• Sat, 10 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: پُراسرار ملکہ، پُر اسرار دُنیا

Updated: January 09, 2026, 5:32 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

یہ کہانی چیک لوک ادب سے تعلق رکھتی ہے، خاص طور پر Český Honza (Sleepy John) کے کردار سے، جو وسطی یورپ کی عوامی کہانیوں میں سادگی، خاموش عقل اور غیر متوقع دانائی کی علامت ہے۔ یہ کسی ایک مصنف کی تحریر نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی لوک داستان ہے۔ یہ کہانی طاقت، راز، آزادی اور اس قیمت کے بارے میں ہے جو انسان اپنی اصل ذات کو دبانے کیلئے ادا کرتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

سلطنت کے نقشے پر یہ علاقہ ایک معمولی دھبہ تھا مگر یہاں کے باشندے ہی جانتے تھے کہ اس زمین میں کتنے راز دفن ہیں۔ یہاں کی ہوا ہمیشہ نم رہتی تھی۔ فضا میں ہر وقت عجیب سی تھکن شامل رہتی تھی۔ گھنے جنگلات اس علاقے کے گرد ایسے لپٹے تھے جیسے کسی زخمی جسم پر پٹیاں، اور پہاڑوں پر اترتی دھند اکثر دن کے وسط میں بھی روشنی کو دھندلا دیتی تھی۔ جنگل کے درمیان کئی ایکڑ رقبے پر پھیلے محل میں دن ترتیب کے غلام تھے۔ ہر گھنٹی وقت پر بجتی۔ ہر دروازہ وقت پر کھلتا اور بند ہوتا۔ ہر شخص کو اپنے شب و روز ازبر تھے۔ محل میں سب سے دلچسپ شخصیت ملکہ کی تھی۔ وہ دن کے وقت بادشاہ کے پہلو میں تخت پر کسی مورت کی طرح بیٹھی رہتی۔ اس کی پشت سیدھی ہوتی۔ ہاتھ خاموشی سے گود میں رکھے ہوتے، اور آنکھوں میں وہ سکون ہوتا جو برسوں کی تربیت، قربانی اور خود کو دبانے سے آتا ہے۔ وہ زیادہ نہیں بولتی تھی مگر جب بولتی تو دربار میں خاموشی چھا جاتی۔ اس کی آواز میں نرمی تھی۔ لیکن اس نرمی کے پیچھے ایک ایسی مضبوطی تھی جس پر سوال نہیں اٹھایا جاتا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ ایک بہترین ملکہ ہے، اور یہ سچ تھا مگر سچ ہمیشہ مکمل نہیں ہوتا۔ 
ہر صبح جب محل کے خادم ملکہ کے کمرے میں داخل ہوتے تو ان کے قدم غیر ارادی طور پر سست پڑ جاتے۔ یہ کوئی ڈر تھا نہ حیرت۔ یہ ان کی عادت بن چکی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ کمرے میں انہیں کیا دیکھنے ملے گا۔ یہ منظر انہیں آہستہ آہستہ اندر سے ختم کررہا تھا۔ ملکہ کے بستر کے پاس قالین پر ترتیب سے بارہ جوڑی جوتیاں رکھی ہوتیں۔ یہ عام نہیں تھیں۔ انہیں شاہی کاریگروں سے خاص طور پر بنوایا جاتا تھا؛ نرم چمڑے اور ریشم سے، جن پر باریک کڑھائی ہوتی۔ ان کے رنگ دن کی روشنی میں منفرد دکھائی دیتے تھے۔ مگر ہر صبح یہ بری حالت میں ملتے۔ ٹوٹے پھوٹے۔ بدرنگ۔ میلے کچیلے۔ ان کے تلے ایسے گھسے ہوتے جیسے کسی نے انہیں پوری رات پتھروں پر گھسیٹا ہو۔ ایڑیاں ٹوٹی ہوتیں، جیسے ان پر حد سے زیادہ وزن پڑا ہو۔ کناروں کی کڑھائی ادھڑی ہوتی۔ ایسا روزانہ ہوتا تھا۔ بارہ جوڑی خوبصورت اور نفیس جوتیاں روزلائی جاتیں اور ہر صبح وہ ادھڑی ہوئی حالت میں ملکہ کے بستر کے پاس پڑی ہوتیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں

خادموں کے درمیان اکثر یہ سوال گردش کرتے؛ کیا ملکہ رات کو کہیں جاتی ہے؟ کیا ملکہ سوتی نہیں ؟ کیا ایک رات میں ملکہ بارہ جوتیاں توڑ دیتی ہے؟ یہ سوال باورچی خانے سے ہوتے ہوئے راہداریوں اور پھر دربار تک پہنچ گئے۔ جب بات بادشاہ تک پہنچی تو اس نے ہنس کر بات ٹال دی۔ ’’شاید وہ نیند میں چلتی ہے۔ ‘‘ بادشاہ نے جیسے خود کویقین دلانے کی کوشش کی۔ مگر بادشاہ عقل مند تھا۔ وہ جانتا تھا کہ نیند میں چلنے سے جوتیاں یوں نہیں ٹوٹتیں۔ دن گزرتے گئے۔ جوتیاں آتی رہیں، ٹوٹتی رہیں۔ اور محل کی دیواروں سے ایک انجانا خوف جھانکنے لگا۔ 
آخرکار ایک دن بادشاہ نے حکم دیا کہ ملکہ کے کمرے پر پہرہ لگایا جائے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ لیکن ایک بادشاہ اس بات کو نظر انداز بھی نہیں کرتا۔ دروازے بند کرکے تالے لگادیئے گئے۔ سپاہی باری باری رات بھر جاگ کر پہرہ دینے لگے۔ لیکن ملکہ نے کوئی سوال کیا نہ احتجاج۔ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ حکم مان لیا۔ مگر اگلی صبح پھر وہی منظر۔ ٹوٹی ہوئی بارہ جوتیاں۔ اب تو سرگوشیوں نے بھی دم توڑ دیا اور محل میں خوف پھیل گیا۔ کوئی کہتا یہ جادو ہے۔ کوئی کہتا کہ بددعا۔ کوئی کہتا یہ اس سلطنت کے نیچے چھپی کسی اور دنیا کی کارستانی ہے۔ بادشاہ نے محسوس کیا کہ اگر اس راز کا پردہ فاش نہیں کیا گیا تو سلطنت اندر سے کھوکھلی ہوجائے گی۔ چنانچہ اس نے اعلان کروایا کہ ’’جو شخص یہ معلوم کرے کہ ملکہ کی جوتیاں کیسے ٹوٹ جاتی ہیں تو اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ ‘‘ اعلان کے بعد محل میں لوگوں کا تانتا لگ گیا۔ بہادر آئے، عقلمند آئے، لالچی آئے، دھوکے باز آئے مگر رات نے کسی کو بخشا نہیں۔ کچھ لوگ صبح تک غائب ہو گئے۔ کچھ چیختے ہوئے جنگل کی طرف بھاگ گئے، اور کچھ کی لاشیں ملیں جن کی بے نور آنکھوں سے عیاں تھا کہ انہوں نے وہ دیکھ لیا ہے جو انسانی آنکھوں کیلئے نہیں بنایا گیا۔ جلد ہی بادشاہ کا پُرکشش اعلان اپنی کشش کھو بیٹھا۔ لوگ محل میں آنے سے ڈرنے لگے۔ 
اسی علاقے میں ’’ہونزا‘‘ نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ طاقتور تھا نہ غیر معمولی طور پر ذہین۔ وہ آہستہ بولتا اور آہستہ چلتا تھا۔ اور اکثر خاموش رہتا تھا۔ لوگ اسے ’’سلیپی جان‘‘ (Sleepy John) کہتے تھے کیونکہ وہ ہر وقت سوتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ مگر اس میں ایک خاص بات تھی۔ وہ چیزوں کو فوراً ردّ نہیں کرتا تھا۔ وہ ہر چیز کا بغور جائزہ لیتا تھا اور پھر اپنی بات کہتا تھا۔ 
ایک رات وہ سڑک کے کنارے بیٹھا تھاکہ ایک بوڑھی عورت پاس آئی۔ اس کے چہرے پر وقت کی لکیریں تھیں اور آنکھوں میں ایسی گہرائی جیسے اس نے بہت سے راز دفن ہوتے دیکھے ہوں۔ ’’تم محل جاؤ گے، ‘‘ اس نے بغیر تعارف کے کہا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ماہی گیر اور اس کی روح

ہونزا نے اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیوں ؟‘‘
عورت نے جواب دیا، ’’کیونکہ ملکہ رات کو وہ بن جاتی ہے جو وہ دن میں نہیں بن سکتی۔ اور کوئی تو ہونا چاہئے جو اس کے بارے میں کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے، صرف اسے دیکھ اور سمجھ سکے۔ ‘‘
اس نے ہونزا کے ہاتھ میں ایک چھوٹی شیشی رکھی۔ 
’’محل میں جو کچھ تمہیں پیش کیا جائے، لینے سے انکار کردینا۔ جو لباس دیا جائے، مت پہننا۔ اور جب رات بدلے تو اس شیشی کو زبان کے نیچے رکھ لینا۔ ‘‘
ہونزا نے کوئی سوال نہیں کیا۔ اور اگلے دن محل پہنچ گیا۔ دربان اسے دیکھ کر مسکرائے۔ ان مسکراہٹوں میں تمسخر نہیں، رحم تھا۔ بادشاہ نے اسے غور سے دیکھا اور پوچھا، ’’تم بہادر ہو؟‘‘ ’’نہیں، ‘‘ ہونزا نے کہا۔ 
’’عقلمند؟‘‘’’شاید نہیں۔ ‘‘’’پھر کیوں آئے ہو؟‘‘
ہونزا نے آہستہ سے جواب دیا، ’’کیونکہ کچھ راز بہادری سے نہیں، خاموش آنکھوں سے کھلتے ہیں۔ ‘‘
بادشاہ اسے دیر تک دیکھتا رہا اور پھر اسے ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ محل میں اسے جو بھی پیش کیا گیا، اس نے سب کچھ لینے سے انکار کردیا۔ اُس رات، جب گھڑی نے بارہ بجایا تو ہونزا ملکہ کے کمرے کے باہر لیٹا تھا۔ محل میں گہری خاموشی تھی۔ ہونزا کی آنکھیں بند تھیں مگر وہ جاگ رہا تھا۔ اس نے بوڑھی عورت کی دی ہوئی شیشی آہستہ سے زبان کے نیچے رکھ لی۔ اس میں ذائقہ نہیں تھا البتہ یہ ٹھنڈی تھی۔ اس کی ٹھنڈک زبان سے اتر کر ہونزا کے ذہن تک پھیل گئی۔ اسے یوں لگا جیسے وقت تھوڑی دیر کیلئے ٹھہر گیا ہو۔ 
ملکہ کے کمرے سے روشنی کی لکیر پھسلتی ہوئی باہر آئی، پھر دھندلا گئی۔ ہونزا نے قدموں کی ہلکی آواز سنی۔ دروازہ نہیں کھلا؛ بلکہ اس کے بستر کے پیچھے دیوار میں جگہ بن گئی جیسے ہمیشہ سے اس کا یہی کام ہو۔ اور ملکہ اس کی جانب چل پڑی۔ ہونزا نے دروازہ ہلکا سا کھول کر یہ سارا منظر دیکھا۔ وہ دن والی ملکہ نہیں تھی۔ اس کے بال کھلے اور کندھوں پر بکھرے تھے۔ اور چہرے پر وہ خاموش وقار نہیں تھا جسے دربار پہچانتا تھا۔ اس کے قدم تیز تھے مگر ان میں گھبراہٹ نہیں تھی۔ 
بستر والی دیوار کے پیچھے ایک تنگ راستہ تھا جو سیڑھیوں سے نیچے جارہا تھا۔ ہونزا بھی ملکہ کے پیچھے چل پڑا۔ سیڑھی گھومتی رہی۔ نہ جانے کتنی دیر ہونزا سیڑھیاں اترتا رہا۔ گنتی کا احساس ختم ہو گیا۔ آخرکار یہ سیڑھیاں ایک کھلے میدان میں ختم ہوئیں جو جنگل کےدرمیان تھا۔ مگر یہ جگہ شاید کسی نے نہیں دیکھی تھی۔ یہاں درخت شیشے جیسے تھے۔ چھالوں سے روشنی پھوٹتی تھی۔ پتے ہلتے تو ہلکی سی جھنکار پیدا ہوتی۔ زمین پر گھاس نہیں نرم راکھ تھی جن پرقدموں کے نشان بنتے اور پھر ہوا چلنے پر مٹ جاتے تھے۔ ملکہ کی رفتار تیز ہوگئی۔ ہونزا اس کے پیچھے رہا۔ اس نے محسوس کیا کہ یہاں نہ سردی تھی نہ گرمی۔ ایک مستقل درجہ حرارت جیسے اس جگہ سب کچھ ٹھہر سا گیا ہو۔ کہیں کہیں چھوٹے نالے بہہ رہے تھے مگر ان کا پانی نیچے کے بجائے اوپر کی جانب بہہ رہا تھا جیسے کسی نے کششِ ثقل کو الٹا کر دیا ہو۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: برف کی ملکہ

جنگل کے بیچ ایک خاموش سیاہ محل تھا۔ جیسے ہی ملکہ قریب پہنچی، دیوار نے ایک دہانہ بنایا۔ اور یوں محسوس ہوا جیسے اندر کوئی سانس لے رہا ہو۔ ملکہ اندر داخل ہو گئی۔ جب ہونزا نے اس کے پیچھے قدم رکھا تو اس کے کانوں میں موسیقی ابھری۔ یہ آواز نہیں تھی؛ یہ تال تھی۔ ہال وسیع تھا مگر اس کی چھت نظر نہیں آرہی تھی۔ ستون تھے، مگر ہوا میں معلق۔ ہال کے درمیان عجیب و غریب مخلوقات رقص کررہی تھیں۔ وہ انسان نہیں تھے، نہ فرشتے تھے، نہ شیاطین، نہ جن۔ ان کے چہرے تیزی سے بدلتے تھے۔ کبھی ہنسی، کبھی اداسی، کبھی صرف خاموشی۔ 
ملکہ نے یہاں آ کر تاج اتار دیا، غصے سے نہ نفرت سے۔ اسے سادگی سے یوں رکھا جیسے وہ کوئی بوجھ ہو۔ اس نے اپنی جوتیاں درست کیں۔ 
پھر رقص کا پہلا دور شروع ہوا۔ 
ملکہ ہال کے وسط میں رقص کررہی تھی۔ ہر گردش کے ساتھ اس کی آنکھوں میں چمک آتی، مگر وہ خوشی کی چمک تھی نہ غم کی، وہ چمک زندگی کی تھی۔ جیسے وہ کسی ایسی جگہ پہنچی ہو جہاں اسے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ پھر رقص کا دوسرا دور شروع ہوا۔ یہ پہلے والے سے زیادہ تیز تھا۔ مخلوقات نے دائرہ بنا لیا۔ موسیقی تیز ہوگئی۔ ہونزا نے محسوس کیا کہ اس کے اپنے قدم ہلکے ہو رہےہیں مگر اس نے خود کو یاد دلایا کہ وہ رقص میں شامل ہونے کیلئے نہیں آیا ہے۔ پھر رقص کا تیسرا دور۔ چوتھا دور۔ پانچواں دور۔ ہر دور پہلے سے پُرجوش اور تیز۔ ہر دور کے بعد ملکہ جوتیاں بدلتی اور ہر جوتی رقص کے آخر تک گھستی چلی جاتی۔ ہونزا نے دیکھا کہ ملکہ کے چہرے پر پسینہ نہیں تھکن تھی۔ ایسی تھکن جو کسی نے خوشی سے قبول کی ہو۔ 
رقص کے چھٹے دور پر اس کا سانس پھولنے لگا۔ ساتویں پر اس کے بال بکھر گئے۔ آٹھویں پر اس کی آنکھوں میں آنسو چمکے مگر چھلکے نہیں۔ نویں پر اس نے ہنس کر پاس گھومتی ہوئی ایک مخلوق کو اپنا ہاتھ سونپ دیا۔ دسویں پر زمین میں ارتعاش پیدا ہونے لگا، جیسے اسے بھی معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے۔ گیارھویں دور پر ہونزا نے محسوس کیا کہ ہال کی چھت ذرا سی جھک گئی ہے۔ موسیقی اب تیز نہیں گہری تھی۔ جیسے دل کے کہیں نیچے بج رہی ہو۔ ملکہ کے قدم اب تیز نہیں تھے، ٹھہر ٹھہر کر زمین پر پڑ رہے تھے۔ بارہواں دور شروع ہوا تو موسیقی معدوم ہوتی محسوس ہوئی۔ مخلوقات نے اپنا رقص روک دیا۔ اب صرف ملکہ رقص کررہی تھی۔ ہر قدم ہلکا، آہستہ اور محتاط جیسے اب الوداع کہہ رہی ہو۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ 
ہونزا نے دیکھا کہ اس کی تمام جوتیاں اب ختم ہوگئی ہیں۔ سبھی کے ریشم پھٹ چکے تھے۔ تلا کاغذ سا ہو گیا تھا۔ مگر وہ ناچتی رہی۔ جب بارہواں دور ختم ہوا تو روشنی مدھم پڑ گئی۔ ہال پیچھے ہٹنے لگا، جیسے دور جارہا ہو۔ مخلوقات تحلیل ہونے لگیں۔ ملکہ رُک گئی۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔ اور اس کی نظر پہلی بار ہونزا پر پڑی۔ لیکن اس نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے بس سر ہلایاجیسے پوچھ رہی ہو؛ دیکھ لیا؟ واپسی کا راستہ خود بن گیا۔ جنگل خاموش تھا۔ درختوں کی جھنکار مدھم۔ نالوں کی الٹی روانی آہستہ۔ سیڑھی اب بھی وہی تھی۔ اوپر پہنچ کر دیوار بند ہو گئی۔ محل کی گھنٹیاں بجیں۔ صبح کی پہلی روشنی آئی۔ خادم داخل ہوئے۔ بارہ جوڑی جوتیاں بری حالت میں اپنی جگہ پڑی تھیں۔ ہونزا نے سب دیکھا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ دیکھنا اور کہنا ایک جیسا نہیں ہوتا۔ 
اسے دربار میں بلایا گیا۔ 
بادشاہ نے پوچھا، ’’کیا معلوم ہوا؟‘‘
ہونزا نے جواب دیا، ’’ملکہ وہاں جاتی ہے جہاں اس سے سوال نہیں پوچھے جاتے۔ ‘‘
بادشاہ نے دوبارہ پوچھا، ’’کس کے ساتھ جاتی ہے؟‘‘ ’’اپنے آپ کے ساتھ، ‘‘ہونزا نے کہا۔ 
دربار میں خاموشی پھیل گئی۔ 
ملکہ نے نظریں جھکا لیں۔ کچھ دیر بعد بادشاہ نے کہا، ’’میں نے ایک ملکہ مانگی تھی۔ میں بھول گیا کہ وہ ایک انسان بھی ہے۔ ‘‘ 
ہونزا سے سارا ماجرا سن لینے کے بعد اس نے حکم دیا کہ سیڑھی بند کر دی جائے، اسے توڑا نہ جائے۔ تالے لگائے جائیں مگر دیوار نہ گرائی جائے۔ 
ہونزا محل سے لوٹ آیا۔ لوگ اسے اب بھی ’’سلیپی جان‘‘ کہتے تھے۔ مگر وہ جانتا تھا کہ نیند ہمیشہ آنکھوں میں نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ دنیا پر طاری ہوتی ہے جبکہ جاگنا چند لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ 
بوڑھی عورت نے ہونزا کو جو شیشی دی تھی، وہ دراصل اسے فریب سے محفوظ رکھنے، نیند اور جاگنے کے بیچ کی دنیا میں ہوش میں رہنے، اور رقص کا حصہ بننے کے بجائے مشاہدہ کرنے والا بنانے کیلئے تھی۔ جب ہونزا نے شیشی زبان کے نیچے رکھی تو اسے لگا وقت جیسے رک گیا ہو، اس کا ذہن صاف ہو گیا، وہ رقص، موسیقی اور مخلوقات کے اثر میں نہیں آیا۔ رقص کے ایک دور میں اس کے قدم ہلکے ہوئے مگر وہ اس میں شامل نہیں ہوا۔ اگر ہونزا زبان کے نیچے شیشی نہ رکھتا تو وہ بھی باقی لوگوں کی طرح یا تو غائب ہو جاتا، یا اس دنیا کا حصہ بن جاتا، یا وہ دیکھ لیتا جو انسانی آنکھ کیلئے نہیں بنایا گیا۔ شیشی نے اسے ہر قسم کے فریب سے محفوظ رکھا۔ 
بادشاہ کے فیصلے کے بعد محل میں سکون نہیں آیا؛ صرف ہر جگہ خاموشی چھا گئی۔ اس دن کے بعد سے ملکہ پہلے جیسی نہیں رہی۔ دن میں وہ تخت پر بیٹھتی، فیصلے سناتی، درباریوں کی باتیں سنتی اور فرمان جاری کرتی۔ مگر جو لوگ اسے برسوں سے دیکھتے آئے تھے، وہ فرق محسوس کرنے لگے۔ ملکہ کی نگاہوں میں وہ طاقت نہیں رہی تھی۔ وہ بات سنتے ہوئے کہیں کھوجاتی تھی۔ خادموں نے دیکھا کہ اب وہ محل کی لمبی راہداریوں میں چلتے ہوئے رک جاتی ہے، جیسے کسی موڑ پر اسے یاد آتا ہو کہ یہاں کبھی کوئی اور راستہ بھی تھا۔ کبھی وہ کھڑکیوں کے پاس دیر تک کھڑی رہتی، نیچے باغ کو دیکھتی اور پھر یوں پلٹ آتی جیسے اس نے خود کو کسی سوال سے بچا لیا ہو۔ جوتیاں اب بھی بنوائی جاتی تھیں۔ ریشمی، نفیس اور شاہی۔ لیکن اب وہ تباہ نہیں ہوتی تھیں۔ اور یہی بات سب سے زیادہ خوفناک تھی کیونکہ تباہی اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ کچھ ہو رہا ہے۔ جب نشانیاں غائب ہو جائیں تو یہ مان لینا پڑتا ہے کہ اندر ہی اندر کچھ ختم ہو رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ہینسل اور گریٹل

بادشاہ نے بھی یہ فرق محسوس کیا۔ ایک رات اس نے ملکہ سے پوچھ ہی لیا، ’’تم ٹھیک ہو؟‘‘
سوال سادہ تھا، مگر اس کے پیچھے خوف تھا۔ وہ خوف جو بادشاہوں کو کمزور بنا دیتا ہے کہ کہیں یہ فیصلہ غلط تو نہیں تھا؟ ملکہ نے آہستہ سے کہا، ’’ زندہ ہوں۔ ‘‘
بادشاہ نے راحت کا سانس لیا۔ مگر وہ یہ نہیں سمجھ سکا کہ زندہ ہونا اور جینے میں فرق ہے۔ اُس رات ملکہ دیر تک جاگتی رہی۔ کمرہ خاموش تھا۔ پردے لگے ہوئے تھے۔ اس نے اپنی جوتیوں کی طرف دیکھا، اور انہیں اپنے سینے سے لگا لیا۔ پھر اگلی صبح وہ شدید بیمار ہوگئی۔ بڑے بڑے طبیب آئے مگر بیماری کا پتہ نہیں لگا سکے۔ محل کے باہر باتیں پھیلنے لگیں کہ ملکہ بیمار ہے۔ اس پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔ بادشاہ نے اس کی روح قید کر لی ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ 
سلطنت اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ ایک دن ملکہ نے بادشاہ سے کہا، ’’مَیں مرنے سے پہلے ایک بار وہاں جانا چاہتی ہوں، آخری بار۔ ‘‘ اس کی آنکھوں میں التجا تھی۔ بادشاہ بیمار ملکہ کی خواہش کے آگے نرم پڑگیا۔ 
ایک شام ہونزا سڑک کے کنارے بیٹھا تھا، جب ایک سپاہی آیا۔ ’’بادشاہ نے بلایا ہے، ‘‘ اس نے کہا۔ ہونزا نے سوال نہیں کیا۔ اس کے ساتھ محل کی طرف چل پڑا۔ دربار کی فضا بدلی ہوئی تھی۔ بادشاہ تخت پر بیٹھا تھا لیکن اس میں وہ مضبوطی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ 
بادشاہ نے جب ہونزا کو یہ بات بتائی تو اس نے کہا، ’’ملکہ کو تخت و تاج خوشی نہیں دیتے۔ وہ زمین کے نیچے والی دنیا میں خوش ہوتی ہے۔ اس دنیا میں جہاں ندیاں الٹی بہتی ہیں۔ جہاں اسے کسی کے سامنے جواب نہیں دینا پڑتا۔ وہ بس خوشی سے رقص کرتی ہے جیسے یہی اس کی زندگی کا مقصد ہو لیکن اگر وہ اس مرتبہ وہاں جائے تو شاید پھر کبھی نہ لوٹے۔ ‘‘ بادشاہ نے مایوسی کے عالم میں کہا، ’’اگر ملکہ کی خوشی اسی دنیا میں ہے تو یہی سہی۔ ‘‘ 
دیوار کے تالے توڑ دیئے گئے۔ رات کا بارہ بجا، اور دیوار کھل گئی۔ بیمار ملکہ یوں اٹھ کھڑی ہوئی، جیسے ہمیشہ سے صحتمند تھی۔ اس نے جوتیوں کی بارہ جوڑیاں ساتھ لیں، بادشاہ کو ایک نظر دیکھا جیسے اسے پہچانتی ہی نہ ہو، پھر ہونزا کو دیکھا۔ ملکہ کی آنکھوں میں ہونزا کیلئے اظہارِ تشکر تھا۔ اور خاموشی سے دراڑ میں داخل ہوگئی۔ ملکہ کے اندر جاتے ہی دیوار ہمیشہ کیلئے بند ہوگئی۔ 
کہتے ہیں کہ وہ سال کی سب سے روشن رات تھی۔ سال کی آخری رات۔ یورپ میں کہا جاتا ہے کہ آج بھی اگر سال کی آخری رات کوئی اپنا کان زمین سے لگائے تو ہلکی تال گونجتی محسوس ہوتی ہے۔ مگر اسے سننے کیلئے کان نہیں، دل چاہئے۔ جو دل اسے سن لے، وہ خوشی سے جھوم اٹھتا ہے۔ ہونزا کے ساتھ کیا ہوا؟
ہونزا کا نام اب کتابوں میں نہیں ملتا۔ کوئی کہتا کہ وہ بوڑھا ہو کر مر گیا۔ کوئی کہتا کہ وہ کہیں اور کہانی بن گیا ہے۔ سچ یہ تھا کہ ہونزا اس دنیا میں چلا گیا تھا جہاں اچھے لوگ اپنا کام مکمل کرلینے کے بعد چلے جاتے ہیں۔ 
اور وہ بوڑھی عورت کون تھی؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ کبھی کبھی سردیوں کی شام میں تاریک سڑکوں پر روشنی بکھیرتی نظر آتی ہے۔ جو لوگ راز سمجھ جاتے ہیں وہ شور نہیں کرتے بلکہ کہانی بن جاتے ہیں۔ اور کہانیاں کبھی نہیں مرتیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK