Inquilab Logo Happiest Places to Work

انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کی بیٹی ویوین نے ’پٹ‘ ہٹانے کیلئے اخباری اشتہار دیا

Updated: August 22, 2026, 8:03 PM IST | Los Angeles

ہالی ووڈ اداکار بریڈ پٹ اور انجلینا جولی کی ۱۸؍ سالہ بیٹی ویوین مارشلین جولی پٹ نے اپنے نام سے والد کا خاندانی نام ’’پٹ‘‘ ہٹانے کی قانونی کارروائی میں اہم مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔ ویوین نے نام کی تبدیلی کا عدالتی نوٹس لاس اینجلس کے ایک اخبار میں مسلسل چار ہفتوں تک شائع کرایا ہے، جبکہ عدالت میں درخواست کی حتمی سماعت ۲؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو مقرر ہے۔ اگر درخواست منظور ہوگئی تو وہ قانونی طور پر ’’ویوین مارشلین جولی‘‘ بن جائیں گی۔

Vivienne Jolie with her mother Angelina Jolie. Photo: X
ویوین جولی اپنی والدہ انجلینا جولی کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

ہالی ووڈ اداکار بریڈ پٹ اور اداکارہ انجلینا جولی کی ۱۸؍ سالہ بیٹی ویوین مارشلین جولی پٹ نے اپنے نام سے والد کا خاندانی نام ’’پٹ‘‘ ہٹانے کیلئے قانونی کارروائی کا اہم مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔ ویوین نے کیلیفورنیا کے قانون کے تحت اپنے نام کی تبدیلی کی درخواست کا نوٹس لاس اینجلس ڈیلی جرنل میں مسلسل چار ہفتوں تک شائع کرایا، جس کے بعد وہ قانونی طور پر ویوین مارشلین جولی بننے کی ایک قدم مزید قریب پہنچ گئی ہیں۔

ویوین نے کیا قانونی قدم اٹھایا؟

رپورٹس کے مطابق ویوین نے جولائی ۲۰۲۶ء میں لاس اینجلس کاؤنٹی سپیریئر کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ عدالت سے ان کا موجودہ قانونی نام Vivienne Marcheline Jolie-Pitt تبدیل کرکے Vivienne Marcheline Jolie کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ عدالتی دستاویزات میں نام تبدیل کرنے کی وجہ صرف ’’ذاتی‘‘ (Personal) درج کی گئی ہے۔ ویوین نے اپنی درخواست ۱۲؍ جولائی، یعنی اپنی ۱۸؍ ویں سالگرہ کے دن دائر کی تھی۔ کیلیفورنیا میں قانونی نام تبدیل کرنے کیلئے عام طور پر درخواست کا عوامی نوٹس منظور شدہ اخبار میں مسلسل چار ہفتوں تک شائع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ویوین نے یہ مرحلہ ۲۴؍ جولائی سے ۱۴؍ اگست ۲۰۲۶ء کے درمیان مکمل کیا۔ اگر کوئی شخص نام کی تبدیلی پر اعتراض کرنا چاہتا ہے تو اسے مقررہ عدالتی کارروائی سے قبل تحریری اعتراض جمع کرانا ہوگا۔ ویوین کے نام کی تبدیلی کی درخواست پر حتمی سماعت ۲؍ نومبر ۲۰۲۶ء کو مقرر ہے۔ اگر کوئی مؤثر اعتراض سامنے نہ آیا تو جج درخواست منظور کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پینٹل ’ہیرو‘ نہیں تھے لیکن ان کے کردار اہم ہوتے تھے

ویوین پہلے ہی ’’جولی‘‘ نام استعمال کررہی تھیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویوین نے قانونی درخواست دائر کرنے سے پہلے ہی عوامی سطح پر ’’جولی‘‘ نام استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ ۲۰۲۴ء میں براڈوے میوزیکل ’دی آؤٹ سائیڈرز‘ کے پلے بل میں ان کا نام Vivienne Jolie درج کیا گیا تھا۔ اس پروجیکٹ میں وہ اپنی والدہ انجلینا جولی کے ساتھ شامل تھیں۔ ویوین نے اپنی والدہ کے ساتھ اس براڈوے پروجیکٹ میں بطور پروڈیوسر بھی کام کیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’’جولی‘‘ نام کا استعمال قانونی درخواست سے پہلے ہی شروع ہوچکا تھا۔

بہن بھائی بھی ’’پٹ‘‘ نام چھوڑنے کی راہ پر

ویوین اپنے والد کا خاندانی نام چھوڑنے والی بریڈ پٹ اور انجلینا جولی کی پہلی اولاد نہیں ہیں۔ ان کی بڑی بہن شیلو جولی نے ۲۰۲۴ء میں ۱۸؍ سال کی عمر میں ’’پٹ‘‘ نام ہٹانے کی درخواست دی تھی، جسے عدالت نے اسی سال منظور کرلیا تھا۔ اس کے بعد مَیڈوکس اور زہارا نے بھی قانونی طور پر ’’پٹ‘‘ نام ہٹانے کیلئے کارروائی شروع کی۔ زہارا نے حال ہی میں اپنے نام سے ’’پٹ‘‘ ہٹانے کیلئے ضروری اخباری نوٹس بھی شائع کرایا، جبکہ دونوں کی درخواستوں پر ستمبر میں سماعت مقرر ہے۔ زہارا نے اس سے قبل بھی عوامی طور پر Zahara Marley Jolie نام استعمال کیا ہے، جبکہ مَیڈوکس بھی بعض پیشہ ورانہ مواقع پر ’’جولی‘‘ نام کے ساتھ نظر آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کُبریٰ سیٹھ نے ’’فرضی ۲‘‘کی شوٹنگ شروع کی، سائرہ کے کردار میں نظرآئیں گی

بریڈ پٹ اور بچوں کے درمیان تعلقات کا معاملہ

ویوین کی نام کی تبدیلی کی کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بریڈ پٹ اور ان کے بچوں کے درمیان تعلقات سے متعلق مسلسل میڈیا رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ بریڈ پٹ اور انجلینا جولی ۲۰۱۶ء میں الگ ہوئے تھے اور ان کی طویل قانونی جنگ کے بعد ۲۰۲۴ء میں حتمی طلاق ہوئی۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ ویوین نے اپنی عدالتی درخواست میں نام تبدیل کرنے کی کوئی مخصوص وجہ بیان نہیں کی، بلکہ صرف ’’ذاتی‘‘ وجہ لکھی ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ نام کی تبدیلی کی وجہ لازماً والدین کے درمیان تنازع یا والد کے ساتھ تعلقات ہیں، ایک قیاس ہوگا۔ دوسری جانب بریڈ پٹ کے قریبی ذرائع نے ماضی میں بچوں کی جانب سے ’’پٹ‘‘ نام ترک کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم والدین میں سے کسی نے ویوین کی موجودہ درخواست کی مکمل تفصیل کے حوالے سے کوئی جامع عوامی بیان نہیں دیا ہے۔

’’پٹ‘‘ نام چھوڑنے کا رجحان کیوں اہم ہے؟

ویوین کی درخواست اس لئے بھی خاص توجہ حاصل کررہی ہے کہ وہ اس سابق ہالی ووڈ جوڑے کی چوتھی اولاد ہیں جنہوں نے قانونی یا عوامی سطح پر ’’پٹ‘‘ نام سے دوری اختیار کی ہے۔ شیلو نے قانونی طور پر نام تبدیل کرلیا، جبکہ مَیڈوکس، زہارا اور اب ویوین نے بھی قانونی عمل شروع کیا ہے۔ اس طرح خاندان کے بچوں کی جانب سے ’’پٹ‘‘ کے بجائے ’’جولی‘‘ نام استعمال کرنے کا رجحان ایک مرتبہ پھر بریڈ پٹ اور انجلینا جولی کے طویل اور انتہائی زیرِبحث خاندانی تنازع کو عالمی میڈیا کی توجہ میں لے آیا ہے۔ فی الحال ویوین قانونی طور پر ’’ویوین مارشلین جولی‘‘ نہیں بنی ہیں؛ حتمی فیصلہ ۲؍ نومبر کی عدالتی سماعت کے بعد ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK