کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں بدعنوانی اور رشوت خوری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 11:20 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں بدعنوانی اور رشوت خوری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں بدعنوانی اور رشوت خوری کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں اینٹی کرپشن بیورو ( اے سی بی) نے میونسپل کارپوریشن کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں تعینات ایک کلرک کو ۴۰؍ ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق سائی انگلش اسکول کو محکمہ فائر بریگیڈ کی جانب سے این او سی درکار تھی۔میونسپل کارپوریشن کے کلرک بھارت پاٹولے نے اس سرکاری دستاویز کو فراہم کرنے کے عوض اسکول انتظامیہ سے ۴۰ ؍ہزار روپے بطور رشوت طلب کئے۔ اسکول کے ذمہ داران نے رشوت دینے کے بجائے تھانے کے اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کیا اور باقاعدہ شکایت درج کروائی۔شکایت کی تصدیق کے بعد اے سی بی کے حکام نے جال بچھایا اور طے شدہ منصوبے کے تحت بھارت پاٹولے نے اسکول کے نمائندے کو رقم کے لین دین کے لئے کھڑک پاڑہ میں بلایا۔ جیسے ہی کلرک نے رشوت کی رقم وصول کی، پہلے سے گھات لگائے بیورو کے دستے نے اسے دبوچ لیا۔ ملزم کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کر کے اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ودھان پریشد کا ٹکٹ نہ ملنے پر امول مٹکری ناراض
واضح رہے کہ کے ڈی ایم سی طویل عرصے سے بدعنوانی کے لئے بدنام رہی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اب تک یہاں کے ۴۸؍افسران اور ملازمین رشوت خوری کے جرم میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ گرفتاری اور معطلی کے باوجود ایسے ملازمین کچھ عرصے بعد بحال ہو جاتے ہیں اور انتظامیہ کے اہم عہدوں پر فائز ہو کر دوبارہ بدعنوانی کی راہ ہموار کر لیتے ہیں۔ مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ کارپوریشن کے وقار کو بحال کیا جا سکے۔