Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ’’دُھرندھر۲‘‘ میں ارجن رامپال بھی اکشے کھنہ کی طرح مشہور ہوں گے؟

Updated: March 13, 2026, 8:19 PM IST | Mumbai

۱۹؍مارچ کو فلم دُھرندھر۲: دی ریوینج ریلیز ہونے والی ہے، جس میں حمزہ علی یعنی رنویر سنگھ کا خطرناک ایکشن موڈ اورارجن رامپال کا خوف پیدا کرنے والا کردار میجر اقبال ناظرین کو ڈرا سکتا ہے۔

Arjun Rampal.Photo:INN
ارجن رامپال۔ تصویر:آئی این این

۱۹؍مارچ کو فلم  دُھرندھر۲: دی ریوینج ریلیز ہونے والی ہے، جس میں حمزہ علی یعنی رنویر سنگھ  کا خطرناک ایکشن موڈ اورارجن رامپال  کا خوف پیدا کرنے والا کردار میجر اقبال ناظرین کو ڈرا سکتا ہے۔رحمان ڈکیت کی موت کے بعد ’’دُھرندھر۲‘‘  میں اصل ویلن میجر اقبال ہی ہیں۔ اگرچہ پہلے حصے میں  اکشے کھنہ  نے ویلن کے طور پر جو اثر چھوڑا تھا، وہ بالی ووڈ کے سب سے یادگار کرداروں میں شامل ہو چکا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فلم کے دوسرے حصے میں ارجن رامپال کو بھی وہی مقبولیت مل پائے گی جو اکشے کھنہ کو ایک ہی فلم سے حاصل ہو گئی تھی؟
فلم ہنگامہ میں جیتو ویڈیوکون کا کردار ادا کرنے والے اکشے کھنہ اتنے ہمہ جہت اداکار ثابت ہوں گے، شاید ہی کسی نے سوچا ہو۔ اب تک ان کے کیریئر میں زیادہ تر مزاحیہ کردار رہے یا وہ یک طرفہ محبت میں ڈوبے عاشق کے روپ میں نظر آئے۔ تاہم، جب بھی انہیں گرے شیڈ یا منفی کردار ملے، انہوں نے زبردست اثر چھوڑا۔ اپنے فلمی کیریئر کے پہلے دور میں انہیں فلم ہمراز میں ویلن کے کردار پر کافی سراہا گیا تھا۔
اپنے دوسرے دور میں فلم  چھاوا میں  اورنگ ز یب کے کردار سے بھی انہوں نے ناظرین کی تعریف حاصل کی، لیکن  رحمان ڈکیت کے کردار نے ان کے کیریئر کو ایک نئی بلندی دی۔ اس کردار میں وہ ایک بے خوف گینگسٹر کے طور پر دکھائی دیتے ہیں جو اقتدار اور محبت دونوں کا خواہاں ہے۔ ایک طرف وہ میدان میں دشمنوں کو شکست دیتا ہے تو دوسری طرف گھر میں ایک ذمہ دار باپ اور شوہر کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کردار کے مختلف جذباتی پہلوؤں نے مداحوں کے دل جیت لیے۔

یہ بھی پڑھئے:نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کوچز کو پی ایس ایل ۱۱؍ کے لیے این او سی جاری


دوسری جانب ارجن رامپال کا میجر اقبال نظام کے اندر بیٹھا ایک خاموش اور خطرناک شکاری ہے جو حمزہ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ ’’دُھرندھر۲‘‘ میں میجر اقبال ایسا ویلن ہے جو اقتدار یا پیسے کے لیے نہیں بلکہ ہندوستان  کو تباہ کرنے کی سازش رچتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اقبال، رحمان ڈکیت سے کئی گنا زیادہ خطرناک کردار ہے کیونکہ اس کی درندگی اس کے چہرے پر شکن تک نہیں آنے دیتی۔ اس کے اندر کوئی جذبات نہیں، صرف نفرت بھری ہوئی ہے۔ اداکار نے اس انتہائی منفی کردار کو پوری شدت کے ساتھ پردے پر پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سِنر نے ٹِیئن کو شکست دی، سیمی فائنل میں زیوریو سے مقابلہ ہوگا

ارجن رامپال نے نیل پالش، ڈان، کہانی ۲؍ اور آنکھیں میں کئی گرے شیڈ کردار ادا کیے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی فلم بھی ان کے کیریئر کو وہ بلندی نہیں دے سکی جس کے وہ اتنے برسوں کی محنت کے بعد مستحق تھے۔ ایسے میں اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا اکشے کھنہ کی طرح فلم کے دوسرے حصے میں انہیں بھی بڑی کامیابی ملتی ہے یا پھر رحمان ڈکیت ہی ناظرین کے دلوں پر چھایا رہے گا۔ اس کا جواب جاننے کے لیے ابھی مزید  ۷؍دن انتظار کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK