• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی دالوں اور زرعی پیداوار کو بھی ٹیرف میں راحت

Updated: February 11, 2026, 12:59 PM IST | Agency | New Delhi

واشنگٹن کی جاری کردہ ’’فیکٹ شیٹ‘‘ میں مرکزی وزیر وں کے دعوؤں اور یقین دہانیوں کے برخلاف سنسنی خیز انکشافات، آئندہ چند ہفتوں میں معاہدہ کو حتمی شکل دینے کی تیاری۔

Piyush Goyal.Photo:INN
پیوش گوئل۔ تصویر:آئی این این

مودی حکومت اور اس کے وزیر حالانکہ   یہ باور کرانے کی انتھک کوشش کررہے ہیں کہ ’ہند امریکہ تجارتی معاہدہ‘  ہندوستان   کے مفاد میں ہے  اور یہ کہ کسانوں  کے مفادات   کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیاگیا مگر پیر کو امریکہ کی جانب سے جاری کی گئی ’’فیکٹ شیٹ‘‘ نے کئی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔  وائٹ ہاؤسکی فیکٹ شیٹ میں کہا گیا کہ ہندوستان  امریکی صنعتی اشیاء  کے ساتھ ساتھ خوراک  اور زرعی سامان  جن میں ’’بعض دالیں‘‘ بھی شامل ہیں، پربھی محصولات کم یا  ختم کرے گا۔
’’بعض دالوں‘‘ کا ذکر کیوں اہم ہے؟
فیکٹ شیٹ میں ’’بعض دالوں‘‘ کا ذکر اس لئے اہم ہے کہ ۶؍ فروری کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں اس کا ذکر نہیں تھا۔فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہندوستان تمام امریکی صنعتی مصنوعات اور امریکی خوراک اور متعدد زرعی مصنوعات  جن میں  سوکھا اناج،  سرخ جوار، میوہ جات، تازہ اور پراسیسڈ پھل، بعض دالیں، سویا بین تیل، شراب اور دیگر مصنوعات پر محصولات ختم یا کم کرے گا۔‘‘ امریکہ نے کہا کہ اس معاہدے سے۱ء۴؍ ارب آبادی والے ہندوستان کا بازار امریکی مصنوعات کیلئے کھل جائےگا۔
ڈیری مصنوعات سے بھی کسانوں کو خطرہ
 اس کے علاوہ واشنگٹن کے جاری کردہ  فیکٹ شیٹ سے  یہ بھی واضح ہوگیاہے کہ ہندوستان میں ڈیری سیکٹر کو امریکی  مصنوعات کیلئے کھول دیاگیا۔ اس سے ان کسانوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا جو مویشی پالتے ہیں اوران کے دودھ وغیرہ پر گزر بسر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ سے وابستہ صنعتیں  بھی  اس شعبے میں امریکی اشیاء کی بھرمار کی صورت میں متاثر ہوں گی کیوں کہ ان پر ٹیرف کم یا بالکل نہیں ہوگا ۔ امریکہ میں کسانوں کو سبسیڈی حاصل ہے اس لئے ان کا مقابلہ مشکل ہوگا۔
روسی تیل نہ خریدنے کی شرط بھی عیاں ہوگئی
ا س کے علاوہ  ہندوستانی اشیاء پر جرمانہ کی شکل میں  عائد کئے گئے  ۲۵؍ فیصد اضافی ٹیرف کو ہٹانے کیلئے  امریکہ کی جانب سے رکھی گئی  روسی تیل نہ خریدنے کی شرط اور ہندوستان کے ذریعہ اسے تسلیم کرنے کی بات بھی  امریکی فیکٹ شیٹ سے عیاں ہو گئی ہے۔فیکٹ شیٹ میں واضح طو رپر لکھا ہے کہ ہندوستان  نے  روس سے تیل نہ خریدنے کا وعدہ کیا ہے اوراسی شرط پر ۲۵؍ فیصد اضافی ٹیرف ہٹایا گیاہے۔  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  اپنے ذاتی ٹویٹ میں بھی اس کا ذکر چکے ہیں اور یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ اگر ہندوستان  نے  دوبارہ روسی تیل خریدا تو اس پر پھر ۲۵؍ فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائےگا۔ 

یہ بھی پڑھئے:رنجی ٹرافی : بنگال نے آندھرا کو شکست دیدی ، سیمی فائنل میں جموں کشمیر سے مقابلہ

چند ہفتوں میں معاہدہ کو حتمی شکل دی جائےگی
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ آنے والے  چندہفتوں میں ہند-امریکہ عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینےکیلئے کام کیا جائےگا۔ فیکٹ شیٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ  ہندوستان  امریکی صنعتی مصنوعات اور خوراک و زرعی اشیاء پر محصولات کم کرے گا یا  پھرختم کردے گا۔ اس   کے علاوہ آئندہ ۵؍ برسوں  میں وہ  امریکہ سے ۵۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت  کی توانائی، تکنالوجی،  زرعی اشیاء، کوئلے اور دیگر مصنوعات خریدنے کا  بھی پابند ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:’’زندگی نہ ملے گی دوبارہ ۲‘‘ کا پہلا مسودہ مکمل، تینوں مرکزی اداکاروں سے بات چیت

کچھ معاملوں  میں مذاکرات جاری رہیںگے
امریکہ کی جانب سے کہا گیا  ہےکہ دونوں ممالک باقی ماندہ معاملات، جن میں خدمات و سرمایہ کاری، محنت اور سرکاری خریداری شامل ہیں، پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔ پیر کو جاری کی گئی فیکٹ شیٹ میں معاہدے کی اہم شرائط کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ’’مستقبل کی ترقی‘‘ کے عنوان کے تحت فیکٹ شیٹ  میں کہا  گیا ہےکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ امریکی عوام کے مفادات کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی ایکسپورٹرس کیلئے ہندوستانی  بازارتک رسائی بڑھا رہے ہیں اور اقتصادی و قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے  ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو کم کر رہے ہیں۔
فیکٹ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ  ہندوستان نے بڑی عالمی معیشتوں میں امریکہ پر سب سے زیادہ محصولات عائد کر رکھے ہیں، زرعی مصنوعات پر اوسطاً۳۷؍ فیصد تک اور کچھ گاڑیوں پر ۱۰۰؍ فیصد سے بھی زیادہ ٹیرف عائد ہوتا ہے۔بیان کے مطابق معاہدہ میں کو کم یا ختم کیا گیاہےتاکہ امریکی مزدوروں اور کاروباروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔اعلان میں کہا گیا کہ یہ قدم ہندوستان  کے ساتھ متوازن اور مساویانہ تجارت کیلئے  صدر  ڈونالڈ ٹرمپ کی کوششوں کو اجاگر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK