امریکی فگر اسکیٹر الیا مالینن نےتسلیم کیا کہ ونٹر اولمپکس کا دباؤ کسی بھی دوسرے ٹورنامنٹ کے برعکس تھا اور ان کی نسیں سُن پڑ گئی تھیں۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 11:01 AM IST | Agency | New Delhi
امریکی فگر اسکیٹر الیا مالینن نےتسلیم کیا کہ ونٹر اولمپکس کا دباؤ کسی بھی دوسرے ٹورنامنٹ کے برعکس تھا اور ان کی نسیں سُن پڑ گئی تھیں۔
امریکی فگر اسکیٹر الیا مالینن، جسے دنیا بھر میں ’کواڈ گاڈ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، زمین پر وہ واحد انسان ہیں جو۴ء۵؍ ڈگری تک روٹیشن والی چھلانگ (جمپ) لگانے کے قابل ہیں۔ دسمبر میں، انہوں نے ایک ہی پروگرام میں ۷؍ چوگنی چھلانگ لگا کر تاریخ رقم کی تھی ۔ انہوں نے لگاتار۱۲؍ بین الاقوامی مقابلے جیتے تھے لیکن اطالوی سرمائی اولمپکس کے فائنل میں متعدد بار گرے اوربالآخر آٹھویں نمبر پر رہے ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ونٹر اولمپکس کا دباؤ کسی بھی دوسرے ٹورنامنٹ کے برعکس تھا اور ان کی نسیں سُن پڑ گئی تھیں۔
الپائن اسکیئر مائیکیلا شیفرین کا بھی ایسا ہی حال ہے ۔ شیفرین کے پاس تاریخ میں سب سے زیادہ ۱۰۸؍ورلڈ کپ فتوحات کا ریکارڈ ہے لیکن انہوں نے ۲۰۱۸ء کے بعد سے کسی اولمپک دوڑ میں ایک بھی تمغہ نہیں جیتا ۔ فری اسکئینگ کے آندری رگیٹلی بھی۵۷؍فیصد پوڈیم ریٹ کے باوجود مسلسل تیسرے اولمپکس میں تمغے کے بغیر واپس آئے۔ ان کھلاڑیوں میں نہ ٹیلنٹ کی کمی ہے اور نہ ہی تیاری۔ وہ دنیا کے بہترین ہیں، پھر بھی وہ ہار گئے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل اور دیپک کی ملاقات، محبت کے فروغ کا عزم
ماہرین نفسیات کے مطابق یہ ان بڑے کھلاڑیوں کی جسمانی کمزوری نہیں بلکہ قدرتی اعصابی نظام کا ردعمل ہے ۔ جب انتہائی سماجی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے تو جسم اسے ایک اہم خطرہ سمجھتا ہے۔ باقاعدہ ٹورنامنٹس میں ذہن جیتنے پر مرکوز ہوتا ہے۔ لیکن اولمپکس میں جہاںعوامی احترام داؤ پر لگا ہوتا ہے،جسم میں کورٹیسول کی سطح اچانک بڑھ جاتی ہے۔ جیتنے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، کھلاڑی کا دماغ شکست سے بچنے کے کے موڈ میں بدل جاتا ہے۔سائنسی اصطلاحات میں’ویگس نرو‘ جو دل کی دھڑکن کوکنٹرول کرکے جسم کو پُرسکون رکھتی ہے، دباؤ میں سست ہوجاتی ہے۔ اس سے اعصابی توازن بگڑ جاتا ہے۔ دباؤ کے تحت، کھلاڑی اس تکنیک کے ہر قدم پر غور کرنا شروع کر دیتے ہیں جو انہوں نے ہزاروں بار کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ اسے’ایکسپلیسٹ مانیٹرنگ ‘کہا جاتا ہے۔ دماغ کا یہ کنٹرولڈ پروسیسنگ ان کی قدرتی کارکردگی کومکمل طور پر روک دیتا ہے۔ یہ باتیں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا اسٹیج یعنی اولمپکس صرف جسمانی طاقت کا کھیل نہیں ہے بلکہ قدرتی دفاعی میکانزم کو دنیا کے سامنے شکست دینے کا فن بھی ہے۔
ذہنی آپریٹنگ سسٹم کی تربیت ضروری ہے
کھلاڑیوں کو بے پناہ دباؤ سے نمٹنے کے لیے ذہنی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سست سانس لینے اور بائیو فیڈ بیک تکنیک کے ذریعے وگس اعصاب کو مضبوط کرنا پہلا قدم ہے۔ مزید برآں، `سیمولیشن ٹریننگ جس میں پریکٹس کے دوران لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے نامعلوم تماشائیوں کے رئیل ٹائم تبصروں کا سامنا کرنا شامل ہے، بہت مددگارہوتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کی نظروں کو خطرے کے بجائے چیلنج کے طور پر دیکھنے کی ذہنی عادت پیدا کرنا ضروری ہے۔