سابق ہندوستانی کرکٹر یوراج سنگھ کا کہنا ہےکہ ۲۰۲۷ء وَن ڈے ورلڈ کپ میں کامیابی کیلئے ہندوستان کو ابھی سے اپنی بہترین ٹیم تیار کرکے اسی گروپ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے ، انہوں نےکہا کہ آخری وقت میں بڑی تبدیلیاں ماضی میںٹیم کو نقصان پہنچا چکی ہیں۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 12:17 PM IST | Agency | New Delhi
سابق ہندوستانی کرکٹر یوراج سنگھ کا کہنا ہےکہ ۲۰۲۷ء وَن ڈے ورلڈ کپ میں کامیابی کیلئے ہندوستان کو ابھی سے اپنی بہترین ٹیم تیار کرکے اسی گروپ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے ، انہوں نےکہا کہ آخری وقت میں بڑی تبدیلیاں ماضی میںٹیم کو نقصان پہنچا چکی ہیں۔
سابق ہندوستانی کرکٹر یوراج سنگھ نے کہا ہےکہ ۲۰۲۷ء وَن ڈے ورلڈ کپ میں کامیابی کے لیے ہندوستان کو ابھی سے اپنی بہترین ٹیم تیار کرکے اسی گروپ کے ساتھ مسلسل آگے بڑھنا چاہئے تاکہ کھلاڑیوں کو مناسب تیاری اور میچ پریکٹس کا وقت مل سکے۔۲۰۱۱ءورلڈ کپ فاتح ٹیم کے اہم رکن رہے یوراج سنگھ نے خبردار کیا ہے کہ آخری وقت میں بڑی تبدیلیاں ماضی میں ہندوستان کو نقصان پہنچا چکی ہیں۔یوراج نے کہا کہ اگلے ایک سال میں اسی ٹیم کو تیار کرنے پر توجہ دینی چاہئے اور کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ ون ڈے میچ کھیلنے کا موقع ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اب ۵۰؍ اوور کا کرکٹ کم اورٹی ۲۰؍زیادہ کھیلا جاتا ہے، اس لیے دستیاب ون ڈے میچوں میں کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے کافی وقت میدان پر ملنا ضروری ہے۔یوراج سنگھ کے مطابق بڑے ٹورنامنٹس میں ہندوستان کی مشکلات کے دوران کئی بار آخری وقت یا ٹورنامنٹ کے درمیان بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس لیے جس ٹیم کو۲۰۲۷ء ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت رکھنے والی سمجھا جائے، اس پر اعتماد کرنا اور کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر اس کے ساتھ کھڑے رہنا ضروری ہے۔ ہندوستان کی ورلڈ کپ تیاری۲۷؍ ستمبر سے ویسٹ انڈیز کے خلاف گھریلو ون ڈے سیریز سے شروع ہوگی۔ سلیکٹرز کے سامنے روہت شرما کے بین الاقوامی مستقبل اور تیز گیندبازی آل راؤنڈرز کے انتخاب سمیت کئی سوالات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان نے افغانستان کو ہرادیا، ناقابل تسخیر برتری حاصل
یوراج نے کہا کہ ٹیم کا انتخاب صرف آل راؤنڈرز کی تعداد کی بنیاد پر نہیں بلکہ میچ جتانے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ہونا چاہئے۔ ان کے مطابق بہترین امتزاج میں ۱۲،۱۳؍ یا ۱۴؍ کھلاڑیوں کا بنیادی گروپ ہوسکتا ہے جبکہ ۱۵؍ ویں کھلاڑی کا انتخاب حالات کے مطابق کیا جائے۔ انہوں نے آسٹریلیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کی عالمی کپ فاتح ٹیموں میں کئی ایسے میچ ونرز رہے ہیں جو اپنے دَم پر میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
یوراج نے ہندوستان کو گزشتہ۲؍ ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ کی کامیابیوں سے سبق لینے کا مشورہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ سفید گیند کے کرکٹ میں ہندوستان نے مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب ٹیم کو پہلے سیمی فائنل تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ آخری دو ناک آؤٹ مقابلوں کے لیے بھی تیار رہنا چاہئے۔ ان کے مطابق ابھی ورلڈ کپ دور ہے، اس لیے سب سے اہم کام ایسا گروپ تیار کرنا ہے جو ہر طرح کے حالات میں مقابلہ کرسکے ۔ کینیڈا سپر۶۰؍ لیگ کے بارے میں یوراج نے کہا کہ یہ ٹی ۲۰؍سے بھی تیز فارمیٹ کا دلچسپ ٹورنامنٹ ہے اور کینیڈا میں بڑی تعداد میں آباد پنجابی برادری کو عالمی سطح کے کھلاڑیوں کو براہ راست دیکھنے کا موقع ملے گا۔ یہ لیگ۲۹؍ ستمبر سے۴؍ اکتوبر تک وینکوور میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی لیگز ان خطوں میں کرکٹ کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں جہاں یہ کھیل ابھی زیادہ مقبول نہیں ہے۔ سابق ہندوستانی تیز گیندباز ظہیر خان بھی وینکوور اینکرز ٹیم کے شریک مالک ہیں۔