Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ کپ میں ایران کی جگہ لینے کی تجویز مسترد، اٹلی کا واضح انکار

Updated: April 25, 2026, 7:07 PM IST | Rome

امریکہ کے ایک اہلکار کی جانب سے ایران کی جگہ اٹلی کو آئندہ فیفا ورلڈ کپ میں شامل کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اطالوی حکام نے اسے ’’ناممکن اور غلط خیال‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جبکہ فیفا نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران اب بھی ٹورنامنٹ کا حصہ ہے اور میچز شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

Iranian football team players with a picture of martyred children. Photo: X
ایرانی فٹبال ٹیم کے کھلاڑی شہید بچوں کی تصویر کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

اطالوی حکومت اور کھیلوں کے حکام نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی جگہ اٹلی کو آئندہ فیفا ورلڈ کپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ تجویز امریکی خصوصی ایلچی پاؤلو زمپولی کی جانب سے جیانی انفینٹینو کو دی گئی تھی، جس کی خبریں عالمی میڈیا میں تھیں۔ اطالوی وزیر کھیل اینڈریا ابوڈی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یہ تجویز ’’نہ صرف ممکن نہیں بلکہ ایک اچھا خیال بھی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شامل ہونے کے لیے کھیل کے میدان میں کوالیفائی کرنا ضروری ہے، نہ کہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے پاکستان میں امریکہ سے مذاکرات کی درخواست کی تردید کی

اسی طرح اطالوی اولمپک کمیٹی کے صدر لوسیانو بیونفیجلو نے بھی اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر اٹلی اس طرح ٹورنامنٹ میں شامل ہوتا ہے تو یہ غیر منصفانہ ہوگا۔ اطالوی وزیر خزانہ جیان کارلو جیورجیٹی نے تو اس تجویز کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اٹلی کی قیادت اس معاملے پر مکمل طور پر متفق ہے۔ دوسری جانب فیفا نے بھی تازہ وضاحت میں کہا ہے کہ ایران ورلڈ کپ سے دستبردار نہیں ہوا اور اس کے گروپ میچز منصوبہ بندی کے مطابق لاس اینجلس کے قریب اور سیئٹل میں جون کے دوران کھیلے جائیں گے۔
ایرانی حکومت کے ترجمان نے بھی تازہ بیان میں کہا کہ قومی ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی اور ’’فخر کے ساتھ کامیاب کارکردگی‘‘ دکھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔خیال رہے کہ فیفا نے باضابطہ طور پر دوبارہ تصدیق کی ہے کہ ایران کی شرکت برقرار ہے اور کوئی تبدیلی زیر غور نہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں سیکوریٹی خدشات کے باوجود ٹورنامنٹ کے شیڈول میں فوری تبدیلی کا امکان کم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میں جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا: پوپ لیو نے ایران کی صورتحال کو پیچیدہ قرار دیا

کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تجاویز عالمی کھیلوں کو سیاسی بنانے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں، جسے فیفا روایتی طور پر مسترد کرتا آیا ہے۔ یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی کھیل، خاص طور پر فٹبال جیسے بڑے ایونٹس، کس طرح جغرافیائی سیاست کے اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں ایران کی شرکت برقرار ہے اور اٹلی کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK