Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ایران نے ۶۰؍ روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کرلیا

Updated: June 22, 2026, 1:59 PM IST | Bern

پاکستان اور قطر نے امریکہ ایران مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے ۶۰؍ روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

پاکستان اور قطر نے امریکہ ایران مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے ۶۰؍ روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ایران اور امریکہ کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز فوری ہوگا، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔  ایٹمی پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد کے لیے سیل قائم کیا جائے گا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے رابطہ نظام قائم ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ٹیکنوپووا۸:قیمت تو زیادہ بڑھادی گئی لیکن خصوصیات نہیں


عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ثالث ممالک پاکستان اور قطر کا کہنا ہے کہ سوئزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے روز امریکہ اور ایران نے  حوصلہ افزا پیش رفت کی ہے اور امریکہ اور ایران نے ۶۰؍ دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔  لبنان تنازع کے حل کے لیے امریکہ اور ایران نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے قطر اور پاکستان کی سہولت کاری سے ایک ڈی کنفلیکشن سیل قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔تکنیکی سطح کے مذاکرات اس ہفتے بھی سوئزر لینڈ میں جاری رہیں گے۔  
واضح رہے کہ ان انتہائی اہم اور نازک مذاکراتی وقت میں اُس وقت کشیدہ لمحات بھی آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے وفد کو دھمکیاں دے کر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کو ناراض کر دیا تھا، جس کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مصر کے کوچ کی محمد صلاح سے اختلافات کی خبروں کی تردید


ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران پر دوبارہ بمباری کر سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حزب اللہ کی حمایت کے معاملے پر ایران پر حملے کی دھمکی دی تھی، تو تہران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ کو اپنے بیانات اور لہجے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK