Inquilab Logo Happiest Places to Work

تھانے: آلودہ پانی کی سپلائی کے خلاف مورچہ

Updated: July 18, 2026, 12:55 PM IST | Thane

سنت گیانیشور نگر کی خواتین ہنڈا اور بوتل میں آلودہ پانی لے کر میونسپل کارپوریشن کے ہیڈکوارٹرز پہنچیں۔ میونسپل کمشنر مسئلہ سن کر حیران ۔

Residents protest with Hondas and placards. (Photo: Inquilab)
مکین ہنڈا اور پلے کارڈز لئے احتجاج کر رہے ہیں۔ (تصویر: انقلاب)

یہاں کے واگلے اسٹیٹ علاقے میں واقع وارڈ نمبر۱۳؍سنت گیانیشور نگر میں کیچڑ اور گندہ پانی سپلائی ہونے سے پریشان  مکینوں نےجمعہ کو تھانے میونسپل کارپوریشن( ٹی ایم سی) کے خلاف آکروش مورچہ نکالا جس میںمورچہ میں بڑی تعداد میں خواتین بوتلوں میں آلودہ پانی کے نمونے اور خالی ہنڈے  لے کر  شریک ہوئیں۔مکینوں نے الزام لگایا کہ لوئس واڑی، ویتی واڑی، سنت گیانیشور نگر، رام چندر نگر اور آس پاس کے علاقوں کے نلوںسے کیچڑ اور بدبودار پانی پچھلے۲۵؍ برس سے آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جینت پاٹل مہایوتی حکومت میں وزیر مالیات ہوں گے؟

مظاہرین کے مطابق پچھلے کئی برس سے ہزوری، لوئس واڑی اور رام چندر نگر کے ساتھ ساتھ گیانیشور نگر کو تقریباً۲۲؍لاکھ ۵۰؍ ہزار لیٹر پانی بی ایم سی کی پائپ لائن کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاہم ہر مانسون میں یہاں کے شہریوں کو آلودہ پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔اس آلودہ پانی سے بچے اور بزرگ شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔الیکشن آنے پر ان سے پانی کی نئی پائپ لائن بچھانے کا وعدہ کیا جاتا ہے، تاہم صورتحال جوں کی توں رہنے پر مقامی لوگ ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جمعہ کو تھانے میونسپل کارپوریشن کے ہیڈکوارٹرز پر شیوسینا (ادھوٹھاکرے) کے مقامی کارپوریٹر شاہجی (گنیش) کھسپے کی قیادت میں کل جماعتی مورچہ نکالا گیا۔  بڑی تعداد میں مظاہرین ہاتھوں میں آلودہ پانی کی بوتلیں اور’’ایک مطالبہ، ہر گھر میں صاف پانی‘‘، ’’صاف پانی دیں اور عوام کا اعتماد جیتیں‘‘کے پلے کارڈز اٹھائے احتجاج میں شامل ہوئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرنٹ لائن اسٹاف کو ذہنی تناؤ سے بچانے کیلئے خصوصی سیشن

میونسپل کمشنر یہ سن کر حیران رہ گئے کہ وارڈ نمبر۱۳؍ کے سنت گیانیشور نگر کے مکینوں کو گندہ پانی پینا پڑتا ہے۔ مظاہرین نےانہیں بتایا کہ اس علاقے میں بغیرصاف کیا گیا  پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس پر انہوں نے تمام مظاہرین کو یقین دلایا کہ یہ مسئلہ بہت سنگین ہے اور وہ اسے فوری طور پر حل کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK