Updated: August 24, 2026, 11:04 AM IST
| Washington
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی اور سخت پابندیوں کے اعلان کی توقع ہے، جن کا دائرہ تہران سے کاروبار کرنے والے غیر ملکی بینکوں، شپنگ کمپنیوں اور ایکسچینج ہاؤسز تک پھیل سکتا ہے۔ واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک اور اداروں کو بھی اس اقدام کے نتائج بھگتنا ہوں گے، جبکہ تہران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اسکاٹ بیسنٹ کے ساتھ۔ (فائل فوٹو)
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق دوپہر ۲؍ بجے پریس کانفرنس کریں گے، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا اعلان متوقع ہے۔ نئی پابندیوں کا پیکیج صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان غیر ملکی بینکوں، شپنگ کمپنیوں، ایکسچینج ہاؤسز اور حکومتوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے تقریباً چھ ماہ بعد بھی تہران کے ساتھ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیسنٹ نے ایکس پر لکھا کہ ایران نے طویل عرصے تک سیکوریٹی کی ضمانتوں کو دباؤ اور دھمکی کے لیے استعمال کیا، لیکن صدر ٹرمپ کے دور میں یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق جو ممالک تہران کی مخالفت کے خطرے سے خوف زدہ ہیں، انہیں واشنگٹن کو آزمانے کی قیمت بھی سمجھنی چاہیے۔ نئی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی کم ہوئیں۔ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً ۳ء۱؍ فیصد گر کر ۹۳ء۸۵ء ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ خام تیل ۲۴ء۱؍ فیصد کمی کے بعد ۲۲ء۹۳ء ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کو وضو، ایشیائی برادریوں کو چاول دھونے میں پانی بچانے کا مشورہ
بیسنٹ کا ’’بڑا مالی حملہ‘‘
بیسنٹ نے اتوار کو فنانشیئل ٹائمز میں شائع مضمون میں اس منصوبے کی جھلک پیش کرتے ہوئے اسے دشمن کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا مالی حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کا آغاز طلوعِ صبح کے ساتھ ہوگا۔ انہوں نے ۱۹۴۳ء کی تہران کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی فوج پہلے ہی شدید نقصان اٹھا چکی ہے اور اب حکومت کی آخری پناہ گاہ وہ ممالک ہیں جو امریکی پابندیوں سے بچنے میں ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ بیسنٹ نے جمعرات کو سی این بی سی سے گفتگو میں اس منصوبے کو ’’ون ٹو پنچ‘‘ قرار دیا تھا، جس میں موجودہ بحری ناکہ بندی کے ساتھ اب تک کی سخت ترین پابندیاں شامل ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا معاشی دباؤ بالآخر ایرانی حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے اور اس طرح امریکہ کو دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک دباؤ میں
بیسنٹ نے ان ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جو ایران کو رقم منتقل، اس کا تیل خرید یا اس کی تجارت کے لیے بحری جہاز فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسی ملک کا براہِ راست نام نہیں لیا، تاہم تسلیم کیا کہ چین ایران کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور جنگ کے دوران بعض اوقات ایران کے تقریباً ۹۰؍ فیصد تیل کی خریداری چین نے کی۔ یہ واضح نہیں کہ نئی پابندیوں میں چین کو بھی نشانہ بنایا جائے گا یا نہیں۔ چینی بینکوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب چینی صدر شی جن پنگ کے اگلے ماہ وائٹ ہاؤس کا دورہ متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کو مبینہ طور پر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت
ایران نے امریکی دھمکی مسترد کر دی
ایران نے امریکی منصوبے پر شدید تنقید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر کہا کہ امریکی پابندیاں محض ایران کے خلاف معاشی حملہ نہیں بلکہ واشنگٹن دیگر آزاد ممالک پر بھی اپنا اختیار مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی اقدام کو ’’پرانا اسکرپٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی کارروائی سے دوبارہ پابندیوں کی طرف واپسی طاقت نہیں بلکہ مایوسی کی علامت ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے نئے سخت گیر سربراہ محسن رضائی نے پڑوسی ممالک کو امریکی مہم میں شامل ہونے سے خبردار کیا اور کہا کہ واشنگٹن نے نئی پابندیاں عائد کیں تو ایران ’’زلزلہ خیز‘‘ جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔
جنگ سے ایران کی معیشت پر اثرات
نئی پابندیوں کا اعلان ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جنگ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ اس دوران ہزاروں افراد ہلاک اور ایران کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے حصے کو نقصان پہنچا۔ گرمیوں کے آغاز میں ہونے والی جنگ بندی اور ۱۷؍ جون کو اسلام آباد میں طے پانے والی ۱۴؍ نکاتی مفاہمتی یادداشت بھی عملاً ناکام ہو چکی ہے۔ مذاکرات میں سیکوریٹی ضمانتوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے معاملات پر تعطل برقرار ہے۔ ۸؍ سے ۲۴؍ جولائی کے دوران جنگ دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ امریکہ نے ایران کے اندر حملے کیے جبکہ تہران نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے غیر مجاز ٹینکروں کی آمدورفت بھی روک رکھی ہے۔ یہ آبی راستہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا اہم ذریعہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کا امریکہ پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان، تجارتی جنگ میں شدت
جنگ سے پہلے بھی معیشت مشکلات کا شکار تھی
ایران کی معاشی مشکلات موجودہ جنگ سے پہلے ہی سنگین تھیں۔ ۲۰۲۵ء کے آخر تک افراطِ زر ۴۸؍ فیصد سے تجاوز کر چکا تھا جبکہ مختلف آزاد اندازوں کے مطابق ملک کی ۲۰؍ سے ۵۰؍ فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی۔ امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی ’’اکنامک فیوری‘‘ نامی مہم کے تحت ایرانی ایکسچینج ہاؤسز کو نشانہ بنا چکا ہے۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ یہ ادارے منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کی غیر ملکی کرنسی منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
سفارتی کوششیں جاری
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں اسلام آباد معاہدے، ٹرمپ کی پابندیوں اور پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے نئے سکیورٹی معاہدے پر بات چیت متوقع ہے۔ مصر بھی امریکہ اور ایران کے مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کی عزت و وقار برقرار رہتے ہوئے جنگ ختم کرنا اسے طول دینے سے بہتر ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کے اگلے اقدام کا انتظار کر رہا ہے اور تہران ابھی ’’درست معاہدے‘‘ کے لیے تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یوکرین کو برطانیہ کی حمایت، روس برطانیہ میں کشیدگی، روس نے اپنا سفیر واپس بلایا
چین کا فیصلہ اہم ہوگا
بیسنٹ کے اعلان سے قبل سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ چین کیا فیصلہ کرتا ہے۔ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور تہران کے لیے ایک اہم معاشی سہارا بھی۔ اگر چین امریکی مطالبے کو قبول کرتے ہوئے ایرانی تیل کی خریداری کم کر دیتا ہے تو نئی پابندیاں ایران پر شدید معاشی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ لیکن اگر بیجنگ امریکی دباؤ مسترد کرکے ایرانی تیل خریدتا رہا تو واشنگٹن اور چین کے درمیان ایک بڑے تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔