہ دستاویزات اور جوابات فراہم کرتا ہے یا نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یوئیفا شفافیت اور جواب دہی کے لیے مزید کیا اقدامات کرتا ہے۔