• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی اور گوبلن

Updated: January 16, 2026, 6:09 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

اسکاٹ لینڈ کے معروف ادیب جارج میکڈونالڈ کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی پرنسیس اینڈ دی گوبلن‘‘ The Princess and the Goblinکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

کسی زمانے میں ایک وسیع و عریض سلطنت تھی جس کی سرحدیں اونچے سیاہ پہاڑوں سے جا ملتی تھیں، ایسے پہاڑ جو دن کے وقت بھی سایوں میں لپٹے رہتے اور جن کے بارے میں عام لوگ کم ہی بات کرنا پسند کرتے تھے۔ انہی پہاڑوں کے دامن میں ایک پرانا مگر شاندار محل تھا جس کی دیواروں نے صدیوں کی ہوا، خاموشی اور راز اپنے اندر جذب کر رکھے تھے، اور جن پر وقت کے نشانات صاف دکھائی دیتے تھے۔ اسی محل میں ایک ننھی سی شہزادی رہتی تھی جس کا نام آئرین تھا۔ آئرین کی عمر زیادہ نہ تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایسی سنجیدگی تھی جو عمر سے پہلے آ جاتی ہے، شاید اس لئے کہ تنہائی انسان کو جلد بڑا کر دیتی ہے۔ وہ اکیلی رہتی تھی کیونکہ اس کے والد، یعنی بادشاہ، اکثر جنگوں اور ریاستی امور میں مصروف رہتے تھے، اور اس کی ماں بہت پہلے دنیا سے رخصت ہو چکی تھی، جس کی یادیں محل کے کمروں میں اب بھی بکھری محسوس ہوتی تھیں۔ محل کے کمرے بڑے مگر خالی تھے۔ راہداریوں میں قدموں کی آواز دیر تک گونجتی، اور کھڑکیوں سے پہاڑ ایسے دکھائی دیتے جیسے خاموش پہرے دار ہوں، جو نہ صرف محل کی حفاظت کرتے ہوں بلکہ اس پر نظر بھی رکھتے ہوں۔ انہی پہاڑوں کے اندر، بہت گہرائی میں، گوبلن (عجیب و غریب اور ڈراؤنی شکل کے بونے) رہتے تھے، جن کا وجود محل کی خاموشی کے پیچھے چھپا ہوا خطرہ تھا۔
کہتے ہیں کہ یہ گوبلن کبھی انسان تھے، مگر لالچ، نفرت اور زمین کے اندھیرے نے ان کی شکلیں بگاڑ دی تھیں، اور وہ آہستہ آہستہ انسانیت سے دور ہوتے گئے تھے۔ ان کے جسم بدصورت، آنکھیں تنگ، اور دل سخت ہو چکے تھے، اور وہ اپنے بگاڑ کو طاقت سمجھنے لگے تھے۔ وہ سورج کی روشنی سے نفرت کرتے تھے، کیونکہ روشنی انہیں اپنے اصل کی یاد دلاتی تھی۔ وہ دن کے وقت زیرِ زمین رہتے تھے جہاں اندھیرا ان کا ساتھی تھا۔ رات کو وہ نکلتے، سرنگوں، غاروں اور ٹوٹی چٹانوں کے راستے، اور انسانوں کے گھروں کے قریب منڈلاتے، انہیں پریشان کرتے مگر ہمیشہ چھپ کر۔ شہزادی آئرین کو ان کے بارے میں بتایا گیا تھا، دایہ اور خادمائیں اسے خبردار کرتی تھیں کہ پہاڑوں کے قریب نہ جانا، مگر اس نے کبھی انہیں دیکھا نہیں تھا۔ اس کیلئے وہ صرف ایک خوفناک کہانی تھے، ایسی کہانی جو بڑوں کی ڈانٹ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ ایک دن، جب محل کے معمر خادم کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے اور محل غیر معمولی طور پر خاموش تھا، آئرین اکیلی تھی۔ بارش ہو رہی تھی، اور پہاڑوں پر دھند اتنی گہری تھی کہ راستے گم ہو گئے تھے، حتیٰ کہ محل کے صحن سے باہر کا منظر بھی اجنبی لگ رہا تھا۔ بوریت اور تجسس نے، جو اکثر تنہا بچوں کا مقدر ہوتا ہے، اسے محل کے اندر بھٹکنے پر مجبور کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: پُراسرار ملکہ، پُر اسرار دُنیا

وہ سیڑھیاں چڑھتی گئی، اوپر، اور اوپر، ان حصوں میں جہاں عام طور پر اسے جانے کی اجازت نہ تھی، یہاں تک کہ وہ ایک ایسے دروازے کے سامنے آ کھڑی ہوئی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، حالانکہ وہ سمجھتی تھی کہ محل کا ہر کونا جانتی ہے۔ دروازہ آہستہ سے کھلا، جیسے کوئی اس کا انتظار کررہا ہو۔ اندر ایک کمرہ تھا، سادہ، خاموش، اور نرم روشنی سے بھرا ہوا، ایسی روشنی جو کسی چراغ یا کھڑکی سے نہیں آ رہی تھی۔ کمرے کے بیچ ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی، سفید لباس میں، چہرہ نورانی، اور آنکھوں میں ایسی گہرائی جیسے وہ وقت سے پَرے ہو اور صدیوں کو ایک ساتھ دیکھ سکتی ہو۔ آئرین ڈر گئی، مگر عجیب بات یہ تھی کہ خوف جلد ہی سکون میں بدل گیا، جیسے کسی مانوس یاد نے اسے تھام لیا ہو۔ بوڑھی عورت نے مسکرا کر کہا: ’’آؤ، بیٹی۔ میں تمہاری نانی ہوں۔‘‘ آئرین نے حیرت سے پوچھا: ’’مگر نانی تو بہت پہلے گزر چکی ہیں۔‘‘ بوڑھی عورت نے آہستہ جواب دیا: ’’میں وہ ہوں جو ضرورت کے وقت آتی ہے، اور صرف انہیں دکھائی دیتی ہے جو دل سے دیکھتے ہیں، آنکھوں سے نہیں۔‘‘ اس نے آئرین کو اپنے پاس بٹھایا، اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا، اور ایک چاندی کے دھاگے کی انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنا دی، جس کا دھاگا باریک مگر مضبوط تھا، جیسے کسی پوشیدہ وعدے کی علامت۔
’’یہ دھاگا تمہیں راستہ دکھائے گا،‘‘ اس نے کہا، ’’جب اندھیرا گہرا ہو، جب عقل جواب دے دے، تو اس پر بھروسہ کرنا، آنکھوں پر نہیں، دل پر۔‘‘ آئرین کچھ نہ سمجھ سکی، کیونکہ بچے اکثر حفاظت کے معنی بعد میں سمجھتے ہیں، مگر دل نے بات مان لی۔ 
اسی رات، پہاڑوں کے اندر، گوبلن جمع ہو رہے تھے، اپنی گہری سرنگوں میں، جہاں انسانی قدم کبھی نہیں پہنچے تھے۔ وہ سرگوشیوں میں ایک منصوبہ بنا رہے تھے، ایک منصوبہ جو برسوں کی نفرت میں پل رہا تھا، ایک منصوبہ جس کا مرکز محل تھا، اور ایک ننھی شہزادی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں

محل سے کچھ فاصلے پر، پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جو محل کی شان سے بالکل مختلف تھا۔ وہاں پتھر، مٹی اور محنت کی بو بسی رہتی تھی، اور زندگی سادہ مگر سخت تھی۔ اسی گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کا نام کرڈی تھا۔ کرڈی ایک کان کن کا بیٹا تھا، اور اس نے بچپن ہی سے اندھیرے میں کام کرنا سیکھ لیا تھا۔ اس کے ہاتھ ہمیشہ گرد آلود رہتے مگر آنکھیں صاف اور روشن تھیں کیونکہ وہ چیزوں کو جیسی ہیں ویسا دیکھنے کا عادی تھا۔ وہ دن بھر پہاڑ کے اندر سرنگوں میں کام کرتا، جہاں اندھیرا، نمی اور خاموشی انسان کو اپنے اندر کھینچ لیتی ہے، اور جہاں معمولی غلطی جان لے سکتی ہے۔ وہیں، انہی سرنگوں میں، اس نے پہلی بار گوبلنوں کو دیکھا۔ وہ انسانوں جیسے تو تھے مگر بگڑے ہوئے، ان کے جسم ٹیڑھے، بازو غیر متوازن، اور چہروں پر نفرت۔ ان کے قدموں کی آہٹ خاموش تھی، اور آوازیں ایسی لگتیں جیسے پتھر آپس میں رگڑ کھا رہے ہوں۔ کرڈی چھپ گیا، کیونکہ اس نے سیکھ لیا تھا کہ پہاڑ میں پہلے سننا، پھر بولنا ہوتا ہے۔ اس نے سنا۔ گوبلن سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے، محل کے بارے میں، بادشاہ کے بارے میں، اور شہزادی آئرین کے بارے میں، جس کا نام وہ طنز سے لیتے تھے۔ ’’ہم سرنگ کھودیں گے،‘‘ ایک گوبلن بولا، ’’محل کی بنیادیں کمزور کریں گے، اور جب وقت آئے گا، سب کچھ زمین میں سما جائے گا، جیسے ہمیں کبھی اوپر کی دنیا سے نکالا گیا تھا۔‘‘
کرڈی کا دل دہل گیا، کیونکہ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ صرف کہانیاں نہیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ بات کسی کو بتانی ہو گی، چاہے کوئی اس پر یقین کرے یا نہ کرے۔ اسی شام، بارش میں بھیگتا ہوا، وہ محل کی طرف روانہ ہوا، راستے میں کئی بار رک کر پیچھے دیکھا، مگر قدم نہ روکے۔ دروازے پر پہرے داروں نے پہلے تو اسے روکنا چاہا، کیونکہ ایک گرد آلود لڑکا محل کے دروازے پر عجیب لگتا تھا، مگر اس کی گھبرائی ہوئی آنکھوں میں سچائی تھی۔ محل کے اندر، آئرین کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی۔ پہاڑوں کی طرف دیکھ رہی تھی، جیسے کسی انجانے خطرے کو محسوس کر رہی ہو، حالانکہ وہ اس احساس کو لفظوں میں نہیں ڈھال سکتی تھی۔ جب کرڈی کو اس کے سامنے لایا گیا، تو وہ جھکا، مگر نظریں نہیں جھکائیں، کیونکہ سچ بولنے والا نظریں نہیں چرا سکتا۔’’شہزادی،‘‘ اس نے کہا، ’’پہاڑ کے اندر کچھ برا پل رہا ہے۔ گوبلن محل کو گرانا چاہتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ماہی گیر اور اس کی روح

آئرین نے اسے غور سے دیکھا، اس کی باتوں میں خوف ضرور تھا، مگر جھوٹ نہیں۔ اُس لمحے، اسے اپنی نانی یاد آ گئی، اور وہ چاندی کا دھاگا، جو اس کی انگلی میں خاموشی سے موجود تھا۔ ’’میں تم پر یقین کرتی ہوں،‘‘ اس نے کہا، ’’کیونکہ سچ ہمیشہ خوف کے ساتھ آتا ہے، اور جھوٹ ہمیشہ آسان لگتا ہے۔‘‘
اسی رات، پہاڑ کے اندر، گوبلنوں نے جشن منایا، کیونکہ سرنگیں تقریباً مکمل ہو چکی تھیں۔ وہ ناچ رہے تھے، بدصورت، بے ترتیب ناچ، اور گاتے جا رہے تھے: ’’اندھیرا ہمارا ہے، زمین ہماری ماں ہے، جو اوپر رہتے ہیں، وہ جلد ہمارے ہوں گے۔‘‘ مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ روشنی ہمیشہ اوپر سے نہیں آتی، کبھی کبھی وہ دل کے یقین سے جنم لیتی ہے، اور ایسی روشنی کو اندھیرا نگل نہیں سکتا۔ اگلے دن، آئرین پھر اس خفیہ کمرے میں گئی، اس بار ڈرے بغیر بلکہ کسی پرانے وعدے کی طرح۔ نانی وہیں موجود تھیں، جیسے کبھی گئی ہی نہ ہوں۔ ’’خطرہ قریب ہے،‘‘ آئرین نے کہا، کیونکہ اب وہ بچوں سے زیادہ سمجھنے لگی تھی۔ بوڑھی عورت نے دھاگے کو آہستہ سے تھاما، جیسے کسی زندہ چیز کو۔’’جب وقت آئے، تو اسے چھوڑنا مت۔ چاہے راستہ تمہیں ناممکن لگے، کیونکہ بعض راستے آنکھوں سے نہیں دکھتے۔‘‘ اسی لمحے، پہاڑ کے اندر، ایک سرنگ آخری دیوار کے قریب پہنچ چکی تھی، اور گوبلنوں کی بے صبری بڑھتی جا رہی تھی۔ رات ہونے والی تھی۔ رات نے پہاڑوں کو اپنی سیاہ چادر میں لپیٹ لیا تھا۔ محل کی کھڑکیوں میں چراغ جل رہے تھے مگر ان کی روشنی پہاڑ کے سینے میں چھپے خطرے تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ اسی رات، زمین کے نیچے، گوبلنوں نے اپنا کام تیز کر دیا۔ ان کے اوزار پتھر میں دھنس رہے تھے، سرنگیں پھیلتی جا رہی تھیں، اور ہر ضرب کے ساتھ محل کی بنیادیں کمزور ہو رہی تھیں۔ وہ ہنستے تھے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ انسان اندھیرے کو سمجھ نہیں سکتے، اور یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
اچانک، زمین ہلکی سی لرزی، جیسے کسی نے محل کو جگایا ہو۔ محل کے ایک کمرے میں آئرین چونک کر اٹھ بیٹھی۔ اس کے دل میں بے نام سا خوف جاگ اٹھا، مگر اس کے ساتھ ہی نانی کی آواز بھی: ’’اب۔‘‘
آئرین نے بغیر سوچے، چاندی کے دھاگے کو مضبوطی سے تھام لیا۔ دھاگا اس کی انگلیوں کے بیچ ہلکا سا گرم ہو گیا، جیسے زندہ ہو، جیسے اسے پہچانتا ہو۔ وہ محل کے راہداریوں سے گزری، سیڑھیاں اتری، اور ایک ایسے دروازے تک پہنچی جو عام آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتا تھا، کیونکہ وہ یقین سے کھلتا تھا، چابی سے نہیں۔ دروازہ خود بخود کھل گیا۔ سامنے اندھیرا تھا، گہرا، بھاری، سانس روکے رکھنے والا۔ اسی وقت کرڈی بھی پہنچ گیا کیونکہ اس نے خطرے کو پہچان لیا تھا۔ اس کے چہرے پر خوف نہیں تھا، صرف عزم۔’’میں ساتھ آؤں گا،‘‘ اس نے کہا۔ ’’یہ پہاڑ میرا دشمن ہے، مگر میں اسے جانتا ہوں، اور جو جانتا ہو، وہ ڈرتا کم ہے۔‘‘ وہ دونوں نیچے اترنے لگے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: برف کی ملکہ

زمین کے اندر ہوا نم تھی۔ دیواروں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ کہیں کہیں گوبلنوں کی آوازیں گونجتی تھیں، ہنسی، سرگوشی، نفرت۔ آئرین نے آنکھیں بند کر لیں اور دھاگے کو پکڑے رکھا کیونکہ اسے یاد تھا کہ دیکھنے سے زیادہ یقین ضروری ہے۔ ’’یہ ہمیں لے جا رہا ہے،‘‘ وہ آہستہ بولی، ’’جہاں جانا ضروری ہے، نہ کہ جہاں آسان ہو۔‘‘
ایک موڑ پر وہ گوبلنوں کے قریب پہنچ گئے۔ وہاں گوبلن ناچ رہے تھے، اپنی فتح کا جشن منا رہے تھے، اس یقین میں کہ سب ختم ہو چکا ہے۔ کرڈی نے دیکھا کہ ان کے پاؤں عجیب تھے، بے ڈھب، کمزور، جیسے زمین ان کی دشمن ہو۔ اسے یاد آیا: گوبلن ٹھوکروں سے گرتے ہیں کیونکہ وہ سیدھا چلنا بھول چکے ہوتے ہیں۔ جب گوبلنوں نے انہیں دیکھ لیا، تو چیخیں گونج اٹھیں۔ ’’انسان! روشنی!‘‘
گوبلن دوڑے، مگر ان کے قدم لڑکھڑا گئے۔ ایک دوسرے سے ٹکرائے، گرے، چیخے۔ اسی بھگدڑ میں، ایک گوبلن نے غلطی سے سرنگ کی دیوار توڑ دی، جو پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی۔ پانی کا ریلا اندر گھس آیا۔ پہاڑ کراہنے لگا، جیسے خود فیصلہ کر رہا ہو۔
’’اب وقت کم ہے!‘‘ کرڈی چیخا۔ آئرین نے دھاگے کو چھوڑا نہیں۔ وہ انہیں ایک تنگ راستے کی طرف لے گیا، اوپر کی طرف، کیونکہ راستہ ہمیشہ اوپر ہی جاتا ہے۔ پیچھے شور تھا، پانی تھا، اور اندھیرا تھا۔ آگے، ایک ہلکی سی روشنی، جو امید کی طرح لگ رہی تھی۔ وہ آخری سیڑھی چڑھے، اور ایک جھٹکے سے باہر آگئے۔ اگلے ہی لمحے، زمین بیٹھ گئی۔ سرنگیں ٹوٹ گئیں، گوبلنوں کی دنیا اپنے ہی اندھیرے میں دفن ہو گئی۔ محل بچ گیا، جیسے کسی نے اسے تھام لیا ہو۔
آسمان پر صبح کا پہلا رنگ پھیل رہا تھا۔ آئرین تھک کر بیٹھ گئی۔ کرڈی خاموش کھڑا تھا۔ ’’ہم بچ گئے،‘‘ اس نے آہستہ کہا، جیسے یقین کر رہا ہو۔
آئرین نے دھاگے کو دیکھا، وہ اب غائب تھا۔ مگر اس کے دل میں یقین باقی تھا۔ جب پہاڑ کا سینہ بیٹھ گیا اور زمین نے گوبلنوں کے اندھیرے کو ہمیشہ کیلئے اپنے اندر دفن کر لیا، تو فضا میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی، جیسے خطرہ مر تو گیا ہو، مگر اس کی گونج ابھی باقی ہو۔ صبح کی روشنی آہستہ آہستہ محل کی دیواروں پر پھیلنے لگی۔ پہاڑ اب ویسے ہی خاموش کھڑے تھے جیسے ہمیشہ سے تھے، مگر ان کی خاموشی میں اب دشمنی نہ تھی۔ محل کے لوگ جمع ہو گئے۔ سب نے دیکھا کہ شہزادی محفوظ ہے، اور اس کے ساتھ وہ کان کن لڑکا بھی، گرد آلود، تھکا ہوا، مگر سیدھی نگاہوں کے ساتھ۔ بادشاہ جب واپس لوٹا اور ساری بات سنی، تو اس نے کرڈی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: ’’تم نے صرف محل نہیں بچایا، تم نے لوگوں کا یقین بچایا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ہینسل اور گریٹل

کرڈی نے سر جھکا لیا۔ ’’میں نے وہی کیا جو درست تھا۔‘‘ اسی دن، آئرین ایک بار پھر محل کی سیڑھیاں چڑھی، اوپر، بہت اوپر، اس کمرے تک، جہاں وہ پہلی بار نانی سے ملی تھی۔ دروازہ کھلا۔ بوڑھی عورت وہیں بیٹھی تھی، مگر اب اس کی شکل پر ایک عجب سی روشنی تھی، جیسے وہ دھیرے دھیرے اس دنیا سے ہٹ رہی ہو۔
 ’’نانی،‘‘ آئرین نے کہا، ’’سب ختم ہو گیا ہے۔‘‘
بوڑھی عورت مسکرائی۔ ’’نہیں، بیٹی۔ سب پورا ہوا ہے۔‘‘ آئرین نے پوچھا: ’’وہ دھاگا، وہ کہاں گیا؟‘‘
نانی نے جواب دیا: ’’وہ دھاگا کبھی تمہاری انگلی میں نہیں تھا۔ وہ تمہارے دل میں تھا۔ جب انسان سچ پر چلنا سیکھ لیتا ہے، تو نشان مٹ جاتے ہیں، مگر راستہ باقی رہتا ہے۔‘‘ آئرین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ’’کیا میں آپ کو پھر دیکھ سکوں گی؟‘‘
بوڑھی عورت نے آہستہ سے اس کے ماتھے کو چھوا۔ ’’جب بھی تم اندھیرے میں خوف کے بجائے یقین کو چنو گی، میں وہیں ہوں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ روشنی میں گھل گئی۔ کمرہ خالی تھا، مگر سرد نہیں۔ وقت گزرتا گیا۔ آئرین بڑی ہوئی، عقلمند، نرم دل، مگر مضبوط۔ کرڈی بھی بڑا ہوا، اب وہ صرف کان کن نہ تھا، بلکہ پہاڑوں کو سمجھنے والا انسان تھا۔ وہ دونوں اکثر پہاڑوں کی طرف دیکھتے، جہاں کبھی اندھیرا پلتا تھا، مگر اب صرف خاموشی تھی۔ اور لوگ کہتے تھے: ’’یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک بچی نے دھاگے پر نہیں، یقین پر چل کر ایک پوری دنیا کو بچایا تھا۔‘‘ کیونکہ سچی روشنی چراغ سے نہیں دل سے جنم لیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK