Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا دہلی روک پائے گی آر سی بی کا راستہ؟

Updated: April 26, 2026, 9:10 PM IST | New Delhi

آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کا میلہ اب اپنے پورے شباب پر ہے، لیکن دہلی کیپٹلز کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ ریکارڈ اسکور بنانے کے باوجود پنجاب کنگز کے خلاف گزشتہ شکست نے دہلی کے کیمپ میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

RCB Batsmen.Photo;X
آر سی بی کے بلے باز۔ تصویر:ایکس

آئی پی ایل  ۲۰۲۶ء کا میلہ اب اپنے پورے شباب پر ہے، لیکن دہلی کیپٹلز کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ ریکارڈ اسکور بنانے کے باوجود پنجاب کنگز کے خلاف گزشتہ شکست نے دہلی کے کیمپ میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب کل، یعنی پیر کے روز، دہلی کا سامنا ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں موجودہ چیمپئن `رائل چیلنجرز بنگلورو سے ہوگا۔اس وقت سب کی نظریں دہلی کے اسٹار بلے باز کے ایل راہل پر ٹکی ہیں۔ راہل اس سیزن میں رن مشین بن کر ابھرے ہیں۔ پنجاب کے خلاف ان کی ۱۵۲؍ رن  کی ناقابلِ شکست اننگز، جو کسی بھی ہندوستانی کھلاڑی کا آئی پی ایل کی تاریخ میں سب سے بڑا اسکور ہے، ان کی زبردست فارم کا ثبوت ہے۔ ۷؍ اننگز میں ۳۵۷؍ رن بنا کر راہل دہلی کی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی بن گئے ہیں، لیکن تنہا راہل کی محنت ٹیم کو جیت دلانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو رہی۔


دہلی کی سب سے بڑی پریشانی ان کی کمزور بولنگ اور خراب فیلڈنگ ہے۔۲۶۴؍ رن  کے پہاڑ جیسے اسکور کا دفاع نہ کر پانا دہلی کے بولنگ اٹیک پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ٹورنامنٹ میں برقرار رہنے کے لیے دہلی کو اپنی کیچنگ  اور ڈیتھ اوورز کی بولنگ میں فوری سدھار کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے:دہلی کے رنوں کے پہاڑ کو پنجاب نے سر کر لیا


دوسری جانب، رائل چیلنجرز بنگلورو کی ٹیم کسی ایک کھلاڑی پر منحصر نہیں ہے۔ وراٹ کوہلی ۳۲۸؍ رن  کے ساتھ ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، تو وہیں کپتان رجت پاٹیدار مڈل آرڈر میں طوفانی بیٹنگ کر رہے ہیں۔ دیودت پڈیکل اور ٹم ڈیوڈ جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی بنگلورو کی بیٹنگ لائن اپ کو انتہائی گہرا اور مضبوط بناتی ہے۔ بھونیشور کمار اور ہیزل ووڈ کی قیادت میں ان کی بولنگ یونٹ بھی وقت پر وکٹ لینے میں ماہر نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’میں ویب شوز اور فلموں کے ذریعہ دوبارہ اپنے کریئر کا آغاز کرنا چاہتا ہوں‘‘


ارون جیٹلی اسٹیڈیم کی پچ عام طور پر بلے بازوں کے حق میں ہوتی ہے، ایسے میں ایک بار پھر یہاں رنوں کا سیلاب آنے کی امید ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس مقابلے میں اکثر بنگلورو کا پلڑا بھاری رہا ہے، لیکن دہلی کو امید ہوگی کہ راہل کا بلا ایک بار پھر چلے اور ٹیم کی فیلڈنگ ان کا ساتھ دے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK