Inquilab Logo Happiest Places to Work

زراعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے لامحدود فوائد

Updated: May 11, 2026, 5:05 PM IST | New Delhi

حال ہی میں زرعی شعبے میں بڑی اصلاحات دیکھنے میں آئی ہیں اور مستقبل میں کنٹریکٹ فارمنگ میں بہتر سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ زیادہ پیداوار اور مٹی کی زرخیزی کے لیے زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

A I Use In Farming.Photo:INN
کاشتکاری میں اے آئی کا استعمال ۔ تصویر:آئی این این

حال ہی میں زرعی شعبے میں بڑی اصلاحات دیکھنے میں آئی ہیں اور مستقبل میں کنٹریکٹ فارمنگ میں بہتر سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ زیادہ پیداوار اور مٹی کی زرخیزی کے لیے زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان کوششوں کے ذریعے زراعت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے کے اقدامات کو فروغ ملے گا۔
حکومت کی جانب سے کسانوں کو بہتر مشورے فراہم کرنے کے لیے صنعتی شعبے کے ساتھ مل کر ایک اے آئی سے لیس فصل کی پیداوار کی پیش گوئی کا ماڈل  تیار کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ فصلوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، زرعی سرمایہ کاری  کے ضیاع کو روکنے اور کیڑوں یا بیماریوں کے حملوں کی پہلے سے پیش گوئی کرنے کے لیے اے آئی پر مبنی آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
`میپ مائی کراپ ادارے کے شریک بانی اور سی ای او راجیش سیرولے کے مطابق، ہندوستان میں کھیتی باڑی اب آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی کے ساتھ بدل رہی ہے، جہاں ٹیکنالوجی کسانوں کے روزمرہ کے فیصلوں کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ موسم کی تبدیلی سے لے کر فصل کی صورتحال تک، اب کئی طرح کی معلومات ریئل ٹائم میں دستیاب ہیں، جس سے کسانوں کو بہتر منصوبہ بندی کرنے اور کھیتوں میں اچانک آنے والی مشکلات سے بچنے میں مدد مل رہی ہے۔ اس وقت سیٹیلائٹ امیجری اور ایڈوائزری سسٹم جیسے آلات ۸ء۳؍ کروڑ سے زیادہ کسانوں تک پہنچ رہے ہیں، جو انہیں یہ سمجھنے میں مدد دے رہے ہیں کہ کب کیا قدم اٹھانا ہے، کن باتوں پر توجہ دینی ہے اور فصلوں کا انتظام زیادہ موثر طریقے سے کیسے کرنا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تکنیکی صلاحیتیں زمینی سطح پر حقیقی اور مفید نتائج میں بدلیں، جہاں ہر روز کھیتوں میں فیصلے لیے جاتے ہیں۔ میپ مائی کراپ میں ہماری توجہ ایسا ذہین ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیار کرنے پر ہے جو پیچیدہ معلومات کو آسان، ریئل ٹائم اور مفید مشوروں میں بدل سکے، تاکہ ہر کسان زیادہ قابل بھروسہ، سمجھداری پر مبنی اور مستحکم فیصلے کر سکے۔

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان واحد اداکار ہیں جو کبھی میرے قد سے غیرمحفوظ نہیں ہوئے: پوجا بترا


یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا میں کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے پروفیسر اور انڈین آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ آرگنائزیشن (اے اے آئی آراو) کے ڈاکٹر امیت شیٹھ نے بتایا کہ ہندوستان میں کسان محدود ذہین نظاموں کے درمیان آب و ہوا کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، مریض بکھرے ہوئے طبی ڈھانچے کے اندر کام کر رہے ہیں، اور پہلی نسل کے سیکھنے والے ان زبانوں میں مہارت پیدا کر رہے ہیں جنہیں زیادہ تر اے آئی سسٹم ابھی تک ٹھیک سے سمجھ نہیں پاتے۔ نیتی آیوگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اے آئی ان خلیج کو پاٹنے کے لیے سب سے موثر ذرائع میں سے ایک بن سکتا ہے۔ یہ محض ٹیکنالوجی سے وابستہ کوئی اعداد و شمار نہیں ہے، بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ اگر ہم اسے صحیح سمت میں لے جائیں، تو اس سے ہونے والے فوائد لامحدود ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ممبئی انڈینز کو دو وکٹوں سے شکست دے کر آر سی بی پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست


ہندوستان کی اے آئی مارکیٹ کے ۲۰۲۷ء تک۱۷؍ ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کا تخمینہ ہے، لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ حقیقی ہندوستان کے لیے یہ کتنا مفید، قابل بھروسہ اور قابل رسائی بن پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے آئی آر او میں ہمارا ماننا ہے کہ ہندوستان کا سب سے بڑا موقع ملک کی متنوع علاقائی اور سماجی ضروریات کو سمجھنے اور ان کے مطابق بالکل الگ زمرے کی اے آئی تیار کرنے میں ہے۔ ایسی اے آئی جو مخصوص شعبوں کے لیے تیار کی گئی ہو، ملٹی ماڈل ہو، اور ہندوستان کے حقیقی حالات سے گہرائی سے جڑی ہو۔ یہ ماڈلز محض عام بات چیت کے لیے نہیں، بلکہ صحت کی دیکھ بھال، زراعت، موسمیاتی لچک، طرز حکمرانی، تعلیم اور انٹرپرائز سسٹمز جیسے اعلیٰ اثر والے شعبوں کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ایسے ماڈلز جو منظم علم کی بنیاد پر منطق استعمال کر سکیں، محدود کمپیوٹنگ وسائل میں کام کر سکیں، کثیر لسانی ماحول میں موثر ہوں، اور جہاں سب سے زیادہ ضرورت ہو وہاں قابل بھروسہ نتائج دے سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK