گروپ بی میں سب کی نظریں اب کمزور بمقابلہ مضبوط جیسے کلاسک مقابلے پر مرکوز ہیں، جب کولمبو کے آر پریم داسا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے تحت زمبابوے کا مقابلہ ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم آسٹریلیا سے ہوگا۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 6:09 PM IST | Columbo
گروپ بی میں سب کی نظریں اب کمزور بمقابلہ مضبوط جیسے کلاسک مقابلے پر مرکوز ہیں، جب کولمبو کے آر پریم داسا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے تحت زمبابوے کا مقابلہ ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم آسٹریلیا سے ہوگا۔
گروپ بی میں سب کی نظریں اب کمزور بمقابلہ مضبوط جیسے کلاسک مقابلے پر مرکوز ہیں، جب جمعہ کے روز یہاں آر پریم داسا انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹی۲۰؍ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے تحت زمبابوے کا مقابلہ ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم آسٹریلیا سے ہوگا۔ آسٹریلیا اس مقابلے میں جیت کے زبردست امکانات اور عالمی برتری کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا زمبابوے اس ایڈیشن کا پہلا بڑا الٹ پھیر کر سکتا ہے؟
سکندر رضا کی ٹیم نے خاموشی سے رفتار حاصل کر لی ہے۔ عمان کے خلاف ان کی ۸؍ وکٹ کی بڑی جیت نے گیند بازی میں نظم و ضبط اور بیٹنگ میں صبر کا مظاہرہ کیا۔ لیکن جمعہ کا مقابلہ بالکل مختلف چیلنج پیش کرتا ہے، ایسی آسٹریلوی ٹیم کا سامنا جس میں پاور ہٹرز، بہترین آل راؤنڈرز اور کولمبو کے حالات کے مطابق مضبوط اسپن اٹیک موجود ہے۔ برائن بینیٹ، جنہوں نے گزشتہ میچ میں ۴۸؍ رنز بنائے، گزشتہ برس مسلسل کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی رہے ہیں اور ٹاپ آرڈر میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر بینیٹ اور تدیواناشے مارومانی نئی گیند کو سنبھال کر مضبوط بنیاد فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو برینڈن ٹیلر، رضا اور ریان برل کی تجربہ کار تین رکنی جوڑی درمیانی اوورز میں اسکور کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ بلیسنگ مزارابانی اور رچرڈ نگاروا نے اپنے گزشتہ میچ میں چھ وکٹیں لے کر شاندار کارکردگی دکھائی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ویبھَو سوریہ ونشی ڈی وائی پاٹل ٹی ۲۰؍ ٹورنامنٹ میں کھیلیں گے
ایسی پچ پر جہاں ابتدا میں سوئنگ اور بعد میں ٹرن ملنے کی توقع ہے، زمبابوے کا پیس اور اسپن کا امتزاج آسٹریلیا کے جارحانہ ٹاپ آرڈر کا امتحان لے سکتا ہے۔ آئرلینڈ کے خلاف کچھ کمزوری دکھانے والے مڈل آرڈر کو بے نقاب کرنے کے لیے ابتدائی وکٹیں حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ تاہم آسٹریلیا اب بھی مضبوط ٹیم ہے۔ جوش انگلس، گلین میکسویل، مارکس اسٹوئنس اور کیمرون گرین کی موجودگی سابق چیمپئن ٹیم کو ایسی گہرائی فراہم کرتی ہے جس کا مقابلہ چند ہی ٹیمیں کر سکتی ہیں۔ ایڈم زمپا اور میتھیو کوہنیمن کی اسپن جوڑی بھی کولمبو کی سست ہوتی پچ کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گھوس خور پنڈت: سپریم کورٹ نے کہا آزادیٔ اظہار کسی طبقے کی توہین کا لائسنس نہیں
پریم داسا کی پچ نے ہمیشہ ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیموں کو فائدہ پہنچایا ہے، گزشتہ دس میں سے آٹھ میچ بعد میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم نے جیتے ہیں۔ میچ کے دن بادل چھائے رہنے کی پیش گوئی ہے، جس سے ابتدائی مراحل میں گیند بازوں کو مزید مدد مل سکتی ہے اور مقابلے میں غیر متوقع عنصر شامل ہو جائے گا۔ زمبابوے کے لیے یہ محض گروپ مرحلے کا میچ نہیں ہے۔ یہ سوچ بدلنے اور خود کو صرف شریک ہونے والی ٹیم کے بجائے حقیقی دعویدار کے طور پر پیش کرنے کا موقع ہے۔ الٹ پھیر ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کی پہچان رہے ہیں اور اس مختصر ترین فارمیٹ میں کسی بھی قسم کی لاپروائی کی گنجائش نہیں ہوتی۔
۔۔۔۔