Updated: April 07, 2026, 11:46 AM IST
|
Agency
| New York
سینیٹ میں مائناریٹی لیڈر چک شومر نے کہا کہ ’’ٹرمپ بےقرار پاگل کی طرح بکواس کررہے ہیں‘‘برنی سینڈرز نے کہا کہ ’’یہ ایک خطرناک اور ذہنی طور پر غیرمتوازن شخص کی بے سروپا باتیں ہیں۔
ایسٹر کے موقع پر وہائٹ ہاؤس کے احاطے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےٹرمپ-تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر ایران کے خلاف نازیبا بیان بازی عالمی سطح پر موضوع بحث ہے۔ امریکی صدر اس قدر بوکھلا گئے ہیں کہ وہ گالم گلوج پراُتر آئے ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کو ختم کرانے کیلئے اپنے’ٹروتھ‘اکاؤنٹ سے ایسی بے ہودہ بیان بازی کی کہ خود امریکی سیاستداں شرمندہ ہوگئے۔ان امریکی سیاست دانوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔
سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر نے کہا کہ ایسے میں جب سب لوگ ایسٹر(تہوار) منانے جا رہے ہیں ٹرمپ سوشل میڈیا پر بے قرار پاگل کی طرح بکواس کر رہے ہیں۔ٹرمپ کی سابق زبردست حامی ٹیلر گرین نے کہا کہ’’صدر ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کا ہر وہ شخص جو خود کو مسیحی سمجھتا ہے اسے صدر کے پاگل پن میں مداخلت کرنی چاہیے۔‘‘
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ اگر وہ ٹرمپ کی کابینہ میں ہوتے تو ایسٹر کی ان چھٹیوں میں امریکی آئین میں پچیسویں ترمیم لاگو کرنے کے لئے قانون دانوں سے بات کر رہے ہوتے۔ پچیسویں ترمیم کے تحت صدر کی معذوری کی صورت میں کابینہ کے اکثریتی فیصلے سے اس کے اختیارات نائب صدر سنبھال سکتا ہے۔ ڈیموکریٹ کانگریس مین گریگری میکس نے لکھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹروتھ پر جاری کردہ پوسٹ میں غیر مہذب اور بے ربط زبان استعمال کی، یہ کوئی خوبی نہیں ہے، یہ غلط اندازوں کے خطرے کو بڑھاتی ہے، امریکہ کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے، اور سفارت کاری کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان پر ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا دھمکی آمیز بیان آبنائے ہرمز نہیں کھول سکتا، ایران سے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے، امریکی عوام مزید بوجھ برداشت نہ کریں۔ سینیٹر کرس مرفی نے ٹرمپ کے اقدامات کو ’’واضح جنگی جرم‘‘ قرار دے دیا، انہوں نے کہا ریپبلکن قیادت ٹرمپ کو روکے، شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرم ہیں۔ سینیٹر الیسا سلاٹکن نے بھی کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا غیر ذمہ دارانہ اور غلط ہے، ٹرمپ کے اقدامات امریکی فوجیوں کو قانونی اور جانی خطرات میں ڈال رہے ہیں۔سینیٹر برائن شیٹز کا کہنا تھا کہ شہری انفراسٹرکچر پر بمباری جنگی جرم ہے، ٹرمپ کے منصوبوں کے خلاف فوری آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
سینئر سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی امریکی صدر کی بیان بازی پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایکس پوسٹ میں ٹرمپ کے اس بیان کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ ایران میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد، یہ امریکہ کے صدر کا ایسٹر سنڈے کے موقع پر بیان ہے۔ یہ ایک خطرناک اور ذہنی طور پر غیر متوازن شخص کی بے سروپا باتیں ہیں۔ کانگریس کو فوراً کارروائی کرنی چاہیے۔ اس جنگ کو ختم کیا جائے۔‘‘
خیال رہے کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدرٹرمپ کی بیان بازی کو جنگی جرائم پر اکسانے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ دھمکیاں محض ایک مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی موجودہ حکومت قانون، منطق یا بنیادی اخلاقی اصولوں کی کوئی پروا نہیں کرتی۔‘‘