• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں

Updated: January 02, 2026, 6:15 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ناروے کے تین معروف ادیب؛ جارج ویب، یورگن مو اور پیٹر کرسٹین کی شہرہ آفاق کہانی ’’ایسٹ آف دی سن اینڈ ویسٹ آف دی مون‘‘  East O` the Sun and West O` the Moonکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک دور افتادہ وادی میں، جہاں موسم سرما میں سورج کئی کئی دنوں تک نظر نہیں آتا تھا، ایک غریب کسان اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی زندگی محنت، تنگی اور صبر کا مجموعہ تھی۔ اس کے کئی بچے تھے مگر سب سے چھوٹی بیٹی ایسی تھی کہ جیسے قدرت نے اسے خاص توجہ اور محبت سے تراشا ہو۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی، جیسے امید خود اس کی پلکوں تلے سو رہی ہو۔ وہ نرم دل اور فرمانبردار تھی۔ غربت کے باوجود اس کے چہرے پر شکوہ کبھی نظر نہیں آتا تھا۔ 
ایک رات، جب آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا، اور بادل یوں جھکے ہوئے تھے جیسے زمین کو چھو لینا چاہتے ہوں، اور ہوا برف کے ذرات کو کوڑے کی طرح برسا رہی تھی، تبھی دروازے پر بھاری اور خوفناک دستک ہوئی۔ کسان خوفزدہ ہوگیا۔ ڈرتے ڈرتے جب دروازہ کھولا تو اس کا سانس رک گیا۔ 
دروازے پر ایک بہت بڑا سفید ریچھ کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں گہری اور سنجیدہ تھیں، جیسے ان میں صدیوں کے راز سمائے ہوں۔ ریچھ نے انسانی آواز میں کہا، مگر اس آواز میں جنگل کی گونج اور برف کی ٹھنڈک تھی:’’اگر تم اپنی سب سے چھوٹی بیٹی مجھے دے دو، تو میں تمہیں اتنی دولت دوں گا کہ تمہاری غربت ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گی اور اگر تم اپنی بیٹی میرے حوالے نہیں کروگے تو یہ پورا خاندان مَیں چند منٹوں میں ختم کردوں گا۔ ‘‘
یہ سن کر کسان کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کیلئے یہ سوچنا ناقابل برداشت تھا کہ وہ اپنی چھوٹی اور چہیتی بیٹی کو کسی خونخوار جانور کے حوالے کردے۔ 
اس نے کانپتی آواز میں کہا، ’’یہ میرا نہیں، میری بیٹی کا فیصلہ ہونا چاہئے۔ میں اس سے پوچھتا ہوں۔ ‘‘
ریچھ نے اسے ایک رات کی مہلت دی اور لوٹ گیا۔ اس کے جانے کے بعد کسان نے بیٹی کو سب کچھ بتایا تو وہ ساکت رہ گئی۔ اس کے دل میں خوف اتر آیا مگر اس خوف کے نیچے کہیں یہ احساس بھی تھا کہ شاید یہ راستہ کسی بڑے راز کی طرف لے جاتا ہے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بولی:’’ابا جان، اگر میرے جانے سے آپ سب کو آرام مل سکتا ہے، تو میں تیار ہوں۔ خدا جہاں بھی لے جائے، وہیں میری قسمت ہو گی۔ ‘‘
اگلی رات، سفید ریچھ واپس آیا۔ لڑکی نے موٹا گرم لباس پہنا اور ریچھ کی پیٹھ پر بیٹھ گئی، اور یوں وہ دونوں برفیلے جنگلوں، اونچے پہاڑوں اور اندھیری وادیوں سے گزرتے ہوئے ایسے مقام کی طرف روانہ ہوئے جہاں انسانوں کا قدم کم ہی پڑتا تھا۔ 
آخرکار، ایک ایسی جگہ پر، جہاں آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا، وہاں ایک عظیم الشان محل نمودار ہوا۔ اس کی دیواریں اس قدر چمک رہی تھیں کہ جیسے چاندنی سے پتھر بنائے گئے ہوں۔ محل کے اندر قدم رکھتے ہی ٹھنڈک ختم ہو گئی۔ ہر کمرہ گرم تھا، ہر چیز نفیس تھی۔ قیمتی لباس، نرم بستر، اور ایسا کھانا جو بغیر کسی کے ہاتھ لگائے خود میز پر آ جاتا تھا۔ ریچھ نے کہا:’’یہ اب تمہارا گھر ہے۔ یہاں تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی۔ ‘‘
اس محل میں لڑکی کے دن گزرنے لگے۔ مگر رات کا وقت عجیب تھا۔ جب وہ سونے لیٹتی تو کمرہ اندھیرے میں ڈوب جاتا، اور اسے لگتا کوئی اس کے پاس آ لیٹا ہو۔ وہ اسے دیکھ نہیں سکتی تھی مگر اس کی موجودگی میں خوف نہیں، بلکہ ایک عجیب سی تسلی محسوس ہوتی تھی۔ وہ کسی لڑکے کی آواز تھی۔ وہ نرم آواز میں بات کرتا، اس کا خیال رکھتا، مگر ایک بات ہمیشہ دہراتا:’’چراغ کبھی نہ جلانا۔ ‘‘
دن گزرتے گئے۔ محل کی آسائشوں کے باوجود، لڑکی کے دل میں اپنے گھر کی یاد ایک خاموش درد کی طرح رہنے لگی۔ آخرکار اس نے ریچھ سے اجازت مانگی۔ ریچھ نے گہرا سانس لیا، جیسے فیصلہ اس کیلئے آسان نہ ہو:’’تم جا سکتی ہو، مگر ایک بات یاد رکھنا۔ اپنی ماں سے اکیلے میں بات کرنا، مگر اس کے کسی مشورے پر عمل مت کرنا۔ اگر تم نے نافرمانی کی، تو وہ سب کچھ ٹوٹ جائے گا جو ابھی بچا ہوا ہے۔ ‘‘ لڑکی نے شرط مان لی اور اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئی۔ 
جب وہ اپنے والدین کے گھر پہنچی تو سبھی خوشی اور حیرانی میں گھر گئے۔ اس کے کپڑے قیمتی تھے، چہرہ پہلے سے زیادہ نکھرا ہوا، مگر آنکھوں میں ایک انجانا سا سکوت، جیسے وہ کسی راز کے بوجھ تلے دبی ہو۔ اس کا باپ تو اسے دیکھ کر شکر ادا کرتا رہا مگر ماں کی آنکھیں سوالوں سے بھری تھیں۔ وہ اپنی بیٹی کی خوشحالی کو دیکھ کر مطمئن نہ ہو سکی۔ ماں کا دل بار بار یہ سوچ کر کانپ جاتا کہ اس کی بیٹی کے قریب کوئی ان دیکھا وجود ہے۔ 
جب سب سو گئے اور ماں بیٹی اکیلی رہ گئیں، تو ماں نے سرگوشی میں پوچھا:’’بیٹی، سچ سچ بتاؤ وہ کون ہے؟‘‘
لڑکی نے نظریں جھکا لیں اور کہا، ’’ماں ! وہ مجھے کبھی دکھائی نہیں دیتا مگر وہ ظالم نہیں۔ اس کی آواز میں نرمی ہے، اور وہ میری حفاظت کرتا ہے۔ ‘‘ 
ماں نے بے چینی سے کہا:’’یہ ممکن نہیں ! ضرور وہ کوئی بدصورت جادوگر یا وحشی مخلوق ہو گی۔ اگر تم نے آج رات چراغ نہ جلایا، تو شاید سچ کبھی سامنے نہ آئے۔ ‘‘
لڑکی نے ریچھ کی بات یاد کی، مگر ماں کی فکر اور خوف نے اس کے دل میں شک کا بیج بو دیا۔ ماں نے اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی موم بتی تھماتے ہوئے کہا:’’بس ایک نظر دیکھ لینا، بیٹی۔ اور پھر چراغ بجھا دینا۔ ‘‘
لڑکی منوں بوجھ کے ساتھ واپس محل پہنچی۔ رات آئی۔ اندھیرا چھا گیا۔ وہی مانوس قدموں کی آہٹ، وہی نرم آواز۔ وہ بستر پر لیٹتے ہی سوگیا۔ لڑکی نے کانپتے ہاتھوں سے موم بتی جلائی۔ روشنی کی پہلی لہر نے وہ چہرہ دکھا دیا جو اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ ریچھ نہیں تھا۔ وہ ایک خوبصورت شہزادہ تھا جس کے بال سونے کی طرح چمک رہے تھے، اور چہرے پر گہری تھکن اور اداسی لکھی تھی۔ لڑکی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ خوفزدہ نہیں تھی بلکہ وعدہ خلافی کی ندامت کے تحت رو رہی تھی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ تبھی موم بتی کا ایک گرم قطرہ شہزادے کے سینے پر گرا اور وہ چونک کر جاگ گیا۔ 
اس کی آنکھوں میں غصہ نہیں بلکہ درد اور افسوس تھا۔ 
’’تم نے وعدہ خلافی کی، ‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ ’’اگر تم تھوڑا اور صبر کر لیتیں تو میں اس جادو سے ہمیشہ کیلئے آزاد ہو جاتا۔ ‘‘ یہ سنتے ہی لڑکی سسک پڑی۔ 
’’مجھے معاف کر دو۔ مَیں نے خوف کے تحت ایسا کیا۔ ‘‘ شہزادہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا، ’’میں ایک بددعا کا شکار تھا۔ دن میں سفید ریچھ، رات کو انسان۔ اگر تم نے پورا سال چراغ نہ جلایا ہوتا، تو جادو ٹوٹ جاتا۔ اب مجھے مشرقِ آفتاب کے اُس پار، مغربِ ماہ کے اُس پار جانا ہوگا جہاں ایک برفانی ملکہ میرا انتظار کر رہی ہے۔ ‘‘
اس نے جیسے ہی یہ کہا محل لرزنے لگا۔ دیواریں ٹوٹنے لگیں، سونا پتھر بن گیا، اور پل بھر میں سب کچھ غائب ہو گیا۔ لڑکی نے خوف سے آنکھیں بند کرلیں، اور جب اس نے آنکھیں کھولیں تو سب غائب ہوچکا تھا۔ وہ تنہا ایک سرد جنگل میں کھڑی تھی۔ اس کے پاس اب کچھ نہ تھا، سوائے پچھتاوے کے۔ وہ دیر تک وہیں کھڑی رہی۔ زمین اس کے قدموں تلے سخت تھی، آسمان اجنبی، اور دل ایسا خالی جیسے کسی نے اس کے اندر سے روشنی کھینچ لی ہو۔ وہ کچھ دیر آنسو بہاتی رہی۔ 
آخر اس نے اپنے آنسو پونچھے اور خود سے کہا، ’’اگر میں نے وعدہ خلافی کی ہے تو میں وعدہ نبھانے کیلئے سفر کروں گی۔ چاہے دنیا کے آخری کنارے تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ ‘‘ اور پھر وہ چل پڑی۔ نہ اسے راستہ معلوم تھا، نہ منزل۔ بس اتنا جانتی تھی کہ اسے مشرقِ آفتاب کے اُس پار، مغربِ ماہ کے اُس پار جانا ہے، یعنی وہ جگہ جہاں دن اور رات بھی ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ 
چلتے چلتے وہ ایک اندھیری وادی میں پہنچی، جہاں ایک جھوپڑی تھی۔ اس میں ایک بہت بوڑھی عورت بیٹھی تھی، جس کی آنکھیں بے نور تھیں مگر تجربہ اس کے چہرے سے عیاں تھا۔ عورت نے پوچھا، ’’بیٹی، کہاں جا رہی ہو؟‘‘ لڑکی کو ایک غمگسار چاہئے تھا لہٰذا اس نے پوری کہانی بوڑھی عورت کو سنائی۔ 
بوڑھی عورت نے سر ہلایا۔ ’’میں وہ جگہ نہیں جانتی، ‘‘ اس نے کہا، ’’مگر میں تمہیں ایک چیز دے سکتی ہوں۔ ‘‘
اس نے لڑکی کو ایک سنہری سیب دیتے ہوئے کہا، ’’یہ سنبھال کر رکھنا۔ سفر میں تمہارے کام آئے گا۔ اب شمالی ہوا کے پاس جاؤ، شاید وہ تمہاری منزل جانتی ہو۔ ‘‘
لڑکی پھر چل پڑی۔ کئی دنوں کے بعد وہ ایک وسیع میدان میں پہنچی، جہاں ہوائیں چیخ رہی تھیں۔ وہاں شمالی ہوا نے گرجتی ہوئی آواز میں کہا، ’’میں نے دنیا کے کئی کونے دیکھے ہیں مگر اس جگہ کا راستہ مجھے معلوم نہیں۔ شاید مشرقی ہوا یہ جگہ جانتی ہو۔ ‘‘ 
شمالی ہوا نے لڑکی کو اٹھا لیا اور آسمان میں بہت دور تک لے گئی، اور پھر مشرقی ہوا تک پہنچا گیا۔ مگر اس نے کہا کہ ’’میں نے سورج کے قریب تک سفر کیا ہے، مگر وہ مقام میری پہنچ سے باہر ہے۔ مغربی ہوا سے پوچھو۔ ‘‘ مشرقی ہوا لڑکی کو مغربی ہوا تک لے گئی جس نے کہا کہ ’’میں سمندروں کے پار جاتی ہوں مگر اس سے آگے نہیں۔ تم جنوبی ہوا سے مدد لو۔ ‘‘ اور مغربی ہوا لڑکی کو اپنے ساتھ جنوبی ہوا کے ٹھکانے تک لے گئی۔ 
جنوبی ہوا کافی بوڑھی تھی۔ گہری گہری سانسیں یوں لیتی تھی، جیسے صدیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ اس نے لڑکی کو غور سے دیکھا اور کہا، ’’میں وہ جگہ جانتی ہوں۔ مگر وہاں پہنچنے کیلئے تمہیں میری پیٹھ پر سوار ہونا ہو گا، اور شاید میں اب وہاں گئی تو زندہ نہ لوٹ سکوں۔ ‘‘
لڑکی جنوبی ہوا کی پشت پر سوار ہوگئی، اور پھر یہ ہوا اسے اتنی دور لے گئی کہ زمین یاد بن کر رہ گئی۔ آخر وہ ایک برفانی محل کے سامنے اترے جو چاندنی میں چمک رہا تھا۔ لڑکی بلا خوف محل میں داخل ہوگئی اور پھر اس نے شہزادے اور برفانی ملکہ کو دیکھاجس کی آنکھوں میں سرد فتح تھی۔ 
 ملکہ نے ہنستے ہوئے کہا:’’اگر تم اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہو تو تمہیں میرے تین کام کرنے ہوں گے۔ اگر ناکام ہوئیں تو اسے ہمیشہ کیلئے بھول جانا۔ ‘‘ لڑکی نے سر جھکا دیا اور کہا، ’’میں تیار ہوں۔ ‘‘
⸻برفانی محل کے اندر ایسی خاموشی تھی جیسے وقت جم گیا ہو۔ دیواریں شفاف برف کی تھیں، جن میں چاندنی قید تھی۔ ہر قدم پر سردی ہڈیوں میں اترتی جاتی تھی مگر لڑکی کا دل آگ کی طرح جل رہا تھا۔ یہ وعدہ وفا کرنے کی آگ تھی۔ برفانی ملکہ تخت پر بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ اس کی مسکراہٹ میں رحم نہ تھا، صرف آزمائش۔ ’’پہلا کام!‘‘ ملکہ نے کہا۔ ’’رات ہونے سے پہلے تمہیں ان برف کے دانوں میں سے وہ دانے چننے ہیں جو سونے کے ہیں۔ اگر ایک بھی غلطی ہوئی تو سب ختم۔ ‘‘ لڑکی نے برف کے انبار کی طرف دیکھا۔ دانے بے شمار تھے، سب ایک جیسے، سب ٹھنڈے، سب بے جان۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ انگلیاں سن ہو گئیں، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مگر اس نے کام نہ چھوڑا۔ جب وہ تھک کر گرنے ہی والی تھی تو اسے یاد آیا وہ سنہری سیب جو بوڑھی عورت نے دیا تھا۔ جیسے ہی اس نے سیب نکالا، روشنی پھیلی، اور سونے کے دانے خود چمک اٹھے۔ 
اور یوں پہلا کام پورا ہو گیا۔ 
برفانی ملکہ حیران رہ گئی مگر خاموش رہی۔ ’’دوسرا کام، ‘‘ اس نے کہا۔ ’’اس ٹھنڈے تالاب سے وہ چابی نکالو جو تہہ میں ہے۔ مگر یاد رکھو پانی کو چھوتے ہی تمہارا سانس جم جائے گا۔ ‘‘ لڑکی نے پانی میں ہاتھ ڈالا۔ سردی بجلی کی طرح جسم میں دوڑ گئی۔ اسے لگا جیسے دل رک جائے گا۔ اسی لمحے، ہواؤں کی سرگوشی سنائی دی، جنوبی ہوا کی آخری مدد۔ پانی لمحے بھر کیلئے چھٹا، اور چابی اس کے ہاتھ میں آ گئی۔ دوسرا کام بھی مکمل ہو گیا۔ اب ملکہ کا چہرہ سخت ہو چکا تھا۔ 
’’آخری کام، ‘‘ اس نے آہستہ کہا، ’’ان بارہ شہزادوں میں سے تمہیں اپنے شہزادے کو پہچاننا ہو گا۔ ‘‘ سامنے بارہ شہزادے کھڑے تھے، سب ایک جیسے، سب خاموش، سب کی آنکھیں بے جان۔ لڑکی کا دل کانپ گیا۔ وہ ایک ایک کے سامنے گئی، ان کے ہاتھ تھامے، مگر کوئی دھڑکن محسوس نہ ہوئی۔ 
آخر میں وہ اُس کے سامنے رکی جس کے سینے پر موم بتی کا نشان تھا۔ 
اس نے آہستہ سے کہا:’’میں نے تمہیں خوف سے کھویا تھا، اب محبت سے واپس لینے آئی ہوں۔ ‘‘ یہ سنتے ہی شہزادے کی آنکھوں میں زندگی لوٹ آئی۔ 
برفانی ملکہ چیخ اٹھی۔ دیواریں ٹوٹ گئیں، برف پگھل گئی، اور محل کی تاریکی چھٹ گئی۔ اس کی بددعا ہمیشہ کیلئے ختم ہوچکی تھی۔ شہزادہ اب ہمیشہ کیلئے آزاد ہوگیا تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ آزمائش ختم ہو گئی ہے۔ شہزادے نے کہا:’’تم نے وہ کر دکھایا جو ناممکن معلوم ہوتا تھا۔ تم نے وعدہ وفا کیا۔ ‘‘ اور یوں وہ دونوں واپس لوٹے، دنیا میں، روشنی میں، زندگی میں۔ کہتے ہیں انہوں نے جہاں رہائش اختیار کی وہاں سردی کبھی دیر تک نہیں ٹھہری۔ کیونکہ جہاں دلوں میں محبت ہو وہاں برف پگھل جاتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK