قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال پر عوامی غم و غصہ، انسانی زنجیر بنانے کا فیصلہ،خشک سالی جیسے خدشات۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 11:13 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال پر عوامی غم و غصہ، انسانی زنجیر بنانے کا فیصلہ،خشک سالی جیسے خدشات۔
شاہ پور تعلقہ اس وقت شدید ماحولیاتی بحران کی زد میں ہے جہاں بڑھتی ہوئی گرمی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ درجۂ حرارت۴۶؍ ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کی اطلاعات نے علاقے میں تشویش اور بے چینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ برسوں سے جاری غیر متوازن ترقیاتی پالیسیوں اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استحصال کا نتیجہ ہے۔مقامی افراد کے مطابق ممبئی آگرہ شاہراہ اور مہاراشٹر سمردھی ایکسپریس وے سمیت متعدد بڑے منصوبوں کے دوران وسیع پیمانے پر درختوں کی کٹائی اور پہاڑوں کی توڑ پھوڑ کی گئی جس سے قدرتی توازن درہم برہم ہو گیا۔ ان منصوبوں کے لئے ہزاروں سرسبز درخت قربان کئے گئے مگر متبادل شجرکاری کے وعدے کاغذوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں جس پر عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پائیدھونی اموات کیس میں ’پین کلر‘ کے استعمال کا بھی شبہ
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ زیرِ زمین پانی کے حد سے زیادہ استعمال نے بھی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث نہ صرف درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوا بلکہ علاقہ خشک سالی جیسے خدشات سے بھی دوچار ہو رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب شاہ پور اپنے خوشگوار موسم کے لئے جانا جاتا تھا مگر آج یہی علاقہ جھلسا دینے والی گرمی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔
ان حالات کے خلاف اب عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ شاہ پور کے شہری، طلبہ، نوجوان اور ماحول دوست افراد نے متحد ہو کر ایک بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرانے کے لئے ایک وسیع انسانی زنجیر (ہیومن چین) بنانے کا اعلان کیا گیا ہے جسے علاقے کی تاریخ کا ایک اہم عوامی احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ودھان پریشد کا ٹکٹ نہ ملنے پر امول مٹکری ناراض
اس سلسلے میں ابتدائی مشورہ کے لئے سنیچر۲؍ مئی کی شب شاہ پور کے ویشیہ سماج ہال میں ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جہاں احتجاج کی حکمتِ عملی، تاریخ اور مقام کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ساتھ ہی اس تحریک کو ریاستی سطح پر مؤثر بنانے کے لیے بھی لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا۔منتظمین نے واضح کیا ہے کہ یہ محض ایک احتجاج نہیں بلکہ شاہ پور کے مستقبل، اس کی فضا اور آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔ انہوں نے تمام طبقات، طلبہ، اساتذہ، ڈاکٹرز، تاجر، کسان، وکلاء، صحافی اور سماجی و سیاسی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ماحولیات کے تحفظ کے لئے متحد ہوکر آواز بلند کریں۔