Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی یومِ ماحولیات: جانئے ۱۸؍ اہم ماحولیاتی اصطلاحات کا مفہوم

Updated: June 05, 2026, 5:00 PM IST | Afzal Usmani | Mumbai

ماحولیاتی سائنس کا شعبہ تیزرفتار ترقی کررہا ہے، کئی اصطلاح پہلے کے مقابلے میں زیادہ رائج ہوئی ہیں۔ ایسے میں آپ کیلئے ان کا معنی و مفہوم جاننا ضروری ہے خواہ آپ کو علم ِ ماحولیات سے دلچسپی ہو یا نہ ہو۔

World Environment Day makes us realize that protecting natural resources and maintaining ecological balance is a shared responsibility of all of us. Photo: INN
عالمی یوم ماحولیات ہمیں احساس دلاتا ہے کہ قدرتی وسائل کی حفاظت اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تصویر: آئی این این

۵؍ جون کو پوری دنیا میں ’عالمی یومِ ماحولیات‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں میں ماحول کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ یہ دن۵؍ جون ۱۹۷۲ء کو اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام شروع کیا گیا تھا۔ آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل انسانی زندگی کیلئے خطرہ بن چکے ہیں۔ عالمی یومِ ماحولیات ہمیں اپنے ماحول کو صاف، سرسبز اور محفوظ رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں شجرکاری، صفائی مہمات اور آگاہی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ 
بحیثیت طالب علم آپ کیلئے جاننا بہتر ہے کہ ماحولیات سے متعلق وہ کون سی اصطلاحات ہیں جو مشہور اور مستعمل ہیں۔ زیر نظر کالموں میں ایسی ہی ۱۸؍ اصطلاحات پیش کی گئی ہیں جو آپ کے ماحولیاتی علم میں اضافے کا سبب بنیں گی۔ 

یہ بھی پڑھئے: طلبہ کیلئے گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے پانچ پیغامات

El Nino
(۱) ال نینو
بحرالکاہل کے پانی کے غیر معمولی گرم ہونے کے عمل کو ایل نینو کہتے ہیں۔ یہ دنیا میں بارش، طوفانوں، قحط اور درجۂ حرارت کو متاثر کر سکتا ہے۔ 
’ایل نینو‘ بارش، درجۂ حرارت اور زرعی پیداوار کو متاثر کرتا ہے۔ ایل نینو کے اثرات میں بعض علاقوں میں خشک سالی، شدید گرمی اور بعض مقامات پر غیر معمولی بارش شامل ہیں۔ اس کے باعث ماحولیاتی نظام، آبی وسائل اور انسانی زندگی بھی نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے۔

La Nina
(۲) لا نینا
 جب بحرالکاہل کا پانی معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہوجائے تو لا نینا کہلاتا ہے۔ یہ بھی عالمی موسمی نظام پر اثر انداز ہوکر بارش کے پیٹرن کو بدل سکتا ہے۔ 
’لا نینا ‘بارش میں اضافہ اور بعض علاقوں میں شدید بارش کا سبب بنتا ہے۔ لا نینا کی وجہ سے کچھ خطوں میں سردی کی شدت بڑھ جاتی ہے جبکہ دیگر علاقوں میں خشک موسم رہ سکتا ہے۔ اس کے اثرات زراعت، معیشت اور ماحولیاتی نظام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

 Greenhouse Gases
(۳) گرین ہاؤس گیسیں 
کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین جیسی گیسیں گرین ہاؤس گیسیں کہلاتی ہیں۔ یہ زمین کی حرارت کو فضا میں روک کر عالمی حدت کو تیز کرتی ہیں۔ 
ان کی بڑھتی ہوئی مقدار گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے۔ ان گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کے باعث گلیشیرز پگھل رہے ہیں، سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور شدید موسمی حالات (جیسے سیلاب اور خشک سالی) کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: وہ ۲۴؍ شخصیات جو اے آئی کی دنیا کو تشکیل دے رہی ہیں

Greenhouse Effect
(۴) گرین ہاؤس اِفیکٹ
زمین کے گرد موجود گیسیں سورج کی حرارت کو اپنے اندر روک لیتی ہیں۔ اس میں اضافہ زمین کو غیر معمولی طور پر گرم کر دیتا ہے۔ 
اس عمل میں سورج کی شعاعیں زمین کی سطح کو گرم کرتی ہیں اور پھر کچھ حرارت واپس فضا میں چلی جاتی ہے۔ گرین ہاؤس گیسیں اس حرارت کو فضا میں پھنسائے رکھتی ہیں جس سے درجۂ حرارت متوازن رہتا ہے۔ یہ گیسیں ایک کمبل کی طرح کام کرتی ہیں۔

Carbon Footprint
(۵) کاربن فوٹ پرنٹ
روزمرہ انسانی سرگرمیوں سے فضا میں جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گیسیں خارج ہوتی ہیں انہیں مجموعی طور پر کاربن فوٹ پرنٹ کہتے ہیں۔ 
کاربن فوٹ پرنٹ کے اثرات ماحول پر بہت گہرے ہوتے ہیں، جن میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمی تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہ گیسوں کے اخراج سے فضائی آلودگی بڑھتی ہے جس سے انسانوں میں سانس اور دل کی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

Acid Rain
(۶) تیزابی بارش
جب فضائی آلودگی میں موجود کیمیائی مادے بارش کے پانی میں شامل ہو جائیں تو تیزابی بارش بنتی ہے۔ یہ درختوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ 
یہ بارش زمین، فصلوں اور جنگلات کو نقصان پہنچاتی ہے اور مٹی کی زرخیزی کم کر دیتی ہے۔ اس کے اثر سے جھیلیں اور دریا تیزابی ہو جاتے ہیں جس سے آبی حیات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ عمارتیں، دھاتیں اور تاریخی ورثہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آپ مشین کو سکھائیں گے کہ وہ ڈیٹا سے کیسے سیکھے اور فیصلے کرے!

Climate Change
(۷) ماحولیاتی تبدیلی
موسموں میں طویل مدتی تبدیلیوں کو ماحولیاتی تبدیلی کہتے ہیں جس کے نتیجے میں شدید گرمی، غیر معمولی بارش، قحط وغیرہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ 
فیکٹریوں، گاڑیوں اور جنگلات کی کٹائی سے گرین ہاؤس گیسیں بڑھتی ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں برف پگھلنے، سمندری سطح بلند ہونے اور شدید موسم کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں انسانی زندگی کیلئے سنگین خطرہ پیدا کرتی ہیں۔

Global Warming
(۸)عالمی حدت
جب زمین کا اوسط درجۂ حرارت مسلسل بڑھنے لگے تو عالمی حدت کہلاتا ہے۔ گاڑیوں اور کارخانوں سے نکلنے والی گیسیں اس مسئلے کو سنگین بناتی ہیں۔ 
اس کی بنیادی وجہ گرین ہاؤس گیسوں کا فضا میں زیادہ مقدار میں جمع ہونا ہے۔ یہ عمل برفانی خطوں کے پگھلنے، سطح آب کے بلند ہونے اور موسمی تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو خوراک کی کمی، صحت کے مسائل اور قدرتی آفات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

Green Accounting
(۹) ماحولیاتی حساب کتاب
وہ معاشی نظام جس میں ماحول پر پڑنے والے اثرات کا حساب رکھا جائے۔ اس کی مدد سے ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن ممکن ہے۔ 
اس میں قدرتی وسائل جیسے پانی، جنگلات، معدنیات اور توانائی کے استعمال اور ان کے نقصان کو ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ جاننا ہوتا ہے کہ ترقی کے عمل میں ماحول کو کتنا نقصان یا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آسان طریقے سے تھیوری کے ساتھ پریکٹیکل، یہ ہے اس کورس کی خصوصیت

Deforestation
(۱۰)جنگلات کی کٹائی
بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی اور جنگلات کے سکڑنے کا عمل۔ اس سے جانوروں کے گھر تباہ ہوتے ہیں اور بارش کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ 
یہ عمل ماحولیاتی توازن کو بگاڑ دیتا ہے کیونکہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی سے جنگلی حیات کا مسکن بھی ختم ہو جاتا ہے جس سے حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ یہ عالمی حدت کا ایک سبب بھی ہے۔

Afforestation
(۱۱)شجرکاری
ایسی جگہوں پر نئے درخت لگانے کا عمل جہاں پہلے جنگل موجود نہ ہوں۔ یہ آلودگی کم کرنے اور زمین کو سرسبز بنانے کا مؤثر طریقہ ہے۔ 
شجر کاری ماحول کی بہتری کیلئے ضروری عمل ہے۔ درخت زمین کی زرخیزی برقرار رکھتے ہیں اور مٹی کے کٹاؤ کو روک کر قدرتی توازن قائم رکھتے ہیں۔ یہ بارش کے نظام کو بہتر بناتے ہیں جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ شجر کاری ماحول کو صاف ستھرا رکھتی ہے۔

Reforestation
(۱۲) جنگلات دوبارہ لگانا
جہاں جنگلات ختم ہو چکے ہوں وہاں درخت لگا کر جنگل بحال کرنا۔ یہ حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اور موسمی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مددگا ر ہے۔ 
یہ ماحول کی بحالی کا ایک اہم عمل ہے۔یہ عمل کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے اور آکسیجن کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔جنگلات دوبارہ لگانے سے مٹی کی زرخیزی بہتر ہوتی ہے اور قدرتی آفات جیسے سیلاب اور زمین کے کٹاؤ میں کمی آتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چھٹیوں کو بامعنی بنائیں، یہ سرگرمیاں آپ کی صلاحیتیں نکھاریں گی

Edge Effect
(۱۳) سرحدی اثر
کسی ماحولیاتی خطے کی سرحد پر جانداروں کی اقسام زیادہ ہوتی ہیں، یہ ایج افیکٹ ہے جہاں ماحول مل کر نئی حیاتیاتی سرگرمیاں پیدا کرتے ہیں۔
یہ اثر حیاتیاتی تنوع کو بڑھا بھی سکتا ہے اور بعض اوقات حساس انواع کیلئے نقصاندہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ جنگلات کے ٹکڑے ہونے (Fragmentation) سے ایج ایفیکٹ(سرحدی اثر) زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے اور ماحولیاتی توازن متاثر ہوتا ہے۔

Albedo Effect
(۱۴) روشنی منعکس کرنے کا اثر
کسی سطح کی سورج کی روشنی منعکس کرنے کی صلاحیت کو البیڈو کہتے ہیں۔ برف زیادہ روشنی واپس بھیجتی ہے اور سڑکیں زیادہ حرارت جذب کرتی ہیں۔
اگر کسی علاقے میں برف، برفانی چادر یا سفید سطحیں زیادہ ہوں تو وہ زیادہ روشنی واپس بھیجتی ہیں جس سے زمین نسبتاً ٹھنڈی رہتی ہےلیکن جب گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برف پگھلتی ہے تو اس کی جگہ سیاہ زمین یا پانی آ جاتا ہے جو زیادہ حرارت جذب کرتا ہے۔

Blue Economy
(۱۵) نیلی معیشت
سمندر، ساحل اور آبی وسائل سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کو نیلی معیشت کہتے ہیں، مثلاً ماہی گیری، بحری سیاحت اور آبی توانائی، وغیرہ۔
اس کا مقصد آبی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماحول کو محفوظ رکھنا اور آلودگی کو کم کرنا ہے۔ نیلی معیشت  پائیدار ترقی کو فروغ دیتی ہے اور ساحلی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔اس میں ساحلی سیاحت اور سمندری توانائی جیسے شعبے شامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایس ایس سی طلبہ؛ چند ایسے کورسیز جن کی مانگ ۵؍ سال بعد بھی ہوگی

Ecotone
(۱۶) مربوط علاقہ
دو مختلف ماحولیاتی خطوں کے درمیان موجود وہ علاقہ جہاں دونوں کی خصوصیات ملتی ہوں۔ یہ علاقے پودوں اور جانداروں کی موجودگی کیلئے مشہور ہیں۔
اس علاقے میں دونوں ایکو سسٹمز کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جیسے جنگل اور گھاس کے میدان کے درمیان کا علاقہ۔ایکوٹون میں عام طور پر حیاتیاتی تنوع زیادہ ہوتا ہے ۔یہ علاقے ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور انواع کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Keystone Species
(۱۷) کلیدی نوع
جو جانور یا پودے اپنے ماحول میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیںکلیدی نوع کہلاتے ہیں۔ اگر یہ ختم ہو جائیں تو پورا ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ انواع اپنے ماحول میں موجود دیگر جانداروں کی آبادی اور خوراک کے سلسلے کو کنٹرول کرتی ہیں۔مثال کے طور پر سمندری اوٹر اور بھیڑیے ایسے جاندار ہیں جو اپنے ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماحول میں ایسی انواع کا ہونا ضروری ہے۔

Eco-friendly
(۱۸) ماحول دوست
ایسی اشیا یا طریقے جو ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچائیں، ماحول دوست کہلاتے ہیں، مثلاً کپڑے کے تھیلے، اور قابلِ تجدید توانائی، وغیرہ۔
یہ طرزِ عمل قدرتی وسائل کا کم استعمال کرتا ہے اور آلودگی کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ماحول دوست رویہ اپنانے سے زمین کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔اس سے نہ صرف انسانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ آئندہ نسلوںکیلئے ایک محفوظ ماحول بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK