Updated: September 28, 2026, 9:07 PM IST
| New Delhi
آئرلینڈ کے فٹ بال کوچ ہیمیر ہالگریمسن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف یوئیفا نیشنز لیگ کا میچ کھیلنے کے آئرلینڈ کے فیصلے کو غزہ میں جاری صورتحال کی حمایت یا منظوری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ کی ٹیم نے یہ میچ مقابلے کے ضابطوں کے تحت کھیلا اور کھلاڑی واضح کرنا چاہتے تھے کہ میدان میں اترنے کا مطلب غزہ میں ہونے والے واقعات کی حمایت کرنا نہیں ہے۔
کوچ ہالگریمسن۔ تصویر:ایکس
آئرلینڈ کے فٹ بال کوچ ہیمیر ہالگریمسن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف یوئیفا نیشنز لیگ کا میچ کھیلنے کے آئرلینڈ کے فیصلے کو غزہ میں جاری صورتحال کی حمایت یا منظوری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ کی ٹیم نے یہ میچ مقابلے کے ضابطوں کے تحت کھیلا اور کھلاڑی واضح کرنا چاہتے تھے کہ میدان میں اترنے کا مطلب غزہ میں ہونے والے واقعات کی حمایت کرنا نہیں ہے۔
ہالگریمسن نے اسرائیل کے خلاف میچ سے قبل کہا تھا کہ اگر کوئی آئرش کھلاڑی میدان میں اترتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غزہ میں ہونے والے واقعات کو قبول، ان کی حمایت یا ان سے اتفاق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم اس مقابلے میں اس لیے شریک ہوئی کیونکہ یہ یوئیفا نیشنز لیگ کے مقابلے کے ضابطوں کا حصہ ہے اور آئرلینڈ ان قواعد کی پابندی کرنا چاہتا ہے۔
یہ میچ ۲۷ ؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو ہنگری کے شہر ڈیبرےسن کے ناگیاردےئی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں آئرلینڈ نے اسرائیل کو ۳-۰ ؍گول سے شکست دی۔ آئرلینڈ نے پہلے ہاف میں ہی تینوں گول کرکے میچ پر مضبوط گرفت قائم کرلی۔
ٹروئے پیراٹ نے ۱۴؍ویں منٹ میں آئرلینڈ کو برتری دلائی، جس کے صرف دو منٹ بعد ایڈم اڈاہ نے اسکور ۲-۰؍گول کردیا۔ جیک موئلان نے ۲۵؍ویں منٹ میں تیسرا گول کرکے آئرلینڈ کی فتح تقریباً یقینی بنادی۔ اس مقابلے کے دوران آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے غزہ کے تنازع سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا۔ آئرش ٹیم نے سیاہ بازو بند پہنے، جن کے بارے میں آئرش فٹ بال حکام نے کہا کہ یہ تنازع میں جانیں گنوانے والے تمام افراد کی یاد میں تھے۔
اسرائیل کا قومی ترانہ بجائے جانے کے دوران آئرش کھلاڑیوں نے سر جھکائے رکھا۔ اس کے علاوہ میچ سے پہلے دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحہ اور پرچموں کا تبادلہ بھی نہیں ہوا۔ آئرلینڈ کے کپتان ڈارا اوشی نے اسرائیلی کپتان مانور سولومون سے بھی روایتی انداز میں ہاتھ نہیں ملایا۔ اس مقابلے سے قبل آئرلینڈ کے گول کیپر گیون بازونو نے ذاتی مؤقف کی بنیاد پر ٹیم سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا فیصلہ اس ذاتی یقین پر مبنی ہے کہ بے گناہ لوگوں کا قتل غلط ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے ابھیشیک کے ساتھ رشتے پر کہی دل کی بات، بولے: خیالات الگ ہوسکتے ہیں
آئرش فٹ بال حکام کے مطابق ٹیم کے کھلاڑیوں میں میچ کھیلنے کے معاملے پر مختلف آرا موجود تھیں۔ ٹیم نے مشاورت اور ووٹنگ کے بعد مقابلے میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ میچ کے بعد ہالگریمسن نے کہا کہ گزشتہ کئی دنوں کے دوران ٹیم کے لیے حالات آسان نہیں تھے۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں نے اپنے ملک کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ایک مشکل صورتحال کا بھی سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے احتجاج اور لوگوں کی رائے کے حق کا احترام کیا ہے، لیکن جب احتجاج کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کو متاثر کرنے لگے تو ان کے خیال میں صورتحال مختلف ہوجاتی ہے اور کھلاڑیوں کا تحفظ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشا سنگھ نے چاندی کا تمغہ جیتا، منو بھاکر بغیر تمغے کے ایشیائی کھیلوں سے باہر
ہالگریمسن نے یہ بھی کہا کہ کھلاڑیوں نے اپنے اقدامات کے ذریعے اس معاملے کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کی ہے۔ ان کے مطابق احتجاج کا ایک مقصد کسی صورتحال کے بارے میں لوگوں کی توجہ مبذول کرانا ہوتا ہے اور آئرش کھلاڑیوں نے میدان میں اور اپنے بیانات کے ذریعے اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان یوئیفا نیشنز لیگ کا دوسرا مقابلہ ۴ ؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو سربیا میں کھیلا جائے گا۔ پہلے میچ سے قبل آئرلینڈ میں بعض حلقوں کی جانب سے مقابلے کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا، تاہم آئرلینڈ کی ٹیم نے بالآخر مقابلے میں شرکت کا فیصلہ کیا۔
اس طرح اسرائیل کے خلاف ۳-۰ ؍گول کی فتح کے باوجود یہ مقابلہ صرف کھیل کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ اس سے جڑے سیاسی اور انسانی پس منظر کے باعث بھی خاص توجہ کا مرکز بنا رہا۔ آئرلینڈ کے کوچ ہالگریمسن نے واضح کیا کہ ٹیم کی شرکت کو غزہ میں ہونے والے واقعات کی حمایت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، جبکہ میچ کے دوران آئرش کھلاڑیوں کے اقدامات نے ان کی تشویش کو نمایاں کیا۔