ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم ہاکی ورلڈ کپ کے پانچویں اور چھٹی پوزیشن کے پلے آف میں جرمنی کے خلاف میدان میں اترے گی اور ٹورنامنٹ کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرنے کی کوشش کرے گی۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 7:08 PM IST | New Delhi
ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم ہاکی ورلڈ کپ کے پانچویں اور چھٹی پوزیشن کے پلے آف میں جرمنی کے خلاف میدان میں اترے گی اور ٹورنامنٹ کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرنے کی کوشش کرے گی۔
ہندوستانی خواتین ہاکی ٹیم جمعرات کو ہاکی ورلڈ کپ کے پانچویں اور چھٹی پوزیشن کے پلے آف میں جرمنی کے خلاف میدان میں اترے گی اور ٹورنامنٹ کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرنے کی کوشش کرے گی۔ ہندوستان اگر یہ مقابلہ جیت کر پانچویں مقام پر رہتا ہے تو یہ۱۹۷۴ء کے افتتاحی ورلڈ کپ میں حاصل کیے گئے چوتھے مقام کے بعد اس کا بہترین عالمی کپ نتیجہ ہوگا۔ اس سے خواتین ہاکی میں ہندوستان کی عالمی سطح پر پیش رفت بھی ظاہر ہوگی۔ہندوستان نے ٹورنامنٹ میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ میں سے صرف ایک میچ ہارا۔ اس نے پیرس اولمپکس کی سلور میڈلسٹ چین، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف مقابلے ڈرا کیے جبکہ جنوبی افریقہ کو۱۔۶؍گول سے شکست دی۔ واحد شکست دفاعی چیمپئن نیدرلینڈز کے خلاف ہوئی، جس نے ۰۔۲؍گولسے کامیابی حاصل کی۔
𝗢𝗻𝗲 𝗹𝗮𝘀𝘁 𝗯𝗮𝘁𝘁𝗹𝗲. 🇮🇳🔥
— Hockey India (@TheHockeyIndia) August 25, 2026
The Indian Women’s Team is set for its concluding match of the FIH Hockey World Cup Belgium & Netherlands 2026, taking on Germany in the playoff for the 5th/6th position. 🏑🏆
Ready to finish on a historic high! 💪🇮🇳
📺 Star Sports Select 2… pic.twitter.com/LdWgreep46
یہ بھی پڑھئے:اے کے ہنگل فلموں کے سدا بہار ’انکل‘ تھے
جرمنی نے بھی ٹورنامنٹ میں اسکاٹ لینڈ اور امریکہ کو شکست دی۔ دوسرے مرحلے میں اس نے اسپین کو ہرایا، لیکن بلجیم کے ہاتھوں شکست کے بعد اسے بھی تیسری پوزیشن حاصل ہوئی اور پلے آف میں پہنچا۔ ہندوستان کے چیف کوچ شیئرڈ ماریئن نے کہا کہ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار کارکردگی دکھائی اور نیدرلینڈز کے خلاف بھی اچھا مقابلہ کیا۔ ان کے مطابق کھلاڑی بہتر کارکردگی نہ دکھا پانے پر مایوس ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ مزید آگے بڑھنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نیپال: وزیراعظم بالین شاہ کو پارلیمنٹ میں کالا چشمہ پہننے کی اجازت
ہندوستان کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج مواقع کو گول میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کی دفاعی لائن اور گول کیپرز ساویتا اور بیچو دیوی کھرِبَم نے عمدہ کارکردگی دکھائی ہے، جبکہ کپتان سلیمہ ٹیٹے نے پنالٹی کارنر کے دفاع میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ماریئن نے کہا کہ ٹیم پہلے ہی۱۹۷۴ء کے بعد ورلڈ کپ میں اپنی بہترین پوزیشن یقینی بناچکی ہے، لیکن وہ اس سے بھی بہتر نتیجہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔