Inquilab Logo Happiest Places to Work

پریل: کے ای ایم اسپتال میں مریضوں کے ساتھ لاپروائی کا انکشاف

Updated: July 18, 2026, 12:46 PM IST | Parel

ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین نے اچانک دورہ کیا، ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اور مریضوں کے رشتہ داروں کے ساتھ عملے کی بدسلوکی کی انکوائری کا اعلان۔

Municipal Health Committee Chairman Harish Bhandarge visiting KEM Hospital. Photo: INN
میونسپل ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ہریش بھاندرگے کےای ایم اسپتال کا دورہ کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

بی ایم سی ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ہریش بھاندرگے نے  کےای ایم اسپتال کا اچانک دورہ کیا جس کے  دوران انہوں نے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کے ساتھ ہونے والی لاپروائی اور تاخیر، ڈاکٹروں کی عدم موجودگی ، مریضوں اور ان کےرشتہ داروں کے ساتھ عملے کی بدسلوکی وغیرہ کو دیکھ کر حیرت  اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈین سے رابطہ کرکے مذکورہ شکایتیں کیں جس پر ڈین نے کام کے بوجھ کاحوالہ دیا لیکن چیئرمین نے پورے معاملے کی انکوائری کرانے کا اعلان کیا ۔

پریل میں واقع  کے ای ایم اسپتال میں مریضوں کی   خدمت میں لاپروائی کامعاملہ سامنے آیا ہے ۔ بی ایم سی ہیلتھ کمیٹی کے چیئرمین ہریش بھاندرگے نے جب گزشتہ روز نصف شب میں  اسپتال کا اچانک دورہ کیا تو ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کو کافی تاخیر، جگہ پر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اور عوامی نمائندوں سمیت مریضوں کے رشتہ داروں سے بدتمیزی اوربدسلوکی جیسے سنگین معاملات سامنے آئیں۔ چیئرمین نے معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری اورقصورواروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: فرنٹ لائن اسٹاف کو ذہنی تناؤ سے بچانے کیلئے خصوصی سیشن

ہریش بھاندرگے نے کے ای ایم اسپتال کے ڈین ڈاکٹر ہریش پاٹھک سے نصف شب  میں اس بارے میں گفتگو کی جس پر  انہوں نے مریضوں کی بڑھتی  تعداد اور ڈاکٹروں پر بے پناہ دباؤ کا حوالہ دیا جس کے جواب میں ہریش بھاندرگے نےکہا کہ مریضوں کی تعداد  بھلے ہی بڑھ رہی ہے لیکن اس سے انتظامیہ کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس ایسی صورتحال میں زیادہ قابل منصوبہ بندی، مناسب افرادی قوت، موثر انتظامات اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے۔ مریض کی خدمت کسی بھی حالت میں متاثر نہیں ہونی چاہئے ۔

انہوںنے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کا میونسپل اسپتالوں پر بھروسہ ہے اور بروقت اور بہتر علاج حاصل کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK