Updated: July 07, 2026, 9:07 PM IST
| London
برطانیہ کے وائلڈ کارڈ کھلاڑی آرتھر فیری نے ومبلڈن میں اپنی شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بلغاریہ کے گریگور دیمتروف کو سنسنی خیز پانچ سیٹوں کے مقابلے میں شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ ان کی اس کامیابی کے بعد برطانوی اخبارات نے بھی انہیں اپنی شہ سرخیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔
برطانیہ کے وائلڈ کارڈ کھلاڑی آرتھر فیری نے ومبلڈن میں اپنی شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بلغاریہ کے گریگور دیمتروف کو سنسنی خیز پانچ سیٹوں کے مقابلے میں شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ ان کی اس کامیابی کے بعد برطانوی اخبارات نے بھی انہیں اپنی شہ سرخیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔
سینٹر کورٹ پر کھیلے گئے تقریباً تین گھنٹے ۵۵؍ منٹ پر محیط پری کوارٹر فائنل میں ۲۳؍ سالہ فیری نے دیمتروف کو۷۔۵، ۳۔۶، ۶۔۴، ۴۔۶، ۶۔۷؍ سے شکست دی۔ یہ مقابلہ ٹینس کے عظیم کھلاڑی راجر فیڈرر نے بھی رائل باکس میں بیٹھ کر دیکھا۔
اس کامیابی کے ساتھ آرتھر فیری اوپن ایرا میں کسی بھی گرینڈ سلیم کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے والے پہلے برطانوی وائلڈ کارڈ کھلاڑی بن گئے جبکہ ومبلڈن کی مردوں کے سنگلز میں آخری ۸؍ کھلاڑیوں تک رسائی کرنے والے مجموعی طور پر پانچویں وائلڈ کارڈ کھلاڑی ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں ۱۱۴؍ویں نمبر پر موجود فیری ۲۰۲۱ء کے بعد کسی بھی گرینڈ سلیم کے کوارٹر فائنل میں پہنچنے والے کم رینکنگ کے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’بریج مین آف انڈیا‘‘ گریش بھردواج کا ۷۶؍ برس کی عمر میں انتقال
اس سال ومبلڈن کے مردوں اور خواتین کے سنگلز مقابلوں میں آرتھر فیری واحد برطانوی کھلاڑی رہ گئے ہیں۔ ان کا بچپن آل انگلینڈ کلب سے محض پانچ منٹ کی دوری پر گزرا، جہاں وہ راجر فیڈرر کے میچ دیکھنے آیا کرتے تھے۔ فتح کے بعد فیری نے فیڈرر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا’’میرے سامنے پہلی قطار میں شاید تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی بیٹھے ہیں۔ ان کی موجودگی میں کھیلنا، شائقین کی حمایت حاصل کرنا اور یہ میچ جیتنا ناقابلِ یقین احساس ہے۔
فرانس میں پیدا ہونے والے آرتھر فیری کے والد لوئک فیری فرانسیسی فٹ بال کلب لوریان کے صدر ہیں، جبکہ ان کی والدہ اولیویا خود بھی ممتاز ٹینس کھلاڑی رہ چکی ہیں اور دو سنگلز ٹائٹل جیتنے کے علاوہ فرنچ اوپن میں بھی شرکت کر چکی ہیں۔فیری کم عمری میں اپنے خاندان کے ساتھ فرانس سے لندن منتقل ہوئے اور ومبلڈن کے علاقے میں تعلیم حاصل کی۔
اس سے قبل وہ تیسرے راؤنڈ میں زیزو برگس کو پانچ سیٹوں کے طویل مقابلے میں شکست دے کر بھی شائقین کی توجہ حاصل کر چکے تھے، جو اس سال کے ومبلڈن کا سب سے طویل میچ رہا۔ ابتدائی دونوں راؤنڈز میں بھی وہ ایک، ایک سیٹ سے پیچھے ہونے کے بعد کامیاب ہوئے تھے، اس لیے دیمتروف کے خلاف بھی دو سیٹوں میں پیچھے ہونے کے باوجود انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔
فیری نے کہاکہ ’’ایک ہفتہ پہلے اگر کوئی کہتا کہ میں یہاں چند میچ جیت لوں گا تو میں خوش ہوتا، لیکن اب کوارٹر فائنل میں پہنچنا کسی خواب سے کم نہیں۔ میں نے مشکل حالات میں صرف لڑنے کا حوصلہ برقرار رکھا اور آج اس کا صلہ مل گیا۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ :آسٹریلوی کھلاڑی ٹیٹی ینگی نے اسلام قبول کر لیا
آل انگلینڈ کلب کے باہر موجود وہ مشہور سبز ٹیلہ، جہاں شائقین بڑی اسکرین پر میچ دیکھتے ہیں اور جو پہلے ہین مین ہل اور بعد میں مرے ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا تھا، اب آرتھر فیری کی شاندار کارکردگی کے بعد ’’آرتھرز سیٹ‘‘ کے نام سے مشہور ہونے لگا ہے۔کوارٹر فائنل میں آرتھر فیری کا مقابلہ فرنچ اوپن کے فائنلسٹ فلاویو کوبولی سے ہوگا اور فاتح کھلاڑی سیمی فائنل میں جگہ بنائے گا۔